کینیڈا میں مسلم خاندان کا قتل ،،، اسلامو فوبیا کا نتیجہ ؟ – Kashmir Link London

کینیڈا میں مسلم خاندان کا قتل ،،، اسلامو فوبیا کا نتیجہ ؟

کینیڈا میں مسلمان خاندان کے چار افراد کو ارادتاً گاڑی تلے روند کر قتل کردینا جہاں انتہائی لرزہ خیز، دلدوز اور الم ناک ہے وہاں یہ خطرے کی گھنٹی بھی ہے جس نے اسلاموفوبیا کی بحث کو زندہ کردیا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان عالی شان ہے کہ انسان جس کو سمجھ نہیں پاتا اس کا دشمن ہوجاتا ہے۔ مسلمان کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل کرنے والوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں۔ سمجھ لیتے تو اس کے گن گاتے۔ پھول نچھاور کرتے، شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پیتے دیکھتے۔ نائن الیون کا واقعی ہو۔ فرانس میں دہشت گردی ہو، لندن نہیں کسی پہ چاقو چلے،کسی جگہ بم دھماکہ ہو تو یہ اقوام عالم کا یہ فیشن بن چکا ہے کہ اس کا الزام مسلمانوں پر دھر دیں۔ الزام لگنے سے مسلمان زیر عتاب آتے ہیں خواہ بعد کی تحقیقات میں مجرم کوئی اور سامنے آجائیں۔ کینیڈا کے واقعے نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں ہونے والے نمازیوں کے قتل عام کے زخم تازہ کردئے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کو اگرچہ دو دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن صحیح معنوں میں مغربی معاشروں میں اسلاموفوبیا ’اب عروج پر ہے۔ کینیڈا کے واقعے نے پورے عالم اسلام کو دکھی کردیا ہے۔اس 9 برس کے بچے کی ذہنی کیفیت اور کرب کا کوئی اندازہ کرسکتا ہے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے پورے خاندان کو روند کر موت کے مونہہ میں دھکیل دیا گیا۔ یہ بچہ شدید زخمی ہسپتال داخل ہے، بچ بھی گیا تو ساری عمر مر مر کے جئے گا اور ماتم کرتا نظر آئے گا کہ میرے پر امن اہل خانہ کا کیا قصور تھا کہ انہیں نفرت انگیز طریقے سے قتل کردیا گیا۔
کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں شام کا وقت تھا ۔ لوگ کاموں سے فارغ ہوکر چہل قدمی کررہے تھے
۔پاکستان سے خاندان بھی انہیں لوگوں میں شامل خراماں خراماں فراغت اور موسم کا مزہ لے رہا تھا کہ 20 سال کے مقامی نوجوان نے نفرت کی آگ میں جل کر اپنے گاڑی اس خاندان پر چڑھادی اورچار افراد کو گاڑی تلے روند کر ہلاک کردیا۔ مرنے والوں میں 46 سالہ فزیوتھریپسٹ سلمان افضل، ان کی اہلیہ اور پی ایچ ڈی کی طالبہ 44 سالہ مدیحہ سلمان، نویں جماعت کی طالبہ 15 سالہ یمنیٰ سلمان اور اُن کی 74 سالہ ضعیف دادی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی خاندان کے نو سالہ فائز سلمان زیرِعلاج ہیں مگر ان کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔

خود کو ترقی یافتہ قوم کہنے والے اس بچے کی نظروں میں تحت الثریٰ میں اتر چکے۔ پوری امت مسلمہ کو دلگیر کرنے والا یہ سانحہ ایک مائنڈ سیٹ کا غماز ہے جس پر دنیا کو بحث کرنی ہوگی۔کینیڈا کے وزیِراعظم جسٹن ٹروڈو کا یہ کہنا کافی نہیں کہ ’کینیڈا میں اسلاموفوبیا کی کوئی جگہ نہیں‘ ۔ اس واقعے نے پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بسنے والے مسلمانوں میں ایک بار پھر یہ احساس تازہ کر دیا ہے کہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ مخلوط معاشروں میں بسنے والا ہر مسلمان ایک ان جانے خوف میں مبتلا ہوگیا ہے کہ ناجانے کب ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کوئی واقعہ پیش آ جائے وہیں کئی افراد سوال کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلمانوں کے ساتھ اس نفرت اور تعصب کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟ اس عمل کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ ایک دہشتگردی کا واقعہ اور کینیڈین معاشرے کا امتحان ہے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے اس واقعے کے بعد ٹویٹ کیا کہ ’دہشت گردی کا یہ قابل مذمت اقدام مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔اور یہ کہ بین الاقوامی برادری کو مل کر اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
عام فہم زبان میں ’اسلاموفوبیا‘ کا مطلب مذہبِ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف اُن کے عقائد کی بنیاد پر نفرت، تعصب یا خوفزدہ کرنے کا رویہ برتنا ہے۔ لندن سے مسلم کونسل کے ترجمان مقداد وارسی نے ٹویٹ کیا کہ ’اسلاموفوبیا ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے اُس کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے نہیں نمٹا جاتا۔‘ انھوں نے مزید لکھا ایسے واقعات کی گونج مسلم دنیا میں سنائی دیتی ہے اور یہ واٹس گروپس اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں پریشان رہتے ہیں کہ شاید ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو جائے۔
کینیڈا میں انسانی حقوق کی کارکن اور اخبار ٹورنٹو سٹار کی کالم نگار امیرا ایلغاوابی نے افضال فیملی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ شیئر کیا۔ اس اعلامیے میں لکھا ہے: جو لوگ سلمان، مدیحہ اور ان کے خاندان کو جانتے تھے انھیں معلوم ہے کہ وہ بطور فیملی مثالی مسلمان، کینیڈین اور پاکستانی تھے۔وہ اپنی شعبوں میں بھرپور محنت کر رہے تھے اور ترقی کر رہے تھے۔ ان کے بچے اپنے سکولوں میں بہترین طلبا میں سے تھے اور وہ اپنی روحانی شناخت سے مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے۔ اللہ سلمان، مدیحہ، یمنیٰ اور بچوں کی دادی کو شہید کا درجہ عطا کرے اور جو بچی اِس وقت ہسپتال میں داخل ہے اسے صحتیاب کرے۔‘اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس واقعے میں ایک پوری فیملی کی تباہی کے خلاف ہمیں کھڑا ہونا ہو گا۔ ہمیں نفرت اور اسلاموفوبیا کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا اور اپنی کمیونٹی اور سیاسی حلقوں میں اس بارے میں آگاہی پیدا کرنی ہو گی۔‘ ’اس نوجوان لڑکے نے جو دہشتگرد عمل کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ایک ایسے گروہ کے ساتھ منسلک تھا جس نے اسے ایسا کرنے کے لیے متاثر کیا اور ہمیں اس کے خلاف بطور کمیونٹی کھڑا ہونا ہو گا۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملہ آور کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف چار قتل اور ایک اقدامِ قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔حملہ آور کا نام نیتھانیئل ویلٹ مین بتایا گیا ہے۔ ڈیٹیکٹیو سپرینٹنڈنٹ پال ویٹ نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ’یہ مانا جا رہا ہے کہ ان افراد کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر نے کہا کہ ’یہ مسلمانوں اور لندن کے شہریوں کے خلاف انجام دیا گیا ایک اجتماعی قتل ہے جس کی جڑ میں بے پناہ نفرت موجود تھی۔‘
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کینیڈا میں پاکستان کے سفارتکار لاہور سے تعلق رکھنے والے خاندان سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ان کو میتیں پاکستان بھجوانے کی پیشکش کی ہے تاہم متاثرہ فیملی نے وہیں تدفین کرنے کے متعلق آگاہ کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے اور وہ کینیڈا میں مقیم مسلمان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مسلم دشمنی کی ایک بڑی واضح اور خوں چکاں داستاں سربیا میں آٹھ ہزار مسلمانوں کا قتل تھا جس کے مرتکب بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ تھے۔اقوام متحدہ کی عدالت نے ملادچ کی اپنی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔اُنھیں سنہ 2017 میں نسل کُشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب پایا گیا تھا۔ عدالت نے اُن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اُن کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔سربرینیکا کا یہ علاقہ اقوامِ متحدہ کی زیرِ حفاظت ہونا تھا مگر اس کے باوجود1995 میں یہاں پر سرب فورسز کی جانب سے مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا۔ یہ دوسری عالمی جنگ سے لے کر اب تک یورپ میں ہونے والا بدترینِ قتلِ عام ہے۔ بوسنیا کے قصائی کہلانے والے راتکو ملادچ کو اسلامی فوبیا کیوں ہوا دنیا کے دانشور اس پر ضرور غور کریں۔
یہاں ذکر کرتے چلیں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں سنہ 2019 میں دو مساجد پر ہونے والے حملے کی انکوائری رپورٹ کا جس میں حملے سے قبل ہونے والی غفلتوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے اس واقعے کو روکنا ناممکن تھا۔ یہ انکوائری مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے کے بعد شروع کی گئی تھی جس میں حملہ آور برینٹن ٹارنٹ نے 51 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ انکوائری کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ حکام اسلحہ لائسنس کی بہتر نگرانی کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث ٹارنٹ اسلحہ اکھٹا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس انکوائری میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ’حکام اسلام پسند دہشتگردی کو ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے تھے۔ یعنی ان نمازیوں کا۔قتل محض ایک مفروضے کو بنیاد بناکر کیا گیا کی اسلام پسندی شاید دہشتگردی کا دوسرا نام ہے۔

واضح رہے کہ سال 2019 میں 15 مارچ کو آسٹریلوی حملہ آور نے النور مسجد میں نمازیوں پر فائرنگ کر دی جسے انھوں نے اپنے سر پر نصب کیمرے کے ذریعے فیس بک پر لائیو براڈ کاسٹ کیا۔ جس کے بعد وہ لنوڈ اسلامک سینٹر گئے جہاں انھوں نے باہر موجود لوگوں پر فائرنگ کی اور پھر کھڑکیوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس افسران نے حملہ آور کا پیچھا کیا اور اسے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد حملہ آور نے پولیس کو بتایا کہ ان کا منصوبہ تھا کہ ’وہ ابتدائی حملے کے بعد مساجد کو جلا دیں گے اور کاش وہ ایسا کر سکتے۔‘
اسلامی کمیونٹی سے بے جا اور بلاجواز نفرت کی ایک اور مثال فرانس میں دیکھی گئی جب ایک جریدے کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے خاکے چھاپنے کے بعد حالات کشیدہ ہوئے۔ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے بیانات نے مسلمانوں کے جذبات کو مزید مجروح کیا جبکہ شہر کے میئر نے اسے ‘اسلامو فاشزم’ قرار دیا۔ فرانس میں مساجد کو بند کیا گیا، پیرس کے نواح میں ایک مسجد کے امام کو گرفتار کیا گیا کیونکہ انھوں نے سوشل میڈیا پر حکومتی اقدامات پر تنقید کی تھی۔ سو سے زیادہ مسلمان گرفتار ہوئے،50 سے زیادہ مسلم تنظیموں کی فنڈنگ کے بارے میں تحقیقات کی گئیں۔ ایک پاکستانی مسجد ہے جس کا نام مسجدِ قبا ہے اس پر 75 ہزار یورو کا جرمانہ عائد کیا گیا کیونکہ اس کے امام غیرقانونی طور پر فرانس میں رہ رہے تھے۔اس ساری صورتحال کی وجہ سے مسلمانوں اور حکومت کے درمیان خلیج بڑھتی گئی اور یہاں مقیم 60 لاکھ مسلمانوں میں عدم تحفظ اور احساسِ بیگانگی میں اضافہ ہوا۔
تازہ واقعے میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کو جنوب مشرقی فرانس کے سرکاری دورے پر ایک شہری کی جانب سے تھپڑ مارا گیا ہے۔ صدر میکخواں ویلانس شہر کے ایک علاقے میں موجود تھے جب ان کی جانب سے شہریوں کو روکنے کے لیے قائم ایک رکاوٹ کے قریب جانے پر یہ واقعہ پیش آیا۔ سبز رنگ کی شرٹ میں ملبوس ایک شہری نے انھیں تھپڑ رسید کیا اور اس کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار میکخواں کو بچانے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ واقعے کے بعد دو شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اللہ کرے یہ مسلمان نہ ہوں۔

50% LikesVS
50% Dislikes