آزاد کشمیر کے الیکشن اور تخت اسلام آباد – Kashmir Link London

آزاد کشمیر کے الیکشن اور تخت اسلام آباد

کشمیر کے الیکشن آئے ہیں تو عمران خان کا وہ ٹویٹ یاد آگیا جو انہوں نے 2016 میں فوج کی نگرانی میں منعقد ہونے والے ریاستی الیکشن میں ن لیگ کی فتح پر کیا۔ عمران خان نے ن لیگ کو فتح کی مبارک دی تھی اور ساتھ یہ کہا تھا کہ کشمیر میں انتخابات وہی پارٹی جیتتی ہے جو تخت اسلام آباد پر براجمان ہوتی یے۔ عمران خان کی بات آج بھی اتنی ہی سچی ہے۔ یہ بھی غلط نہیں کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر میں اپنی حکومت قائم کرنے کیلئے ہر داؤ لگا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے انتخابی مہم بڑے زوردار انداز میں چلائی ہے۔ ن لیگ کی رہنما مریم نواز اپنے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کو ساتھ لئے انتخابی مہم میں اپنے کارکنوں کا لہو گرماتی رہیں لیکن پی ٹی آئی کی منڈیر پر ن لیگ اور دوسری جماعتوں سے پنچھیوں کی آمد بھی دیکھی گئی۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ اسلام آباد میں قابض پارٹی ہر الیکٹ ایبل کے من کو بھاتی ہے۔ الیکشن میں شریک جماعتوں کی قیادت کا کہنا ہے کہ وزارت کشمیر یہ الیکشن چرانے کے چکر میں ہے اور تحریک انصاف کے امیدواروں کی سفارش پر ترقیاتی کام شروع کرائے گئے جو دھاندلی کے مترادف ہے۔ تحریک انصاف کا۔کہنا ہے کہ آزاد جموں کشمیر کیلئے پانچ ارب کے فنڈز اگر کشمیری عوام پر خرچ ہورہے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق کل 724 امیدوار45 انتخابی حلقوں میں الیکشن لڑیں گے۔ فاروق حیدر، سردار یعقوب اور چوہدری یاسین دو دو حلقوں سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے 33حلقوں سے 602 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کریں گے جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں میں 122 امیدوار حصہ لیں گے۔ ن لیگ نے 45 میں سے 44 حلقوں میں امیدوار اتارے۔ وزیر اعظم فاروق حیدرچکار اور لیپہ کے دو انتخابی حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔ پی ٹی آئی کے صدر بیرسٹر سلطان محمود میرپور جبکہ تنویر الیاس باغ سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ پیپلز پارٹی کے صدر لطیف اکبر کھاوڑہ مظفرآباد سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین پی پی پی کے ٹکٹ پر کوٹلی میں دو حلقوں سے آئندہ پانچ سال کے لئے سیاسی قسمت آزمائی کریں گے۔ اسپیکر شاہ غلام قادر نیلم، سینئر وزیر طارق فاروق بھمبر جبکہ امیرجماعت اسلامی عبد الرشید ترابی باغ سے جبکہ سابق صدر و وزیر اعظم سردار یعقوب خان راولاکوٹ کے دو حلقوں سے امیدوار ہیں۔ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم سردار عتیق دھیر کوٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) آزاد جموں وکشمیر کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ کر کے اسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی، اس پارٹی کو”مکا“ انتخابی نشان جاری کر دیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 49 نشستیں تھیں ۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی حکومت نے اسمبلی کی نشستوں میں مزید چار سیٹوں کا اضافہ کیا۔ جس سے اس سال ہونے والے عام انتخابات میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی نشستیں بڑھ کر 53 ہو جائیں گی۔ اسمبلی نشستوں میں یہ اضافہ ضلع نیلم ویلی، ضلع جہلم ویلی ، کوٹلی اور راولاکوٹ میں کیا گیا ہے۔ اس طرح آزاد کشمیر اسمبلی میں آزاد کشمیر کی 29 نشتیں تھیں جو اس سال کے الیکشن میں بڑھ کر 33 ہو جائیں گی، 12 نشستیں مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان اور 8 خصوصی نشستیں ہیں ۔ جن میں سے 8 خواتین، ایک علماء و مشائخ ، ایک اوورسیز جبکہ ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست مختص ہے ۔

45 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں۔ جن نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں ان میں 12 نشستیں پاکستان میں مقیم ان مہاجرینِ جموں کشمیر کے لیے مختص ہیں جو 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ آزاد جموں کشمیر میں مہاجرین کی ان 12 نشستوں پر آزاد کشمیر کا الیکشن کمشن صرف بیلٹ پیپر مہیا کرتا ہے باقی انتظامات مقامی انتظامیہ کرتی ہے اور اسی وجہ سے ان نشستوں کے نتائج عموماً وفاق میں برسر اقتدار پارٹی کے حق میں ہوتے ہیں۔ آزاد جموں کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2021ء میں 32 لاکھ 20 ہزار 546 رائے دہندگان اپنی رائے سے نمائندے منتخب کرسکیں گے۔ ان میں سے پاکستان میں مقیم مہاجرین کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 3 ہزار 456 ہے۔ ریاست کے اندر پاکستان تحریک انصاف کے اس وقت دو نمایاں دھڑے ہیں۔ ایک گروپ کو سابق وزیراعظم آزادکشمیر اور تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر سلطان محمود چوہدری لیڈ کر رہے ہیں دوسرے گروپ کو وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے تجارت سردار تنویر الیاس جن کا تعلق آزادکشمیر کے ضلع پونچھ سے ہے وہ لیڈ کر رہے ہیں۔

آزادکشمیر کے انتخابات میں اس سے قبل ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مقابلہ رہا۔ یہی دونوں پارٹیاں اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں ہیں۔لیکن اب صورت حال اس سے مختلف ہو گئی ہے کیوں کہ کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جاسکتی ہے یہاں اس بات کا ذکر بھی اہم ہے کہ اگر آزاد کشمیر میں انتخابات پارٹیوں کی بنیاد پر لڑے گئے تو کئی حلقوں سے پاکستان تحریک انصاف نشستیں نکالنے میں با آسانی کامیاب ہوجائے گی اور مہاجرین مقیم پاکستان 12 حلقوں کی نشستیں اس میں ہمیشہ کی طرح فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ اس لحاظ سے کل کےانتخابات میں پی ٹی آئی کی حکومت بنا سکتی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ن لیگ نے رایست تاریخ میں پہلی بار دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ اب دیکھتے ہیں کہ تحریک انصاف اس ریکارڈ کو توڑ پاتی ہے یا نہیں۔ ان عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی، جمعیت علما اسلام کے علاوہ دیگر جماعتیں حکومت سازی کے وقت جوڑ توڑ میں مصروف نظر آتی ہیں اور بعض اوقات حیران کن فیصلے ووٹرز کی آنکھیں کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

24 اکتوبر 1947 کو بھارتی تسلط سے آزاد ہونے کے بعد کشمیر کے اس حصے میں طویل عرصے تک صدارتی نظام حکومت رہا اور سنہ 1975 میں پارلیمانی نظام متعارف کروائے جانے کے بعد یہاں سیاسی جماعتوں کے لیے میدان بنا۔ آغاز میں قابلِ ذکر سیاسی جماعت کی حیثیت سے سنہ 1932 میں قائم سب سے بڑی ریاستی جماعت مسلم کانفرنس ہی پہچان بنا سکی تاہم پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی یہاں اپنی جگہ بنا لی۔ آئین کی شق کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت کو الحاق پاکستان کے حلف نامہ پر دستخط کرنا ضروری ہیں۔ جماعتوں کے منشور کی اہمیت اس خطے میں ثانوی ہے کیونکہ یہاں برادریوں اور کنبوں کی اہمیت زیادہ ہے۔ ’سیاسی جماعتیں برادریوں کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

کشمیری قیادت کی جانب سے ایک شکائت سامنے آئی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے نادرا کے ساتھ مل کر کشمیری مہاجرین کے ووٹ کم کئے ہیں۔ مہاجرین کے حلقوں میں پولنگ اسٹیشن دور دراز قائم کرکے ووٹرز کو انتخابی عمل سے دور بھی کیا جارہا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے نادرا اور وزارت داخلہ کی مداخلت پر بارہا اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آزاد کشمیر انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر انتخاب سے قبل ریاستی قیادت کی ہمدردیاں خریدی جاتی ہیں۔ چند مخصوص خاندانوں پر نوازشات کی جاتی ہیں اور پھر اپنی مرضی کی حکومت تیار کی جاتی ہے۔ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستیں جوڑ توڑ کا بنیادی عنصر ہیں۔ وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کروانے کیلئے کئی جتن کرتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes