آزاد کشمیر حلقہ 7 بھمبر کا معرکہ – Kashmir Link London

آزاد کشمیر حلقہ 7 بھمبر کا معرکہ

آزاد کشمیر میں اس وقت الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ 25 جولائی کو اسمبلی ممبران کے چناؤ کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس وقت اصل مقابلہ تین بڑی جماعتوں پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہو گا۔ تینوں پارٹیاں اپنے طور پر کامیابی کی دعویدار ہیں۔ کئی سیٹوں پر جماعت اسلامی اور تحریک لبیک بھی کامیابی حاصل کرنے کیلئے پر امید ہیں۔ مسلم کانفرنس جو کشمیر کی ایک ریاستی جماعت ہے اس کا اپنا ایک نظریاتی ووٹ بنک موجود ہے۔ کچھ سیٹوں پر مسلم کانفرنس کی کامیابی یقینی ہے۔ البتہ ایم سی خود حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کشمیر میں ریاستی جماعتوں کے مقابل غیر ریاستی جماعتیں آگے نکل گئیں ہیں کیونکہ ہمارے سیاسی نظام میں نظریاتی کم اور مفاداتی لوگ زیادہ ہیں۔ پورے آزاد کشمیر میں اس وقت جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں۔ کئی حلقوں میں بڑا دلچسپ اور کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔ یہ بات واضح ہے کہ حکومت تحریک انصاف کی ہی بنے گی کیونکہ گزشتہ کچھ عرصہ سے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ جس پارٹی کی حکومت پاکستان میں ہو گی اسی جماعت کو آزاد کشمیر میں کامیابی ملے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر حلقہ میں لوگ اس بات کا جائزہ لے کر ووٹ دیں کہ جو برسراقتدار تھے انھوں نے کیا کیا اور جو اپوزیشن تھی ان کا کیا کردار رہا ہے۔

میرا تعلق حلقہ نمبر سات بھمبھر کی یونین کونسل کسگمہ سے ہے جہاں گزشتہ دس سالوں سے چوہدری طارق فاروق صاحب اسمبلی ممبر تھے اور سینئر وزیر بھی۔ چوہدری طارق فاروق صاحب 1996 میں فخر کشمیر سابق صدر ریاست جناب راجہ ذوالقرنین خان صاحب کو روحانی باپ کہہ کر ان کی حمایت سے اسمبلی ممبر منتخب ہوئے تھے۔ کامیابی کے بعد اپنے اس روحانی باپ کے خلاف سازشیں کر کے اور برادری ازم کو ہوا دے کر برسراقتدار آتے رہے۔ موجودہ الیکشن میں ایک بار پھر اس حلقہ میں اصل مقابلہ مسلم لیگ ن کے چوہدری طارق فاروق اور راجہ ذوالقرنین خان کے حمایت یافتہ پی ٹی آئی کے چوہدری انوارالحق کے درمیان ہو گا۔ دونوں امیدوار اپنی اپنی جگہ کامیابی کے دعویدار ہیں۔ حلقہ نمبر سات بھمبھر میں یونین کونسل کسگمہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے کیونکہ یہ راجہ ذوالقرنین خان کا آبائی علاقہ ہے۔ یونین کونسل کسگمہ حلقہ نمبر سات بھمبھر میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی میں بڑا مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ 2006تک اس یونین کونسل میں راجہ ذوالقرنین خان یا ان کا حمایت یافتہ امیدوار کو مکمل حمایت حاصل ہوتی تھی۔ 2001 میں راجہ ذوالقرنین خان صاحب کی الیکشن میں ناکامی کی وجوہات کچھ مختلف تھیں۔ 2001 میں راجہ ذوالقرنین خان کو وزارت عظمی تک پہنچنے سے روکنے کے لئے کچھ اور لوگوں نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ 2011 اور 2016 میں راجہ ذوالقرنین خان اپنے حمایت یافتہ امیدوار چوہدری انوارالحق کے الیکشن کمپین میں وہ کردار ادا نہ کر سکے جس کی ضرورت تھی۔ اس دفعہ راجہ ذوالقرنین خان نے اپنے فرزند راجہ بابر علی ذوالقرنین خان کو خصوصی ہدایات دیں ہیں کہ وہ چوہدری انوارالحق کا بھرپور ساتھ دیں۔

کون جیتے گا اور کون ہارے گا اس کا فیصلہ 25 جولائی کو ہو گا۔ آجکل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ دونوں امیدواروں کی کارنر میٹنگ سے لیکر بڑی ریلیوں کی کوریج فورا” فیس بک پر آ جاتی ہیں۔ خطابات کے کلپ بھی سننے کو مل جاتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کسگمہ کے لوگ اتنے بے ضمیر کیوں ہو گئے ہیں۔ کوئی راجہ ذوالقرنین خان پر انگلی اٹھائے اور الزام لگائے کہ انھوں نے اپنے دور میں کسگمہ کے لئے کچھ نہیں کیا اور کسگمہ کے لوگ وہاں بیٹھ کر خاموشی سے سنتے رہیں بلکہ ایسے لوگوں کی حمایت کریں تو یہ مردہ ضمیری اور منافقت کی علامت ہے۔ راجہ ذوالقرنین خان صاحب اور ان کے خاندان نے کسگمہ کی تعمیر و ترقی کے لئے جو کچھ بھی کیا ہے وہ کسی ایک شخص یا کسی ایک فیملی کے لیے نہیں بلکہ پورے علاقہ کی بہتری کےلئے اقدامات کیے ہیں۔ ہمیشہ تعلیم اور صحت کو اولیت دی گئی۔ سکولوں اور ڈسپینسریوں کے لیے جگہ تک مہیا کی گیئں۔ کاکڑہ سے دھماوہ سڑک جس کا فائدہ پورے کسگمہ کو ہے یہ راجہ ذوالقرنین خان صاحب کی ہی کاوش کا نتیجہ ہے اس سڑک میں بہت ساری زمین اسی خاندان کی تھی۔ کسگمہ کے سارے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ جب منچھٹ کے مقام پر سنگیتر نالہ پر پل نہیں تھا تو موسم برسات یا جب بھی کبھی زیادہ بارش ہوتی تھی تو ہمارا حال کیا ہوتا تھا یہ پل بھی کسگمہ کے سپوت راجہ ذوالقرنین خان صاحب کی محنت کا نتیجہ ہے۔ بحالی والی سڑک یقینا چوہدری منظور احمد مرحوم کا کارنامہ ہے لیکن اس سڑک کو بھی عوام کسگمہ کی سہولت کے لئے پل کی ضرورت تھی یہ بھی آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے آپ کو یہ سہولت مہیا کی۔

کاکڑہ سے بلی اور موڑہ جنگو والی سڑک کی تعمیر میں آدھا خرچہ راجہ ذوالقرنین خان نے ہی منظور کروا کر دیا تھا۔ کسجمال سڑک اور پوٹھہ سے پونہ اور سماہنی کو ملانے والی سڑک کی تعمیر بھی راجہ ذوالقرنین خان صاحب کی ہی مرہون منت ہے۔ نویں دھار میں سکول اور ڈسپنسری کے علاوہ پوری یونین کونسل کسگمہ میں جگہ جگہ پرائمری سکول قائم کروائے۔ جاوید اقبال راجہ نے کسگمہ کے عوام کے تعاون سے جب کسگمہ جنرل ہسپتال جو آج ایک لینڈ مارک کے طور پر پہچانا جاتا ہے کی تعمیر کا کام شروع کیا تو راجہ ذوالقرنین خان صاحب اور ان کی فیملی نے بھرپور تعاون کیا۔ راجہ بابر علی ذوالقرنین خان نے اپنے کشمیر کونسل کے بجٹ سے غالبا” 40 لاکھ کے فنڈز ہسپتال کو مہیا کیے۔ گزشتہ دس سالوں میں کسگمہ کو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت نظر انداز کیا گیا ہے۔ کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں دیا گیا۔ کچھ لوگ شائد یہ کہیں کہ گرلز سائنس کالج چوہدری طارق فاروق صاحب کے دور میں منظور ہوا ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسگمہ ایجوکیشنل ویلفیئر اینڈ کلچرل ٹرسٹ نہ ہوتا تو شاید آج کالج ضرور ہوتا لیکن کالج کی بلڈنگ کہیں نظر نہ آتی۔ تعلیمی میدان میں دونوں کالج سمیت کسگمہ کے تمام تعلیمی ادارے بلڈنگ کی مرمتی، سٹاف کی کمی اور دیگر اشیاء کے لئے کسگمہ ایجوکیشنل ویلفیئر اینڈ کلچرل ٹرسٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی فنڈز میسر نہیں۔ کوئی تعلیمی ادارہ آپ گریڈ نہیں ہو سکا۔

لکھنے کو تو بہت کچھ موجود ہے۔ میں نے صرف ان باتوں کا ذکر کیا ہے جن کا فائدہ پورے کسگمہ کو ہے۔ ضلع بھمبھر ہی نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر میں راجہ ذوالقرنین خان صاحب نے برادری ازم پر لعنت بھیجتے ہوئے ہر طبقہ کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ میں اس وقت پی ٹی آئی کے لئے ووٹ نہیں مانگ رہا بلکہ یونین کونسل کسگمہ کے باسیوں سے گزارش کر رہا ہوں کہ ہمارے ووٹ کسی پارٹی کو نہیں بلکہ راجہ ذوالقرنین خان صاحب کے لئے ہونے چاہئیں وہ جو حکم دیں وہاں سر تسلیم خم ہونا چاہیے۔

میں اس کالم کے ذریعے راجہ بابر علی ذوالقرنین خان کو تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے جس طرح اپنے والد صاحب کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پورے حلقہ کی عوام کو اکٹھا کیا ہے اب آئندہ کے لیے اس سلسلہ کو قائم رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے اس کے لئے عوامی رابطہ مہم ہر وقت جاری رہنی چاہئے۔ میری تجویز یہ ہے کہ آپ اپنے دو رابطہ آفس قائم کریں، ایک بھمبھر شہر میں اور دوسرا کلری موڑ پر تاکہ حلقہ کے عوامی مسائل آپ تک پہنچتے رہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes