اب نئے رنگ سے مہکے گا پرانا منظر! – Kashmir Link London

اب نئے رنگ سے مہکے گا پرانا منظر!

جمعرات ، 27اگست کو کابل ائر پورٹ پر ہونے والے خوفناک خود کش دھماکے اور اندھادھند فائیرنگ نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بہت سے خدشات کو ایک نئی تقویت دے دی ہے۔چند ہفتے پہلے جب افغانستان میں منتقلی اقتدار کا مرحلہ بغیر کسی خون خرابے کے ، نہایت پر امن ماحول میں مکمل ہوا تو دنیا بھر میں اس عمل کو بھرپور انداز میں سراہا گیا لیکن اس وقت بھی بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ امن سکون ممکن ہے عارضی ثابت ہو۔جہاں ایک طرف طالبان کے ساتھ ساتھ پاکستان، چین اور ایران جیسے ممالک افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لیے خواہشمند دکھائی دیتے ہیں وہیں ایسے بہت سے عناصر ہیں جن کی روٹی روزی ہی افغانستان میں خون خرابے اور بدامنی سے منسلک ہے۔تاہم انتقال اقتدار کے مرحلے پر، طالبان نے نہایت سمجھداری اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، بدخواہوں کے ایسے تمام خوابوں کو اپنے جوتوں تلے روند دیا۔واضح رہے کہ جب سے امریکا نے افغانستان سے اپنی افواج کی واپسی کے پروگرام پر عمل درآمد شروع کیا تھا، عام تاثر یہی تھا کہ امریکیوں اور اتحادی افواج کے نکلتے ہی افغانستان ایک ایسی خانہ جنگی کا شکار ہوگا کہ وہاں کی کوئی اینٹ سلامت نہیں رہے گی۔ امریکی افواج جاتے ہوئے جو جنگی سازو سامان چھوڑ گئی تھیں ، اس کے بارے میں بھی یہی خیال تھا کہ وہ سارا سامان اب افغانستان کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گے اور بہت جلد ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ دنیا امریکا سے افغانستان میں ایک نئے سرے سے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔اشرف غنی صاحب بھی ہنستے مسکراتے، گلے ملتے، مصافحہ کرتے صدارتی محل سے رخصت ہوگئے، نئی طالبان انتظامیہ نے عام معافی کا اعلان بھی کردیا اور ساتھ ہی لوٹ مار کرنے کے خواہشمندوں کو وارننگ بھی جاری کردی کہ طالبان کے نام پر لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ بظاہر یوں لگتا تھا کہ آئیندہ چند ہفتوں میں تمام معاملات ایک پرسکون ڈگر پر گامزن ہوجائیں گے۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو تیس چالیس سال سے ملک میں جاری جنگی صورت حال سے بری طرح تھک چکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی نئی نسلیں بارود کے دھویں کی بجائے خوشگوار تازہ ہوا میں سانس لیں، تعلیم عام ہو، نئی یونیورسٹیاں بنائی جائیں، کارخانے لگیں، عمارتیں بنیں اور شہروں کی سڑکوں پر زندگی اٹھکیلیاں کرتی دکھائی دے۔یقینا اس طرح کا ہرا بھرا منظر بھارت جیسے ممالک کے لیے کچھ زیادہ دلکش نہیں ہوگا جن کو غلط فہمی ہے کہ انہوں نے گذشتہ دو دہائیوں میں افغانستان کے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مبینہ سرمایہ کاری کے ذریعے افغان عوام کے دل جیت لیے ہیں۔آج بھارتی میڈیا اسی نام نہاد سرمایہ کاری پر آنسو بہارہا ہے کہ جو پیسہ بھارتی عوام کو کرونا ویکسین لگانے پر اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کیا جانا چاہیے تھا، بغیر سوچے سمجھے افغانستان میں ضائع کردیا گیا۔دلچسپ بات یہ کہ اس سب کے باوجودجس بے بسی کے ساتھ افغانستان سے بھارتی قونصل خانوں کے لوگ جان بچا کر فرار ہوئے ، اس کی مثال بھی دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

ایسے میں معتدل مزاج تجزیہ کاروں کا شروع ہی سے خیال تھا کہ بی جے پی حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ افغانستان میں حالات کچھ زیادہ عرصے حالت سکون میں نہ رہ سکیں۔ وہاںمختلف قسم کے انتشار پسند گروہوں کی سرپرستی کی جائے ، نئی سازشوں کے جال بنے جائیں اور خرابی کے نئے منصوبے دیکھنے کو ملیں ۔اگر طالبان نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایسی تمام سازشوں کا مقابلہ کرلیا تو ایک طویل عرصہ خرابی اور بربادی کے بغیر گذرجانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ یقینا آنے والے دنوں میں پاکستان کو بھی افغانستان میں ایک مزید مثبت اور طاقت ور کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ یہی پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش بھی رہی ہے اور کوشش بھی کہ افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو کیونکہ افغانستان میں ہونے والی ہر بربادی ہمیشہ سے پاکستان پر براہ راست منفی اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتی ہے۔ سب سے بڑا اثر تو افغان مہاجرین کی نئی کھیپ کی صورت میں پاکستان پر بے پناہ اقتصادی بوجھ کی صورت سامنے آتا ہے۔ان ہی تمام زمینی حقائق میں پنہاں خوفناک نتائج کو سمجھتے ہوئے بھارتی دانشور ہمیشہ ایک ہی پراپگینڈہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ افغانستان میں ہر خرابی کے پس منظر میں پاکستان ہی موجود ہوتا ہے۔بالخصوص جب سے امریکا اور اتحادی افواج بے بسی کے ساتھ افغان سرزمین کو خیر باد کہنے پر مجبور ہوئیں ، پاکستان پر بھارتی الزام تراشیوں کا سلسلہ ایک دم سے تیز ہوگیا۔کبھی مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کا سوشل اور اکنامک بایئکاٹ کیا جائے، کبھی شور مچایا گیا کہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے، پاکستانیوں پر سفری پابندیاں عائد کی جائیں۔اس طرح کے پراپگینڈے کے لیے جہاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بھرپور استعمال دیکھنے میں آیا، وہیں ٹوئٹر ، واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیاٹولز کو بھی پوری طاقت سے استعمال کیا گیا۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک باقائدہ کمیونٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں بھارت، اسرائیل اور کچھ مغربی ممالک کے ہم خیال لوگ شامل ہیں۔ ان لوگوں نے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میںجعلی یعنی فیک اکائونٹ بنا رکھے ہیں جن سے دن رات پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کام جاری رہتا ہے۔کہا جارہاہے کہ طالبان کو افغان فوج کے مقابل کھڑا کرنے کا کام پاکستان کی مدد، راہنمائی اور تعاون کے بغیر نہیں کیا جاسکتا، یہ بھی شور ہورہا ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت کو ناکام کرنے کی تمام کوششوں کا مرکز بھی پاکستان ہی رہاہے۔ قصہ مختصر یہ کہ اس تمام الزام تراشی کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دے کر اس کے نیوکلیر پروگرام کو منجمد کردیا جائے۔اس جدوجہد میں مصروف ناپختہ ذہنوں کا خیال ہے کہ عراق اور شام کی طرح پاکستان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے تاکہ مغربی غیر مسلم دنیا کو آئیندہ کبھی کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سرے سے سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔ تاہم خوش آئیند بات یہ ہے کہ طالبان نے اس بھارتی پراپگینڈے سے متاثر ہوئے بغیر،اقتدار سنبھالتے ہی افغان معاشرے سے بھارتی باقیات کی صفائی بھی شروع کردی۔

کوئی ڈیڑھ دو ہفتے پہلے قندھار میں عرصے سے پاکستان دشمن سرگرمیوں میں متحرک بھارتی قونصل خانے نے قندھار کے ارد گرد طالبان اور سرکاری افواج کے بیچ جھڑپوں سے خوفزدہ ہو کر قونصل خانے کے تمام عملے کو ایک ہوائی جہاز کے ذریعے واپس نئی دلی پہنچا دیا اور قونصل خانے کی عمارت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ دیا۔ واضح رہے کہ صرف یہی ایک نہیں بلکہ افغانستان میں قائم بہت سے بھارتی قونصل خانے مقامی لوگوں کو پاکستان کے خلاف اکسا کر پچھلے دس پندرہ سال سے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کروا رہے تھے۔ یہ قونصل خانے بنیادی طور پر افغانستان میں تعمیراتی کام اور سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کی آڑ میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔اب طالبان نے اپنے زیر تسلط تمام علاقوں میں اس طرح کی تمام بھارتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ بھارت کے بچے کچھے لوگ جان بچا کر افغانستان سے بھاگ رہے ہیں۔افغانستان میں طالبان نے دنیا کی سب سے بڑی قوت امریکا کو جس طرح شکست دی ہے اس کے بعد ، لوگوں میں اس خیال نے نہایت تقویت حاصل کرلی ہے کہ اگر بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگ چاہیں تو یک جان ہوکر بھارتی افواج کو وادی سے بھاگ جانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes