سید علی گیلانی:پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والا نہ رہا – Kashmir Link London

سید علی گیلانی:پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والا نہ رہا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کی بندوقوں اور سنگینوں کے سائے میں عوامی جلسوں سے ” ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” اور ” پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگوانے والا اور بھارتیوں کو ایک آنکھ نہ بھانے والا کشمیری لیڈر سید علی گیلانی نہ رہا۔ دشمن کے جبر و استبداد سے نہ ہارنے والا قضا سے ہار گیا۔ کشمیر کے سیاسی منظرنامے پر پانچ دہائیوں تک چھائے رہنے والے اس مزاحمتی بزرگ سے بھارتی حکمران ان کی وفات کے بعد بھی گھبرائے رہے اور سخت سکیورٹی میں ان کی تدفین کروا دی جس میں صرف چند قریبی رشتہ داروں کو شرکت کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے پیروکاروں اور پرستاروں سے ڈر کر سری نگر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ سید علی گیلانی کی عمر 92 برس تھی اور وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ اگرچہ حریت رہنما کی تدفین علی الصبح ہو گئی تھی جس میں کشمیر کے کئی حصوں سے لوگ شرکت کرنا چاہتے تھے تاہم انھیں وہاں تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور سرینگر کے شہری علاقوں میں ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ حیدر پورہ میں سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر سخت سکیورٹی حصار قائم ہے۔ تجہیز و تکفین میں علی گیلانی کے دو بیٹے، ان کی بیویاں اور بچے شامل ہوئے اور مرحوم کو حیدر پورہ میں ہی واقع ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔اس سے قبل سوشل میڈیا پر سید علی گیلانی کے ترجمان عبداللہ گیلانی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حکام مرحوم حریت رہنما کی میت غسل سے قبل ہی جبراً تدفین کے غرض سے لے گئے اور اس معاملے پر سید علی گیلانی کے اہل خانہ اور فوجی اہلکاروں میں کشیدگی بھی ہوئی۔ کشمیری رہنماؤں کی جانب سے حکام کے مبینہ ناروا سلوک پر احتجاج کی کال بھی دی گئی ہے تاہم انڈین حکام کی جانب سے کشیدگی سے بچنے کے لیے وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا۔سید علی گیلانی طویل عرصے تک کشمیر میں دو درجن سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ رہے۔ تاہم گذشتہ برس انھوں نے حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی تاہم اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا تھا کہ ’اس دیار فانی سے رحلت تک میں بھارتی استعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور اپنی قوم کی رہنمائی کا حق حسبِ استطاعت ادا کرتا رہوں گا۔انھیں کشمیر کی سیاست میں ایک سخت گیر موقف کا حامی سیاستدان سمجھا جاتا تھا اور وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیے جانے کے بہت بڑے حامی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے مؤقف کو استحکام دیا۔

ان کی وفات سے پاکستان میں اور آزاد کشمیر میں بھی رنج و الم چھا گیا اور حکومت پاکستان نے ایک دن کے جبکہ آزاد کشمیر حکومت نے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا اور قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔ علی گیلانی اپنی جدوجہد کے سفر میں اکثر جیل جاتے رہے اور عمر کی تقریباً ایک دہائی انھوں نے قیدخانوں میں گزاری۔ اُن کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ اپنے ہوں یا بیگانے سب نے علی گیلانی کی وفات پر اظہار تعزیت کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی ٹویٹ میں سید علی گیلانی کی مستقل مزاجی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’انھوں نے ساری زندگی کشمیری عوام اور ان کے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد میں گزاری اور قابض انڈین ریاست کی جانب سے قید اور تشدد سہنے کے باوجود ڈٹے رہے۔ پاکستان کے صدر عارف علوی نے بھی سید علی گیلانی کی وفات پر عم کا اظہار کتے ہوئے کہا کہ ’گیلانی صاحب کا خواب تھا کے کشمیر آزاد ہوگا اور یہ خواب جلد پورا ہوگا۔‘ صدر پاکستان نے انڈین حکام کی جانب سے کشمیری رہنما کی تدفین میں جلدی اور پابندیوں کو نامناسب رویہ قرار دے کر افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان ملسم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ٹوئٹر پر لکھا ’سید علی گیلانی کی وفات کا سن کر دکھ ہوا۔ کشمیر نے ایک باپ جیسی شخصیت کو کھو دیا جس نے اپنی ساری زندگی کشمیر کی آزادی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی جدوجہد اور سفر آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔‘ سید علی گیلانی کے اجداد مشرق وسطیٰ سے ہجرت کر کے کشمیر میں آباد ہوئے تھے۔ وہ شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں ڈُورو گاوں کے ایک آسودہ حال گھرانے میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور میں حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اورینٹل کالج لاہور چلے گئے، جہاں وہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی کے خیالات اور علامہ اقبال کی شاعری سے بے حد متاثر ہوکر لوٹے۔ سید علی گیلانی نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے ترجمے پر مشتمل تین کتابوں اور خود نوشت سوانح عمری سمیت تقریباً ایک درجن کتابیں بھی تصنیف کیں۔ کشمیر واپسی پر انھوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی جماعت کے اہم رہنما کے طور مشہور ہوگئے۔ انھوں نے 1977،1972اور1987میں جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ مقامی اسمبلی میں وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی وکالت کرتے رہے، 1987 میں گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حل کی حامی کئی پاکستان نواز تنظیموں کے اتحاد مسلم متحدہ محاذ کی حمایت میں الیکشن لڑ کر اُس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو تاریخی چیلنج پیش کیا، تاہم انتخابات میں ‘بدترین دھاندلیوں’ اور کانگریس کی حمایت سے فاروق عبداللہ اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے اور سید علی گیلانی سمیت محاذ کے بھی اُمیدواروں نے الیکشن جیت لیا۔

چند سال بعد جب محاذ کے ایک رُکن اسمبلی عبدالرزاق بچرو پُراسرار حالات میں مارے گئے تو گیلانی سمیت چاروں ارکان، اسمبلی کی رُکنیت سے مستعفی ہو گئے۔ ان کے ساتھ روشن خیال پیپلز کانفرنس کے رہنما عبدالغنی لون نے بھی استعفیٰ دیا اور دونوں نے تحریکِ آزادی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ لیکن صرف دو سال کے اندر اندر کشمیر میں گورنر راج نافذ ہوا اور فاروق عبداللہ لندن میں مقیم ہوگئے۔

گیلانی نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی مسلح تحریک کی کھل کر حمایت کی اور اسے کشمیریوں کی طرف سے ‘تنگ آمد بہ جنگ آمد’ کے مصداق ایک ردعمل قرار دیا۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا قدرتی حصہ قرار دے کر مسئلہ کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہی گیلانی ایک مقبول عام پاکستان نواز رہنما کے طور اُبھرے لیکن عبدالغنی لون کے ساتھ ان کے نظریاتی اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ گیلانی مسئلہ کشمیر کو اسلامی مسئلہ کہتے تھے جبکہ لون اسے خالص سیاسی مسئلہ قرار دیتے تھے۔

حریت میں دونوں مکاتب فکر کی جماعتیں تھیں۔ حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کو بنیادی مطالبہ بنایا اور کشمیریوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک وقت مذاکرات کو متبادل کے طور پیش کیا لیکن 1996میں سخت ترین فوجی محاصرے میں ہوئے انتخابات کے بعد جب فاروق عبداللہ نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تو نئی دلی نے حریت رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ ان کوششوں کی وجہ سے گیلانی اور دیگر رہنماؤں کے مؤقف واضح طور متصادم ہوئے۔ 2002 میں عبدالغنی لون کی شہادت کے بعد جب کشمیر میں انتخابات ہوئے تو بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ گیلانی نے حریت کی اُس وقت کی قیادت پر الزام عائد کیا کہ اُس نے الیکشن بائیکاٹ میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اسی اختلاف پر وہ اپنے حمایتیوں سمیت حریت سے الگ ہوگئے اور حریت کانفرنس کے سربراہ بن گئے۔ اس کے بعد گیلانی کا دھڑا ‘ہارڈ لائن’ یعنی سخت گیر کہلانے لگا اور میر واعظ کی سربراہی والا دھڑہ ‘ماڈریٹ’ یعنی اعتدال پسند قرار دیا گیا۔

نئی دلی میں پاکستانی سفارتخانے میں سید علی گیلانی نے 2005 میں جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں انھوں نے پرویز مشرف سے کہا کہ کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بغیر اُن کے سیاسی مستقبل کا کوئی فیصلہ لینا سودمند نہیں ہوگا۔ اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے نوجوانوں نے گیلانی کی حمایت میں کئی نعرے بھی اختراع ہوئے مثلاً ‘کون کرے گا ترجمانی ، سید علی شاہ گیلانی’ اور ‘نہ جُھکنے والا، گیلانی، نہ رُکنے والا گیلانی۔’

سید علی گیلانی نے کئی مرتبہ یہ دعویٰ کیا کہ نئی دلی کے کئی مصالحت کاروں نے اُن سے رابطہ کر کے اُن سے مؤقف میں لچک لانے کی فرمائش کی، تاہم وہ اعادہ کرتے رہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا ہے اور ‘اگر اس میں دلی کو دِقت ہے تو پاکستان، بھارت اور کشمیری قیادت کے درمیان بیک وقف سہ فریقی بات چیت بھی ایک متبادل ہے۔’گیلانی چاہتے تھے کہ انھیں اسلام کے محافظ کے طور پر جانا جائے، لیکن طویل سیاسی سفر میں انھوں نے جس طرح اپنے مؤقف پر وقتی بہاؤ کو حاوی نہ ہونے دیا وہی اُن کا قابل قدر ورثہ ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes