مجاہد لاثانی – Kashmir Link London

مجاہد لاثانی

تاریخ عالم میں جذبہ حریت کا عنوان، جہد آزادی کا دوسرا نام ،مجایدلاثانی ،خلد لاثانی ،بلکہ خلد آ شیانی، فکر حریت کے علمبردار ، تو جذبہ حریت کا شاہکار مزاحمت کانشان جذبہ جرات عزم کا دوسرا نام ، جس نے ثابت کیا کہ زندگی جیو تو زندگی کو اک فرض سمجھ کر اور جان قرض جو چکاو تو اک رشک بن کر، بارہ سال کی نظر بندی اور اک دیائی قید بند میں گزارنے والے علی گیلانی جو نہ جھکے نہ بکے بلکہ مرتے دم تک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام نہاد دعویداروں کو بینقاب اور دہشت گردی کے ٹھیکیداروں رسوا ،انسانیت کے موذی مودی عزائم کو بے نقاب تو عالمی علمبرداروں کو بے آبرو اور انکا تضاد اک روشن باب بن کر وہ پاکستان کے صرف نام لیوا ہی نہیں بلکہ رشتہ اخوت والفت کا ایک مینار جذبہ حقیقی کا سچا شاہکار حریت کے علمبردار سید علی گئلانی تحریک آ زادی کا روشن باب ،جبر کے خلاف دیوار تو دنیا کے منصفووں سلامتی کے نام نہاد ضامنوں کے خلاف اک استقامت اور جرات کا کردار، نئی نسل کے حوصلوں اور امیدوں کیلے انکا اک سچا اور جری کردار، جس سے دہکھنے سےکسی قوم کو حوصلہ اور توانائی ملتی ہے جسے پڑھنے کی تو فیق ملتے ہی زندگی کے مقصد کوجینے کا مقصد سمجھ تو عزم کس قوت کا نام ہوتا ہے سمجھ بھی اتا ہے ہے لیکن دیکھنے کافیض اورکرم کم وہاں قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہےاور یہ بھی کرم سے کم انعام نہیں کے اس پر لکھنے کی بھی سعادت جو مل جاے میں رب کائنات کجب وہ ایسے باایمان لیڈر نصیب فرما کر نسلوں کی آبیاری اورمنزل سے اگاہی اور رانمائی فراہم گرتا ہے اور ایسوں کے متعلق شاعر مشرق نے بھی فرمایا ہے کہ

ہزاروں سال اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

آج وہ بیانوے سال کی اک داستان حیات چھوڑ کر ہم سے رخصت تو ہوگیا لیکن زندگی کو اک مقصد سمجھنے والوں پر زندگی کا مقصد بھی واضع اور جیو تو کیسے جیو حقیقت میں واضع بھی کرگیا یہ اس کے جذبہ ایمانی کا اثر ہےیااس کےزندگی کے جنوں کا سحر کہ لکھنے پر بھی دل اور روح اک عجیب طمانیت کے ساتھ اک حسن وکیف کی لذت بھی محسوس کررہا ہے جو اک ایسے بےلوث رشتہ اخوت والفت سے پیوستہ کہ وصیت پر دیکھوں تو بھی دل رشک تو جان فدا کرنے کو جی کرتا ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے ہماری قبروں پر آ کر بتانا اس جذبے کے بارےمیں پاس تو الفاظ ہی نہیں جس میں صرف قوم کی امنگ اور عزم نظر آتا ہے اور اسے پیوستہ رہ شجر امید بہار کے درس کے ساتھ نہ ڈر منزل کی دوری سے قدم آگے بڑھتا جا کا درس ہی نہیں راز زندگی کی فلاح اور مقصد زندگی بنکرسمجھاتا بھی دیتا ہے علی گیلانی کی اولال

پچاس سالوں پر پھیلی جہد و جہد نصف صدی پر محیط لازوال داستان جو زندہ رہا تو بھی امن کے دشمنوں کیلےاک خوف لیکن مرا بھی تو اک سحر اور اک دہشت کی داستان جو زندگی کا مقصد بھی سمجھاتی ہے اور کیسے جیو اس راز سے پردہ بھی اٹھاتی ہے دنیا کی نام نہاد جمہوریت کو بےنقاب بھی کرتی ہے تو انسانی حقوق کے علمبرداروں کو رسوا بھی امن کے ٹھیکیداروں کو ذلیل بھی اور دہشت گردی کیوں پھیلتی ہے اس کا جواب ڈھونڈنے والوں اور دنیا کے امن کو کیسے قائم کیا جاے والوں کیلے اک جواب بھی اگر وہ صدق دل سے سمجھنےکی اگر خواہش اگر رکھتے ہوں تو اس میں اسکا جواب بھی؟؟۔۔کہ اگر کسی قوم کو اسکا پیدائشی حق اگر نہیں دوگے تو پھر اپنے مفاداتی حق کا دعوی کس منہ سے کرتے ہو اور یہ کھلا تضاد دنیاے امن کا روگ نہں کیا ؟

علی گیلانی کا جری کردار ہماری نام نہاد قیادت کےلے بھی سوال چھوڑ کر جارہا ہے جو قوم کی عفت وعظمت کے غم میں نام نہاد رونا روتے تو ہیں لیکن اپنے ذاتی مفادات پر اس کوترجیح ہرگز نہیں دہتےاور انکا یہ دہراہا معیار ہی قوم مرض اور درد ہے جو اسے قوم بننے دیتا ہے نہ ملک وملت کا سوچنے کافرض سمجھنے دیتا ہے اور ذاتی مفاد ہی قومی مفاد کا روگ اور سوگ ہے جونہ قوم بننے اور نہ قوم کا کچھ سوچنے دیتا ہے اور بحثیت من حیثیت اک قوم ہماری کیا ذمداری تھی جو ادا کیوں نہ ہوئی اور کب اور کیسے ہوگی اس جانب سوچنے کا شعور تک کا ادراک نہیں ہونے دیتا ہے اور یوں یہ کرسی مافیا اور اسکا چاپلوس مافیا قوم نہیں ذاتی مفادات کے حصول کو خدمت کا نام دینے بھی نہیں شرماتا اور کتراتا تک نہیں اور گناہ کو گناہ سمجھنے کا احساس تک گنوا کر دل سے بھی برا نہیں بلکہ اس کے حق میں دلائل دینے سے بھی باز نہیں آ تا ہے اور قوم کا مجرم بنتا جارہا ہے

سید علی گیلانی کی موت سے اک عہد کا خاتمہ دکھائی دے رہا ہے اللہ کرے مرے خدشات غلط ثابت ہوں لیکن کیا آ نکھیں بند کرنے سے موت ٹل جایا کرتی ہے نظر چرانے سے حالات کا پہیہ رک جایاکرتی ہے یا جس دور میں جتنا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم مسل زندگی کا شیواہ ہوا کرتی ہے کاسبق ہوتی ہے اور یہ سبق صداقت اور شجاعت کا کا ہمیں کون پڑھاے گا یہ چند ٹکوں پر بکنے والے سیاسی چھوچھرے جو قیادت کے نام اور اس کی شان کو دھندلا اور رسوا کرتے توجارہے ہیں لیکن ایسا کرنے پر نہ شرمندہ افسردہ تو درکنار اس کو خدمت کانام دینے سے باز تک نہیں آرہے اور قوم کی سوچوں کا محوربدلنے کی مذموم حرکتوں سے بھی باز نہیں آ رہے اک طرف وہ قیادت جو قوم کے مستقبل کی خاطر ہندو فسطائیت کے سامنے سیسہ پلائی ہوی دیوار تو دوسری طرف یہ منحوس مافیا جو ذاتی مفادات کی خاطرانکے تلوے چاٹنے اور قوم کےمستقبل کا غدار اور محض ذاتی انا اور پروٹوکول کا بھکاری جن کو محض ذات کی فکر ہے قوم پرواہ ہرگز نہیں

آج علی گیلانی کی موت سے قوم اک جری لیڈر اور قیادت کے افکار وکردار کا نام ہے محروم ہوگیئ ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سوچ کی حفاظت کی جاے جو علی گیلانی کی فکر تھی اور ہماری اس چاپلوس مافیا کو بھی اسکی شناوری کروائ جاے کہ قیادت کس مشن کا نام اور کس جذبے اور ؤلولے کو کہتے ہیں قیادتوں کو قوموں فکر ہوتی ہے ذاتی مفاد ات کا روگ نہیں وہ ذات کی قربانی سے قومی جذبات کو جلا اور توانائی ہی نہیں جینے کامقصد سمجھایا کرتے ہیں علی گئلانی کا مزاحمتی کردار اس قوم کا اک خاصہ اور پہچان کے ساتھ اس کا اک مشن ہونا چائیے کہ زندگی کا مشن ملک وملت کیلے جینا ہوتا ہے نہ کہ ذاتی مفادات کی خاطر دمداری اور جی حضور ی اور یہ مشن رب کائنات بھی اپنے خاص بندوں کو تفویض کرتاہے جو اس کی راہ میں سچی نیت خلوص و عزم اور واضع مقصد کے ساتھ ایک جری کردار کے ساتھ نبھاتے ہیں اس قول کی روشنی میں کہ دنیا تو مومن کلیے اک امتحان گاہ اور قید خانہ ہے اور اس میں انکا مقص بلاشبہ باکردار قومیں ہی ایسے کرداروں کی حفاظت کرتی اور عزت کی نگاہ سے دیکھا کرتی ہییں علی گئلانی کا کردار نہ صرف کشمیری بلکہ دنیا کی تمام محکوم اقوام کیلیے اک مشعل راہ ہے اور قابل فخر ہے ،اور تحریک آزادی میں یہ مزاحمتی کردار نہ صرف امر اور قابل فخر کے ساتھ قابل رشک اور قابل داد بھی، بلکہ مغلوب اقوم کیلے قابل عمل راہ اور انکُی جلائی ہوئی شمع منزل پا کررہے گی انشااللہ بقول فیض احمد فیض

اب اک ہجومِ عاشقاں ہے ہر طرف رواں دواں
وہ ایک رہ نورد خود کہ قافلہ بنا گیا
دلوں سے وہ گزر گیا شعاعِِ مہر کی طرح
گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بنا گیا
کبھی کبھی تو یوں ہوا ہے اس ریاضِ دہر میں
کہ ایک پھول گلستاں کی آبرو بچا گیا
شریکِ بزمِ دل بھی ہیں چراغ بھی ہیں پھول بھی
مگر جو جانِ انجمن تھا وہ کہاں چلا گیا

50% LikesVS
50% Dislikes