قصہ لندن کے صحافیوں کا نواز شریف سے ملنے کا !!! – Kashmir Link London

قصہ لندن کے صحافیوں کا نواز شریف سے ملنے کا !!!

لندن تو خیر صدیوں سے مرجعِ خلائق رہا ہے، لیکن پاکستانیوں کی اس میں زیادہ دلچسپی تب پیدا ہوئی جب شریف خاندان خود ساختہ جلا وطنی کے دوران سرزمینِ حجاز سے لندن اترا۔ ملک میں مشرف کی حکومت تھی۔ سیاسی جماعتیں توڑ تاڑ کر ادھ موئی کر دی گئی تھیں۔اذنِ سیاست صرف اسی کے نصیب میں تھا کہ جو دُھل دھلا کر ق لیگ کی چھتر چھاؤں میں آ جائے، ورنہ سیاست سے تائب ہو یا پھر پشت پر کوڑے کھائے۔ دخترِ مشرق بھی ان دنوں لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ عالمی اہمیت کے اس شہر میں جب پاکستانی سیاست کی گہما گہمی شروع ہوئی، تو اخبارات اور ٹی وی چینلز کو خبروں کے لیے اپنے نمائندوں کی ضرورت پڑی۔ اس طلب میں اُس وقت شدید اضافہ ہو گیا کہ جب میثاقِ جمہوریت ہوا اور لندن پاکستانی سیاست کا محور بن گیا۔اس وقت یہاں اِکا دُکا صحافی ہوا کرتے، جبکہ جرائد و رسائل اور چینلز زیادہ۔ اس طرح رسد و طلب کا توازن بگڑ گیا۔ اس طلب میں اضافے کی وجہ سے لندن سے کچ پکے ایسے صحافی پیدا ہوئے کہ جیسے کھمبیوں کی افزائش۔ آج لندن میں ہمیں نوے فیصد وہی نظر آتے ہیں کہ جنہیں میاں نواز شریف کی جلاوطنی اور ہوائی جہاز میں ان کے ساتھ کیا جانے والاپاکستان کا سفر صحافی بنا گیا۔ پھر دھڑا دھڑ کھلنے والے ٹی وی چینلز نے جب برطانیہ کا رخ کیا، تو انہیں نمائندوں کی ضرورت پڑی۔ شروع شروع میں چند چینل برائے نام سہی، لیکن کچھ اعزازیہ ضرور دیتے رہے، لیکن اب صورتِ حال یہ ہے کہ صحافیوں کی ایک بھاری اکثریت ہنسی خوشی بیگارکاٹ رہی ہے۔مجھے برطانیہ میں رہتے دو دہائیاں ہونے کو آ رہی ہیں، مگر ہنوز یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بغیر تنخواہ کے ہمارے یہ بھائی گزارا کیسے کر لیتے ہیں۔ لندن میں سفر کرنے کے لیے ایک دن کا پاس تقریباً دس پاؤنڈ میں بنتا ہے پھر اپنے ادارے سے معاوضہ لیے بغیر نہ جانے یہ دوست اپنا شوقِ صحافت کیسے پورا کرتے ہیں۔ یہاں وہ بے روزگار کہ جسے کوئی بندہ معقول نوکری نہیں دیتا وہ جوڑ توڑ کر کے کسی پاکستانی چینل کا مائیک پکڑ کر سینئر صحافی بن جاتا ہے۔ ہم نے یہاں توتلے اینکر، گونگے تجزیہ نگار اور ایسے رپورٹر دیکھے ہیں کہ جوخبر لکھنا تو کجا اپنے نام کے ہجے تک نہیں کر سکتے۔اب صورتِ حال کی سنگینی کا آپ اس بات سے اندازہ لگائیے کہ لندن میں آپ کو کوئی جونئیر صحافی نہیں ملے گا۔ جب سبھی یہاں سینئر ہیں، تو پھر کاروانِ صحافت کسی ایک کی رہبری میں چلنے سے تو رہا، اس لیے ہر چند نے اپنے اپنے پریس کلب، جرنلسٹس یونینز اور ایسوسی ایشنز بنا لی ہیں۔ یہاں، بفضلِ تعالیٰ، اب جتنے صحافی ہیں کم و بیش اتنی ہی صحافتی تنظیمیں ہیں، کیونکہ ہر کوئی صحافت کا نمبردار ہے اور ایک نمبردار دوسرے نمبردار کی آج کے دور میں کہاں سن پایا ہے؟

برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی صحافی کئی ٹکڑیوں میں بٹے ہونے کی وجہ سے مختلف نظریات کے حامل ہیں۔ کچھ صحافی ووٹ کو عزت دینے والے بیانیے کو جمہوریت کے لیے ضروری سمجھتے اور اس کی علی الاعلان حمایت کرتے ہیں، جبکہ دوسرے دھڑے کے صحافی اداروں میں بددلی پھیلانے کی بجائے ان کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ اب یہ اختلاف اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ صحافی اپنے حقوق کے لیے بھی یک زبان ہونے کو تیار نہیں۔ حکومتِ پاکستان نے جب میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا، تو لندن کی جرنلسٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 12 ستمبر کو پاکستان ہائی کمیشن لندن کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا۔ دوسری جانب پاکستان پریس کلب برطانیہ نے اس ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں شمولیت کے بجائے اپنے طور پر مختلف شہروں میں اپنی برانچز کے ذریعے احتجاج کا پروگرام بنایا۔ جسکی وجہ بعد میں سمجھ آئی اور آپ بھی میرے اس کالم کے ختم ہونے تک سمجھ جائیں گے۔

پاکستان ہائی کمیشن لندن کے سامنے احتجاج کرنے والے صحافیوں کا یہ کہنا تھا کہ حکومت کا میڈیا کے حوالے سے لایا جانے والا نیا بل دراصل صحافتی آزادی کے خلاف بننے والا ایک کالا قانون ہے۔ برطانیہ میں کام کرنے والی پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نمائیندوں نے بھی صحافیوں کے مطالبے کی پرزورحمایت کی۔ مظاہرے میں لوگ کم ہونے پر ملبہ پاکستان ہائی کمیشن پر ڈال دیا گیا اپنے خطابات میں صحافیوں نے اس بات پر بہت دکھ کا اظہار کیا کہ ہائی کمیشن نے صحافیوں کو فون کر کے مظاہرے میں شرکت سے روکا ہے۔ کچھ نے تو جوشِ خطابت میں ہائی کمیشن کو متنبہ بھی کر دیا کہ اگر صحافیوں کو ڈرانے کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا، تو صحافی برادری ایک احتجاج ہائی کمیشن کے خلاف بھی کرے گی۔ میرا ایمان ہے کہ فون کالز سے وہ صحافی کبھی نہیں ڈرتا کہ جس کا دامن صاف ہو، لیکن صحافت کے نام پر ہائی کمیشن کی ایجنٹی کرنے والے یقینا ایک فون کال پر ہی ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس صحافتی شعلہ بیانی کی مصلحت بِینی پر بہت حیرانی ہوئی کہ کسی ایک مقرر نے بھی مظاہرے میں شرکت سے روکنے والے اہلکار کا نام نہیں لیا۔ صحافی دوستو، فون ہائی کمیشن کی عمارت نے کیے ہیں اور نہ ہی ہائی کمشنر نے، جس نے فون کیے اور واقعی اگر کئے تو اس کا نام سرگوشیوں کی بجائے بہ بانگِ دہل لینے سے ہی اصلاحِ احوال ہو سکتی ہے۔ نامنظور نا منظور کے فلک شگاف نعروں کے بیچ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی پریس سیکریٹری سے یہی پوچھ لیتا کہ حضور، ہائی کمیشن میں ہر اہلکار کی تعیناتی تین سے چار سال کے لیے ہوتی ہے، آپ پچھلے دس سالوں سے کن خدمات کے صلے میں یہاں براجمان ہیں؟ وہ لوگ جنہوں نے ہائی کمیشن میں نوکری اور شاہانہ مراعات کے طفیل ملکی خزانے سے لاکھوں پاونڈز ہی نہیں کمائے، بلکہ پاکستان کی وجہ سے برطانیہ میں اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا امیگریشن سٹیٹس بھی حاصل کیا۔ یہ سوال پوچھ کر کہ سرکار، آپ ایک دہائی سے پریس کے ساتھ جڑے ہیں، آپ کی یہاں کیا خدمات ہیں، میں نے تو فرضِ کفایہ ادا کر دیا اور مجھے موصوف نے جواب دیا کہ وزارتِ اطلاعات اسلام آباد سے پوچھو۔ عرض کر دوں کہ میں اب صرف وزارتِ اطلاعات ہی نہیں، وزارتِ خارجہ سے بھی پوچھوں گا۔قصہ مختصر، دوستو، جب تک صحافی مصلحت کا شکار رہیں گے، وقتی فوائد کے لیے آنکھیں موندتے رہیں گے، صحافتی آزادی کے لیے کی جانے والی ساری جدوجہد یونہی رائیگاں ہوتی رہے گی۔

وہ صحافی دوست کہ جو اس مظاہرے میں شریک نہ ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شریک بڑی اکثریت ان صحافیوں کی ہے کہ جو نواز شریف کے بیانیے کے حامی ہیں۔ مظاہرے کے عین اگلے روز ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کرنے والے ان صحافیوں نے نواز شریف سے ملاقات کر کے اس مؤقف کو بے شک تقویت بخشی ہے۔ میری دانست میں اس غیر ضروری ملاقات نے کچھ صحافی بزرجمہروں کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا سارا اثر زائل کر دیا ہے۔ان صحافیوں کو میاں صاحب سے ملنا نہیں چاہیے تھا یا پھر یہ ملاقات کچھ وقفے کے بعد ہونی چاہیے تھی۔ بعد ازاں پاکستان پریس کلب برطانیہ کے صدر نے بھی خاکسار کے نقطہ نظر کی تائید کی اور کہا ہم اسی لئے اس مظاہرے میں شامل نہ تھے۔

مسلم لیگ برطانیہ کے ذمے داران اور میاں صاحب کے مصاحبین کو بھی چاہئے کہ وہ صرف اپنے پسندیدہ صحافیوں کو بلا کرصحافتی برادری کو مزید تقسیم مت کریں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے تنقید بہتری کا پیش خیمہ بنتی ہے، لیکن اگر آپ صحافیوں کو ایک نظر سے دیکھنے کی بجائے ذاتی پسند و ناپسند کے پیمانے پر برتیں گے، تو اس سے صحافتی برادری کا بھی نقصان ہو گا اور آپ کی سیاست کا بھی۔ بہت سے ایسے صحافی ہیں جو ووٹ کی عزت پر یقین رکھتے ہیں، مگر چند صحافیوں کی طرف آپ کے جھکاؤ کی وجہ سے آپ کے بیانیے کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ سیاست دان کو وسیع ظرف کا مالک ہونا چاہیے کہ جو اپنے ناقدین سے ملاقات سے نہ گھبرائے، دوریاں کم کرے اور بڑھی خلیجیں پاٹے۔

50% LikesVS
50% Dislikes