شدت پسندی – Kashmir Link London

شدت پسندی

دوہرا عالمی معیار غیرمنفقانہ کردار سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر جنہں دنیا “بگ لئیریعنی کذاب اعظم “کے نام سے زیادہ جانتی اور پہچانتی ہےنے خبر دار کیا ہے کہ دو دہائیوں تک مسلم انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے باوجود آج بھی پرامن دنیا کیلئے یہی سب سے بڑا خطرہ ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نائن الیون کی بیسویں برسی کے سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب میں کیا جسکا اہتمام برطانوی تھنک ٹینک روسی نے کیا تھا حیرت اور افسوس کا مقام کہ دنیا جان تو چکی ہے لیکن ماننے سے پھر بھی عاری ومنکر کہ دنیا میں شدت پسندی کیوں پھیلتی ہے اور اسکا ذمدار کون ہے اک حقدار کو جب اسکا حق نہیں ملے گا اسکی آ واز کو جب دبایا جاے گا اسکی آ زادی پر اگر ڈاکہ ڈالا جاے گا اس پر من پسند ٹولہ مسلط کرکے اسکی راے کو دبایا جاے گا ،اسکے وسائل کو جب لوٹا جاےگا تو شدت پسندی اور انتہا پسندی اگرنہیں پھیلے گی تو کیا سریلی راگنی الاپےگی ؟ااور یہ سب اک مخصوص ٹولے کی اختراع واصطلاح اور اک مکروہ ہتھکنڈہ ہے ،جواس کو اپنے خفیہ مذموم مقاصد کیلے استعمال کرتا بھی ہے ، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار جب اک کشمیری کو اس کا پیدائشی حق نہیں دیگا مفاد پرست ٹولہ اس سے آ نکھیں چرائے گا اک فلسطینی کہ حق پر ڈاکہ ڈالا جاے گا دنیا بھر میں کہیں بھی ظلم اک مسلم کے ساتھ ہی زیادہ ظلم روا ر کھاجاے گا ،اور اس کی آواز کوجب دبایا اور سنا نہیں جاے گا بلکہ اس پر سوار مافیا کو انکی شنوایئ اور دنیا کے پروردہ امن اور سلامتی کے ضامنوں کوجب وکالت سے روکاتا جائگا تواسکا نتیجہ پھر کیا نکلے گا اورقہر تو یہ کہ اس پر الزام لگاکر اسکے چین سکون کو برباد کر کہ رکھ دیا جاے گا تو وہ شدت پسند نہیں بنے گا تو اپ ہی بتاے یہ کیا بنے گا؟ اورپھر یہ شدت پسندی اسے ا خرمسلم میں کیوں نظر آتی ہے ؟اسکی سوچ فکر انڈیا اور کشمیر میں مودی کے وہ “موذی عزائم ظلم اور سوچ دیکھنے سے عاری تو بولنے سے قاصر کیوں ہے “وہ فلسطین میں اسرائیلی نتُن یاھو کےمظالم کو بینقاب کرنے سے مغلوب تو چین میں مسلم کشی پربولنے سے غافل کیوں ہے اسےیہ جبر خواہ بوسنیاہوکہ چیچنیا عراق ہو کہ افغانستان شیششان ہو کہ چین کے یمن برماہو کہ شام ادھر یہ ظلم اور طوفان بدتمیزی نطر آ خر کیوں نہیں دُکھایی اورسنائی دیتا اور خاموش کی وجہ آخر کیاہے؟ جو سمجھائی اور شنواہی کاحق بھی نہیں رکھتی تو تنگ آمد بجنگ آمد والا معاملہ

محسن انسانیت رہبر شریعت و حقیقت نے جب کفر کی تاریکیوں میں بھی توحید اور محبت کے چراغ منور کیے تو راز بھی بتلا ڈالا کہ تم میں بہترین وہ جس سے دوسروں کو نفع پہنچے اور مزید کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہ سکیں جسکے داعی اک کوڑا پھینکے والی کو بھی اپنے حسن واخلاق اور کردار سے قائل کر لیتے ہیں تو اپنے چہتے چچا کا کلیجہ چھبانے والی کومعافی لیکن جب اسکی حقوق پر ڈاکہ اسکی راے پر ناکہ اسکے عمل پر چاکہ اسکی سوچ پر شکوہ و شاکہ اسکی امداد پر تاکہ اور ناکہ اسکی حوصلہ افزائی اور رہنمائی نہیں اسکی راے کونظر انداز کر کے اسکا گلا دبایا جاے گا تو پھ ان سےکس منہ سے وہ امن وخیر کی توقع کی جاسکتی ہے امن کی راگنی کا الارم الاپتےتوہیں لیکن عمل کرنے میں اسطرح نظر نہیں آ تےیہ امن کے دعویدار وٹھیکیدار افغانستان کے سکون کو برباد کرنے میں ذرہ دیر نہ لگاتے اور اپنے گھناونے کردار پر ذرہ افسردہ بھی نہ ہوتےاور نہ شرمندہ پھر ستم یہ کہ وہ انکے رویوں پر نظر رکھیں گے کا عندیہ دیں لیکن اپنے روئیںوں کو بھول جائیں انکو اپنا مکروہ چہرہ اور ملعون روئیے نظر نہ آتے ہوں اور دوسروں کوڈ یک ٹیٹ کرتے ہوں یہ دوہریے روے اور انکی دوغلی پالیسی ہی جڑ بھی ہے اورر وجہ موجب بھی تمام ان مسائل معاملات کی انکو ان کے حق دے دو کوئی خطرہ نہیں رئیگاجو ان کا حق نہ ملنے کے باعث جنم بھی دیتی ہے تو پروان بھی چڑھاتی ہے اورظلم بھی کرو اور ان سے آہ بھئی نہ کرو کی تلقین کہاں کا انصاف ہے ؟اک حق سے محروم تازہ مثال فئٹیف ہو کہ ریڈ کسٹ دو متضاد رویے و پیمانے کا انصاف انڈیا کو ریڈ لسٹ سے نکال دو لیکن پاکستان کو شامل رکھو اک مسئلہ دو پیمانے پھر امن اور خیر کی توقع ہی نہیں نظر رکھنے کی دھمکی
بقول اکبر الہ آ بادی

اہم آ ہ بھی کریں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کر یں تو چرچا نہیں ہوتا

امن کے داعیوں اور جھوٹے دعویداروں سے صرف گزارش کہ اگر وہ واقعی امن چاہتیے ہیں تو بڑا آ سان حل ہے مرے جیسے طالبعلم کی نظر میں بھی کہ دنیا کے داخلی معاملات میں مداخلت سے باز آ جاؤ انکے وسائلُ لوٹنے سےاجتناب کر لو،ان پر من پسند ٹولے نافذ کرنے کے انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے ہاتھ کھنچ لو ،اپنےزد کی روش چھوڑ کر انکی راے کو صدق دل سے مان لو ،انکے حقوق پر ڈاکہ زنی اور انکو ڈکٹیٹ کرنا کو چھوڑ دو ،انکو جینے دو انکی خواہیش اور خوشی مذہبی اور معاشرتی آ زادی کےساتھ اور خود کو بھی زندہ رکھو شان خودی اور عزت وقارکے ساتھ ،کسی دوسرے کی آ واز کودباو نہ توجبر طاقت اور چیرہ دستیوں کے ساتھ، اور کسی کی خواہش کا گلا نہ گھونٹ دو اپنے مفاد وانا کی خاطر، اتنا مجبور مغلوب بھی نہ کرو کہ وہ جان و زندگی سے جب تنگ ہوجاے تو تمھاری جان کے پھر درپے ہونا اسکی مجبوری بنُ جاے ،جمہوریت ہو کہ خلافت شہنشائیت ہو کہ اشتراکیت شورائیت ہو کہ بادشاہت وہ اگر خوش ہیں تو تم اپنی سوچ کو ان پرمسلط نہ کرو اپنی مفاد و انا کی خاطر ،اور نہ انکے حق پر ڈاکہ مارو اپنی مستی اور غرور گھمنڈ کے ساتھ انکے لٹیروں کو اپنے ملک میں تحفظ رہائش اور پذیرائی دینےسے باز آ جاؤ ،انکی لوٹ مار کو اپنے بنکوں میں تحفظ دینا چھوڑ دو ،انکی نسلوں کی آ بیاری اور کی سرداری پر راہداری دمداری و شناوری اور چاکری اپنے مقاصد کیلے استعمال کرنا اورانکے ذریعے انکےعوامی وملکی حقوق پر ڈاکہ مارنےسے باز آ جاؤ ،خود بھی جیو اور دنیا کو بھی جینے دو امن اور عزت کے ساتھ نہ شدت پسندی کا ڈر ہوگا نہ انتہا پسندی کا خوف رہیگا، اگر جینے نہئیں دوگے توپھر جینے کی تمنا اک سہانا خواب ہی ریگا حقیقت نہیں بن سکے گا حق بات اگر کہہ نہیں سکتے تو غلط کی وکالت مت کرو منافقت کے ساتھ دنیا کو شدت پسندی اور انتہا پسندی کا راہ دکھلانیے والےدو شیطان انسانیت کے بڑے قاتلُ اور دنیاے امن کیلےدشمن اور مستقبل وفلاح انسانیت کے راہزن بلئیر اور بش اور انکی ملعون سوچ جو اپنے مفاد ات کیلے اسے من پسند لبادے پہنا کر دنیا کی سوچوں کو مغلوب کرنے کے درپے ہے لیکن اپنی غلطی ماننے سے آج بھی منکر، لاکھوں جانوں کا قتل کرکے بھی شدت پسندی کیوں پھیلتی ہے دیکھنے سے قاصر و غافل نہیں مکار و شاطرا ورملعون ہے انکی تعلیم سوچ اور طرزفکر جو اک فتنہ ہے اور یہ فتنہ تمام مسائل کی جڑ فکر جس پر مرشد ملت حکیم الامت نے فرمایا

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کیلے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

ضرورت اس امر کی ہےکہ دنیا اور اسکے امن کے نام نہاد ٹھیکیدار اگر واقعی امن چاہتے اور انکو اپنی یا دنیا سلامتی عزیز ہے تو اسکے راستے کی حماقتیں منافقتیں اورخباثتیں ااوررکاوٹیں بنناچھوڑ دیں اور حق داروں تک اس کا حق پہنچنے دیں اسکو اجاڑنےوالے اسکے تعمیر نو میں شامل ہوکر غلطی کا ازالہ اور اپنے گناھوں اور غلطی کا ازالہ تتلافی کرئیں،دوھرے معیار اور عالمی کردار وہ منفقانہ کردا ہی مسئائل کی وہ جڑہے جو شدت پسندی اورہشت گردی کو دعوت دیتا اوراس پریہ گناہ تھونپتاہےانکے اپنے ملک میں فتح حاصل کرنے پر روتا بھی ہی اوراس پر ناحق قبضہ کرکے اتنا افسردہ نہیں ہوتاجتناانکے حصول پر اورنہ ہی کشمیر پر انڈیااور فلسطین پراسرائیل کا ناجائز اورنا حق قبضہ انہیں سنائی اور دکھایی بھی ہے نہ موذی سوچ اور یا ھو فکر کی ان کو پرواہ ہوتی ہے لیکن فاتح طالبان کی انکو تسلیم کرنے سے انکو مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے سے روکتی ہی نہیں دنیا کو بھی نہ تسلیم کا درس دیتی ہے وہاں اہبسلو ٹلی نا ٹ کو توعین اور گستاخی خیال ہونے پر سیخ پا بھی ہوتی ہے اور اپنے ملعون رویوں اور گھٹیا سوچوں کےساتھ اس سے بھی بینقاب ہوتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes