آزادی کا چراغ جلتا رہنا چاہئے

تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ کمزور قومیں ایک لمبی جدو جہد سے گزرتی ہیں،اگر وہ اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں تو عمل پیہم سے منزل تک کا سفر کٹھن ضرور ہوتا ہے مگر بکھرنے کا عمل بے حد سست یا تقریباً ختم ہی ہو جاتا ہے۔

کشمیری دنیا کے مختلف خطوں میں آباد ہیں اور اپنی مرغزار وادی سے ایک مضبوط رشتہ جوڑے ہوئے ہیں،بیرون کشمیر بسنے والے کشمیریوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے وہ ہر قانونی،سیاسی و معاشی کوشش میں شریک ہوں جس سے آزادی کی جانب قدم اٹھتے ہوں۔

کشمیریوں کو ایک چیز تو پلے باندھ لینی چاہئے کہ آزادی کی تحریکوں اور جدو جہد میں معاشی مضبوطی کا بہت نمایاں حصہ ہوتا ہے۔اگر اس کوشش میں حصہ ڈالتے رہنا چاہتے ہیں تو اپنے مضبوط معاشی پلیٹ فارم قائم کریں،آپس میں مضبوط سیاسی روابط کو قائم رکھیں اور وادی میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ جڑے رہیں،تعلیم خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی پر دسترس بنائیں،دنیا میں جہاں کہیں انہیں موقع ملتا ہے اپنے لوگوں کو پرموٹ کریں،اپنی آمدنی کا ایک حصہ وادی میں بسنے والے لوگوں کی مدد کیلئے مختص کریں۔جو لوگ کشمیر کی حد بندی لکیر کے دونوں طرف سے بسے ہوئے ہیں اور اپنی سر زمین اور شناخت کو چھوڑنے کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت رضا مند نہیں ہیں۔

دنیا میں ظلم سہنے کی حالیہ تاریخ میں فلسطینیوں کا کوئی ثانی نہیں،انہوں نے جس قدر صبر اور بند حو صلہ سے ایک بد ترین اور بے رحم،انسانیت کش قوم کا سامنا کیا ہے اس کی مثال پچھلی ایک صدی میں نہیں ملتی۔حالیہ تاریخ تو انہیں اس حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔انکی زمین ناجائز طریقے سے زور و جبر سے ہتھیا لی گئی انکے باغ کاٹ دیئے گئے کاروبار تباہ کر دیئے گئے۔گھروں پر بلا اشتعال بمباری کی گئی۔انہیں اس طرح تقسیم کیا گیا کہ فلسطین کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر توہین آمیز تلاشی سے گزرنا پڑتا ہے۔کچھ ایسا ہی ملتا جلتا حال ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں آباد کشمیریوں کا ہے،ہندوستانی انتظامیہ میں خاص طور پر نیم فوجی دستے اور مقبوضہ کشمیر میں تعینات ملٹری ٹروپس اسی طرح کا توہین آمیز سلوک روا رکھتے ہیں۔

ہندوئوں کی سوچ کی پستی سچر کمیشن رپورٹ میں بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہے جہاں مسلمانوں کی بچیوں کے ساتھ جو کہ قرآن پاک کی تعلیم کے حصول میں رواں تھی انکا اجتماعی ریپ کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں مسلمان خواتین کے ساتھ ایسا ہی سلوک پون صدی سے روا رکھا جا رہا ہے۔جس تذلیل سے انہیں گزارا جا رہا ہے ایسا ظلم کسی دوسری قوم کے ساتھ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں نہیں روا رکھا گیا۔ہندوستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے لوگ بھی مشکلات کا شکار ہیں لیکن ہندوئوں کو مسلمانوں کی ہر روایت،ثقافت اور مذہبی تعلیمات سے سخت بیر ہے،گو کہ ہندوستان کے اپنے چھوٹے بڑے ہمسایوں کے ساتھ مخاصمانہ تعلقات ہیں جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہمسایوں کے ساتھ چھیڑ خوانی کی صورت میں کرتا رہتا ہے۔

مگر مسلمان اور انکی شناخت خاص طور پر انکے نشانے پر ہے۔مسلمانوں کیلئے اپنے روٹین کے مذہبی فرائض انجام دینا بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ہندوستان کے مشہور مذہبی ستارے بھی اس مخاصمانہ رویے سے مبرا نہیں ہیں۔شاہ رخ خان جیسے چوٹی کے اداکار نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا مندر بھی بنا رکھا ہے۔تقریباً تمام ہی بڑے نامی گرامی مسلمان اداکار و اداکاروں نے ہندو سے شادی کر رکھی ہے جو کہ شریعاً جائز نہیں مگر تاریخ کے جبر سے انحراف کرنا کس قدر مشکل ہے متذکرہ بالا مثال سے اسکا پیہم ثبوت دیکھا جا سکتا ہے۔اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو روشنی کی صبح طلوع ہو کر رہے گی۔بظاہر نظر آنے والی موہوم امید آزادی کے پر امید سورج کی طلوع کی صورت میں نمودار ہو گی۔آزادی کاچراغ جلتے رہنا چاہئے،چاہے اس کے لئے خون دینا پڑے یا آنسو کا تیل۔

اپنا تبصرہ بھیجیں