اخلاقیات و کردار معاشرے کا حسن

کسی قوم و ملک میں جب بد اخلاقی،بد کرداری اور ناانصافی اپنے عروج پر پہنچ جائے تو پھر اگر اللہ تعالیٰ کے حضور قوم سربسجود ہو کر گر گرا کر توبہ و استغفار نہ کرے تو سمجھ لیں کہ ملک و قوم کی بربادی ہی بربادی ہے۔ماہ رمضان المبارک میں ہمارے لیڈران اپنی قوم کو کیا سبق دے رہے ہیں؟

دنیا میں صرف اور صرف باکردار،بااخلاق اور باادب قوموں نے ترقی کی ہےجس سے معاشرے میں بھی خوشحالی و شائستگی کی فضاء رنگ لاتی ہے۔ جو لیڈران اپنی قوم کو بد اخلاقی، بے ادبی،فساد پھیلانے پر برپا،دوسروں کو گالیاں دینا،جھوٹ بولنا،حقارت و نفرت،تکبر و گھمنڈ کا سبق دیتے ہیں اور پھر عوامی جلسوں میں یہ کہتے پھریں کہ آپ ایک قوم بن گئے ہیں۔یہ قوم و ملک کی تباہی وبربادی کا پیغام ہے۔

جو لیڈران اپنی قوم کو فوج،عدلیہ، سرکاری اداروں کو گالیاں، بل ادا نہ کرنے،ٹیکس ادا نہ کرنے،زدمبادلہ نہ بھیجنے،جلا دو،مار دو،پکڑ لو کاسبق دیتے ہوں تو وہ قوم و ملک کے دشمن تو ہو سکتے ہیں لیکن دوست کبھی بھی نہیں ہو سکتے۔

یاد رکھیں،اخلاق کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،اخلاق دنیا کے ہر کونے اور ہر معاشرے و مذاہب میں مشترکہ باب کی مانند ہے۔جو ہماری قوم کو بد اخلاقی کا سبق دیا گیا ہے یا دیا جا رہا ہے اس سے ملک بگاڑ و بربادی کے دیمک کی طرح کھائے جا رہا ہے-

اخلاق و ادب سے انسانی شخصیت کی پہچان اور وقار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جس قوم میں اچھا کردار،اخلاق اور ادب نہیں پایا جاتا اس معاشرے میں کبھی بھی رواداری،باہمی بھائی چارگی،اخوت و صلح جوئی پروان نہیں چڑھ سکتی۔

ایسی قومیں اور ایسے معاشرے صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتے ہیں۔اخلاقیات سے ہی انسان و حیوانات میں تمیز کی جا سکتی ہے۔انسان کی عقلی و ذہنی قوت جب تک اسکے اخلاقی و عاجزی رویے کے مطابق کام کرتی ہے تو اس کے تمام معاملات زندگی ٹھیک چلتے ہیں۔اور جب اس کی عقل و ذہنی قوت پر انا و تکبر کا غلبہ چھا جائے تو پھر رسوائی و ذلت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

اب آ جائیں مسلمانیت پر” ہم مسلمانیت کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں لیکن ہمارا اخلاق کیا مسلمان والا ہے؟ حدیث مبارکہ ہے” کہ تم میں بہتر وہ ہے جو تم میں اخلاق کے اعتبار سے بہتر ہے”

بدقسمتی سے ایسے لیڈران نے ملک و قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے-قوم بنانے کے دعوے داروں نے معاشرے اور قوم کو دنیا میں شرمندگی و رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا- اخلاقیات اور تہذیب و تمدن سے قومیں بنتی ہیں۔ بد اخلاقی،بد کرداری،جھوٹ و فریب،ناانصافی سے قوم و معاشرے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں