میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی – Kashmir Link London

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

زندگی بلا شبہ ایک عطیہ اور تحفہ خداوندی تو ہے ہی ہے،وہاں موت کی امانت بھی ہے ،اور اس امانت کو انسان اگر اس کے خالق ومالک اور امین کے تقاضوں کے مطابق اس کوسپرد کردے تو اس نے گویا زندگی کا مقصد پورااور راز پا لیا ،اور جس نے یہ مقصد اورراز پالیااسے دنیا اور آخرت کا گویا خزانہ مل گیا ، اورمرا رب بھی یہ کرم بھی اپنے خاص بندوں پر ہی کرتا ہی ہے ،تو وہاں اس کے راز اور لذت سے آشنا بھی انہیں تو اس کے مقصد سےبھی سرخرو بھی انہوں کوہی کرتاہے ،اور پھر اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد یعنی اس کی رضا اور رب کی خوشنودی ہی ٹھرتا ہے ،زنگدگی بلا شبہ مومن کیلے تو ایک امتحان اور صبر کی آ مجگاہ ہے ،وہ اسے بسر بھی کرتا ہےتو بڑی دیانت داری سے ،اور بڑی ذمہ داری سے آگے اگر بڑھتا بھی ہےتو بڑا حساس اور محتاط ہوکر ، سوچ سوچ کر جہاں قدم بھی رکھتا ہے تو پھونک پھونک کرچلتا بھی ہے اس کا رجوع خشوع چلنا پھرنا بولنا سوناجاگنا گویا زندگی کاہر پہلو اس کے رضا کی خاطر وقف ہوجاتا ہے بقول شاعر

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلمان میں اسی لئے نمازی

دنیامافیہا کی ہر ذی روح نے فنا ہونا اور موت کا ذائقہ چکھنا ہے، مرے رب کے سواےہر ذی روح نے فنا ہونااور کل نفس ذائقتہُ الموت سے ہمکنارہونا ہے یہ ہمارا جہاں اعتقاد ہے تو وہاں یقین بھی، لیکن کچھ لوگ مرنے کے باوجود بھی زندہ رہتے ہیں، یا یوں کہہ لیجے کہ ان کا کردار کارنامےان کو مرنے نہیں دیتا ، وہ لوگ جوکردار کی عظمت کو جو رسوا نہ ہونے دیں دھوکے تو کھائیں لیکن دھوکہ نہ دیں جن کی زندگی کا شیوہ ہو،اور دوسروں کودھوکوں سے بچانا جن کی زندگی کا دستور ہو، ان کی کفالت کرناجو اپنا فرض سمجھتے ہوں ،اور عین وقت پر صیح مشورہ اور درست راےسے نوازنےکو اپنی ایک ذمداری بلکہ قرض منصبی خیال کرتے ہوں ، تووہاں گناہ سے انہیں بچانا اپنی زندگی کا فرض اور کفالت کو اپنا نسب العین سمجھتے ہوں لیکن کچھ زندہ ہونے کے باجود زندہ تو نہیں بلکہ مردوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں ،جیتے تو ہیں لیکن دھرتی پر بوجھ بن کر ، عزیز اقربا کے لیے عذاب بن کر اورقوم قبیلہ کیلے مصیبت بن کر ،لوگ ان کی موت کے دعاہئں بھی کرتے ہیں باری تعالی سے درخواست ہے کہ وہ ایسی منحوس زندگیوں ہمیں بچاےاور زندگی کا مقصد سمجھنے کی جہاں توفیق اور اس کی لذت سے آگاہ اور مقصد سے آ شناء بھی کرے ،کچھ کی زندگی کے ساتھ قبریں بھی مشعل راہ بن جایا کرتی ہیں ،ہمیں باری تعالی سی دعا بھی کرنی چاہیےاور اس کے لیے کوشش بھی کے وہ ہمیں ذلت کی زندگی سی بچائے، اور عزت کی دولت کے نشےسے توفہم ولذت اور دولت کی قیمت سے آشنا کر کے اس کے لیے تگ و دو بھی کرنےکی توفیق دے
کسی دانا کا قول ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہوتی ہے ،ذی روح میں جانور بھی آ تا اور انسان بھی ، اور اس انسان کی زندگی میں بنیادی فرق قرب اور کرداراوراخلاق اطوارکا ہوتا ھے ،ایک اپنی ذات اور اولاد کے لئے زندہ رہتا ھے تو دوسرا اپنے قبائل قوم ملک اور امت کیلے بھی ،یہ اس کی سوچ فکر اور فہم پر منحصر ہے کے وہ کتنی وسیع بھی ھے تو نفیس بھی کتنی ،ارشاد باری تعالی ہے کہ باپ اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر چیز دیتا ہے وہ اچھی تعلیم اور تربیت ہے اور مرے والدین محترم مجھ اکثر اس کی تاکید بھی کیا کرتے تھےکہ زندگی کا حق جہاں سمجھوتو اسے ادا بھی کرو،جیو تو ملک اور قوم کیلےمخصوص ادا کے ساتھ بھی تاکہ زندگی کا قرض ادا ہو جاے، اوراس کوایک قرض حسنہ سمجھ کرلٹایا بھی کرو۔
زندگی کا تصور آ ج کے اس ترقی یافتہ دور میں فقط ایک ڈگری کا اظہار اور دولت کے حصول تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ، جبکہ تعلیم کا بنیادی مقصد کردار کی عظمت کی تعمیر ہوتا ہے اور کردار واخلاق کی عظمت ہی سے وہ اپنے آ پکو اس معاشرے کا جہاں ایک عظیم فرد بھی بناتا ہے ،جو جہاں اس کو فرق کے ذریعے اس کو سوسائٹی میں ممتاز بھی کرتی ہے ،تو وہاں خود مختار بھی بناتی ہے اور شعور کی دولت کے زیورسے مالا مال بھی ،اور نفس امارہ کے خلاف اس کا جہاد ہی اس کو زندگی کی دولت سے جہاں آ شناء تو وہاں اپنے فرض اور مقاصدسے بھی آ گاہ کرتا ہے ،اور زندگی کا ایک کامیاب فرد بناکرملک قوم اور معاشرے کا فرد بناکرہادی کائنات کے اس تصور کر غمازی کرتا بھی کرتا ہے ،اوررب کائنات کے حکم کی تعمیل بھی ،اور انسانیت کے مشن کی تکمیل بھی، جسکے لیے انسانی حقوق کے نام نہادعلمبردار چارٹر بنانے میں جہاں مدتیں صرف کرتے ہیں، تو امن ٹہیکدارجنگیں بھی لڑنےمیں ذرہ دیر بھی نہیں لگاتے ہیں اور بھیک بھی مانگنے وہاں دھوکہ بھی دیتے اور جھوٹ سے گریز اور دریغ تک نہیں کرتےدونوں سے اپنےناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے ،اور پھر بھی اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
محض اس لیے کے ان کی نیتوں کا فتور ان کے لے راستے کی رکاوٹ ہوتا ہے ،جو اس کا شعور بھی اگرچہ تو رکھتے لیکن اس کو بدلنے سے پھر بھی باز فقط اس لیے نہں آتے کہ ان کا مقصد انسانیت کی فلاح نہں ذات اور نفس کی نمو ہوتا ہے ،اور ذات و نفس کی نمو میں وہ دنیا کی تباہی کو جہاں اپنا حق بھی تو وہاں انسانیت اورانکی مفلوج جمہوریت کا قرض بھی تصور کرتے ہیں ،اور اس کی ادائیگی میں نہ تو ضمیر ٹوکتا ہے ،نہ نفس سوال کرتا ہے ،صرف ایک مقصد کہ تیل کیسے حاصل کرنا اور ’’رول دی ورلڈ‘‘ کیسے کرناہے ایک ہی تقاضہ بشرئیت اورانسانیت خیال کرتا ہے، اس کے لیے دنیا کو کیا قیمت ادا کرنا پڑجاے گی اس سے قطعاکوہی سروکار نہیں ،صرف اس کی ضرورت پوری ہونی چاہیےدنیا کا یہ فرض بھی ہے تو قرض بھی اور اس چکانے کی ذمداری بھی فقط ان ہی کی ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے دوسروں کو نفع پہنچے ،اور دوسروں کو نفع دینا اگرچہ مشکل ضرور ہے ،لیکن ناممکن بھی ہر گز نہں، وہاں اگر مسرور ہے تو پرلطف بھی ،اور اس کا لطف ناقابل بیان ہے تو ناقابل یقین بھی ،مجھے خوشی ہے کہ میں نے والد محترم کے ساتھ ملکر جس مشن کا آ غاز کیا تھا وہ بھر پور آ گے بڑھا، اور مستفید بھی ہوا، وہاں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں بھی آ پ کے مشوروں سے مستفید ہو کر اس عظیم مقصد کو جاری رکھ پاونگا ،اور آ پ کےنیک مشورے اسے اسی طرح مستفید کرتے رہینگے، اور ہم اس اس عظیم مقصد کو آگے بڑھاتے رہینگے میرا مقصد اس کی تشہیر ہرگز نہں ،صرف آپکا تعاون مقصود ہے ،اور اس تعاون کے باعث ہم آگے بڑھیں گے تعاون میں اپ کے نیک مشورے اور تجاویز جہاں زاد راہ کا کام دیتی ہیں وہاں ہمیں معاشرتی آ لاشوں سے بھی بچاتی ہیں اور اگر مدد نہ ہوسکے تو اس کی مخالفت بھی نہ کریں گے ،ارشاد خدا وندی ہے کہ الدنیا مزرعتہ آخرہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ،اس کھیتی کو اگر ہم تباھی سے بچانا ہے تو یہ لمحے ہمارے لیے قیمتی بھی تو نادر بھی ہیں اور اس کو پانےکیلےہمیں اپنی ذاتی انا کو مٹانا ہوگا وہاں کھیتی کوبھی تباھی سے اگر بچانا ہے تووقت پر ہل بھی یعنی اب چلانا ہوگا اور فقط اپنے رب کی خوشنودی کو دیکھنا اور حاصل کرنا ہوگا تب ہم اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہونگے اور کامران بھی۔
بقول شاعر

مٹا دے اپنی ہستی کواگر دنیا میں مرتبہ چاہیے
کہ دانہ خاک میں مل کے گل و گلزار ہوتا ہے

50% LikesVS
50% Dislikes