‎پی ڈی ایم تحریک کا اصل نشانہ – Kashmir Link London

‎پی ڈی ایم تحریک کا اصل نشانہ

‎برطانیہ میں اس وقت دو دسمبر تک مکمل لاک ڈاؤن ہے کسی دوسرے کے گھر میں جانے پر پابندی ہے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک ہزار پونڈ جرمانے ہو رہے ہیں قوم بذاتخود سختی سے حکومت کا ساتھ دے رہی ہے اور حکومت اپنے اقدامات پر عملدرآمد کروارہی ہے  کرونا ایک عالمی وباء ہے جس سے لاکھوں افراد اس وباء سے لقمہ اجل بن گئے ہیں یا فوت ہوچکے ہیں سائنسدان ڈاکٹرز چیخ چیخ کر دنیا کو بتارہے ہیں کہ کرونا کی دوسری لہر آچکی ہے لیکن مجال ہے کہ پاکستان کی عوام اور اپوزیشن جماعتیں اس وباء کو سنجیدہ نہیں   لے رہی  پی -ڈی -ایم کے جلسوں کا اصلی ہدف ملک میں انارکی پھیلا کر اپنے لئے منفعت حاصل کرنا ہے بلاول زرداری اور مریم نواز سمیت مولانا فضل الرحمن عوام کو گمراہ کرکے مشتعل کر رہے ہیں اور جھوٹے خواب دکھا رہے ہیں کہ حکومت  جنوری تک  گھر چلی جائے گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے چیخنے اور چلانے کا کوئی نتیجہ نکلتا تو گلگت بلتستان میں کبھی یہ پٹ نہ جاتے مریم نواز کا کردار پاکستان کی سیاست میں کیا ہے یہی کہ وہ میاں نواز شریف کی بیٹی ہیں اور لکھ کر تقریر کرلیتی ہیں جبکہ بلاول زرداری اپنی عمر سے بڑی بڑی باتیں کررہا ہوتا ہے کہ لوگ اس کو سنجیدہ ہی نہیں لیتے ہیں مولانا فضل الرحمن کا اپنا کیا کردار ہے یہی کہ وہ اپنے دیوبندی مکتبہ فکر کے چھوتھے دھڑے کے مزہبی پیشوا نما سیاست دان ہیں اور ہمیشہ ہر حکومت سے اپنا حصہ بٹورتے ہیں کشمیر کمیٹی کے سات سال تک چیرمین رہے ہیں انہوں نے کشمیر کے کاز کے لئے کیا کام کیا ہے؟
‎پی ڈی ایم کے پشاور کے حالیہ جلسے میں ان کی تقریر سے پہلے یہ نعرے لگائے گئے اور عمران خان کو نشانہ بنایا جا رہا تھا کہ موددی کا جو یار ہے وہ غدار ہے یعنی عمران خان کو مودی کا یار بنا رہے تھے یہ نعرے اگر کوئی سیاسی لوگ لگائیں تو پھر  بھی کوئی ہضم ہونے والی بات ہے لیکن  مزہب کا لبادہ اوڑھ کر یہ لوگ اس طرح عوام کو بے وقوف بناتے ہیں یاد رہے آزادکشمیر کے  گزشتہ الیکشن مہم میں2015 کو یہی نعرے بلاول نے میاں نوازشریف کے بارے میں لگوائے   پی ڈی ایم کی تحریک کا نشانہ صرف وزیراعظم عمران خان ہے  چونکہ ان کے ہوتے ہوئے ان کی دیگ نہیں پک سکتی اور یہ کسی موجودہ نظام میں دیگ کے چمچے بھی نہیں بن سکتے ان کی تاریخ یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انہوں ایل ایف آو دیا تھا جس سے مشرف کا اقتدار طول پکڑ گیا تھا وزیراعظم عمران خان اگر اقتدار میں نہ ہوں تو یہ پھر اپنے لئے کوئی کھانے پینے کا راستہ نکال لیں
‎یہ اس ملک کی خوش قسمتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان جیسا آدمی اس ملک کو ملا ہے اور یہ اس کو کام کرنے سے روکنے کی ایک تو منصوبہ سازی کررہے ہیں دوسرا مسلسل مبالغہ آرائی پر مبنی تقریروں اور بیانیے جاری کر رہے ہیں آج ستر سالوں کا جو گند ہے وہ عمران خان پر ڈال رہے ہیں کہ اس نےدو سالوں میں  کیوں صاف نہیں کیا ہے بتائیں کس کے پاس جاود کی چھڑی ہے جو اس ملک کے حالات دو سالوں میں ٹھیک کردے ملک قرضوں پر چل رہا ہے مہنگائی عالمی سطح پر کرونا وائرس کی وجہ سے ہے بیرونی ممالک سے سرمایہ کاری پاکستان نہیں آ نہیں رہی ہے
‎ملک میں بے روزگاری، لاقانونیت، ذخیرہ اندوزی کرپشن کا دور دورہ شروع سے ہے معمولات کو ٹھیک کرنے میں وقت درکار ہے اگر آج ان کو حکومت مل جائے تو ان کے پاس وہ کیا حکمت عملی ہے جس سے ملک کے حالات سدھر جائیں گے اگر پاکستان کی بیوروکریسی کو دیکھیں میڈیا کو دیکھیں سب الزامات عمران خان کو دے رہے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں بھائیو بتاو تھانہ اور عدالتی نظام ہی دیکھ لو
‎پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام  وراثت سے ملا ہے کیا عدالتوں کے نظام کو ان حکمرانوں نے ٹھیک کیا ہے انہوں نے تو عدالتوں کے نظام ٹھیک نہیں کیا ہے
‎اب میاں محمد نوازشریف کی والدہ لندن میں انتقال کرگئیں ہیں ماں سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں وہ اس موقع پر پاکستان نہیں جارہے ہیں اگر وہ سچے انقلابی لیڈر ہیں تو جائیں پاکستان میں جاکر حالات کا سامنا کریں جس ملک میں انہوں نے تین بار حکومت کی وزیراعظم عمران خان اکیلا ہے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے کہ وہ اس ملک کا حکمران ہے اس سے پہلے بڑے بڑے خاندانوں سرمایہ کاروں اور موروثی سیاست دانوں کا یہ حق ہوتا تھا لیکن اسی رب العزت اور رب العالمین سے دعا ہے کہ اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہے عمران خان کے ناقدین کے لئے عرض ہے کہ وہ انشاءاللہ اپنی مدت حکومت پوری کریں گے  اور گلگت بلتستان میں جس طرح انکی رسوائی اور شکست ان سازشی عناصر کا مقدر بنی ویسے ہی سینیٹ کے الیکشن میں بھی انکو ناکامی ہوگی اور 2021 میں آزاد کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی جیت کر کپتان کے جھنڈے گاڑھ  دے گی۔
خوشبوؤں کی ملکہ پروین شاکر نے کیا خوب کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‎
سلگ رہا ہے میرا شہر جل رہی ہے ہوا
یہ کیسی آگ ہے جس میں پگھل رہی ہے ہوا

یہ کون باغ میں خنجر بدست پھرتا ہے
یہ کس کے خوف سے چہرہ بدل رہی ہے ہوا

شریک ہوگئی سازش میں کس کے کہنے پر

یہ کس کے قتل پر اب ہاتھ مل رہی ہے ہوا

پرندے سہمے ہوئے ہیں درخت خوفزدہ
یہ کس ارادے سے گھر سے نکل رہی ہے ہوا

50% LikesVS
50% Dislikes