اب کے بارش بھی نئے رنگ کی برسے گی یہاں پر – Kashmir Link London

اب کے بارش بھی نئے رنگ کی برسے گی یہاں پر

قومی پرچم اور قومی ترانہ ، قوموں کی زندگی میں دو چیزوں کی اہمیت تقدس کا درجہ رکھتی ہے۔ ہمیں یاد ہے، سکول کے زمانے سے ہمیں یہی بتایا گیا کہ پرچم کو کبھی گرنے نہ دینا اور جیسے ہی قومی ترانے کی آواز کانوں میں پڑے فوراً احترام میں کھڑے ہوجاؤ۔اس زمانے کی ایک اچھی روایت یہ بھی تھی کہ سینما ہال میں فلم شروع ہونے سے پہلے مکمل قومی ترانہ بجایا جاتا تھا اور تمام تماشائی ترانے کے اختتام تک بالکل خاموش کھڑے رہتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ روایتیں اور رویے ان دیکھے انداز میں تیزی سے بدلتے گئے۔ سینما ہالز میں مکمل ترانے کی بجائے محض چند لمحوں کی دھن سے فارمیلیٹی پوری کی جانے لگی، دھیرے دھیرے لوگوں میں یہ احساس بھی ختم ہوگیا کہ انہیں ترانے کے احترام میں خاموش کھڑے رہنا ہے۔ یقینا تیزی سے زوال پزیر اس صورت حال میں ہمارے فرسودہ تعلیمی نظام کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے جہاں نصاب کی ترتیب سے لے کر نصابی کتب کی اشاعت تک، ہر کام صرف اور صرف قوت کو دھکا دینے کی نیت کے ساتھ کیا جاتا رہا۔ آج سے اڑھتیس برس پہلے ایف اے سیکنڈ ایر میں انگریزی کی جو کتاب میں نے پڑھی، آج میرا بیٹا بھی وہی کتاب کسی معمولی سی تبدیلی کے بغیر پڑھ رہا ہے۔یہی صورت حال بی اے بی ایس سی کے انگریزی کے سلیبس کی بھی ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امدادی کتب اور ٹیسٹ پیپر چھاپنے والے اشاعتی ادارے نصاب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔معلوم نہیں سچ کیا ہے اور حقیقت کیا لیکن ہم اپنے بچوں کو آج بھی اکثر وہ کتابیں پڑھا رہے ہیں جو چالیس برس پہلے ان کے بڑوں نے پڑھی تھیں۔پھر یہ بھی ہے جب تک ایکڑوں میں پھیلے ہوئے سرکاری تعلیمی اداروں کا دور رہا، بہت سی اچھی روایتیں زندہ رہیں، پھروہ وقت آیا کہ ایکڑوں میں پھیلے سرکاری تعلیمی اداروں کی جگہ مرلوں اور چند کنالوں کی کوٹھیوں میں بننے والے تعلیمی اداروں نے لے لی۔حد تو یہ ہے کہ دو کنال کے بنگلوں میں یونیورسٹیاں قائم کردی گئیں اورانویسٹرز خود کو ان یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور ریکٹر کہلوا کر اپنی انا کی تسکین کرنے لگے۔جن اداروں میں طلباء کے بیٹھنے کی مناسب گنجائش نہ ہو ان اداروں میں کیسا ترانہ اور کیسی پرچم کشائی۔مختصر یہ کہ سب کچھ بدل گیا۔قصور ہمارے لکھاریوں کا بھی ہے، مبلغین کا بھی اور اساتذہ کرام کا بھی کہ انہوں ننے اپنی نئی نسل کو یہ سبق ہی نہیں دیا کہ اپنی دھرتی کی کیا حیثیت ہوتی ہے، ملک کی خدمت ماں کی خدمت جیسا مقدس فریضہ ہے اور یہ کہ دھرتی ہی ہماری پہچان کا بنیادی حوالہ ہوتی ہے، ہمارے باہمی اختلافات، پسند نا پسند جو بھی ہو، دنیا ہمیں ہمارے ملک سے ہی پہچانتی ہے۔ملک باوقار تو ہم بھی معتبر۔

ابھی چند روز پہلے یو ٹیوب پر ہمارے قومی ترانے کی ایک انتہائی توہین آمیز پیروڈی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس پیروڈی میں پاکستان، اس کے عوام اور پاکستان سے وابستہ ہر چیز سے نفرت کے اظہار کا اندازہ صرف ایک آخری لائین سے با آسانی کیا جاسکتا ہے، ’لعنت خدائے ذوالجلال‘۔ یقینا ہر دردمند پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ ہمارے قومی ترانے کی پیروڈی کی صورت توہین کرنے والے لوگ کون ہیں اور یہ کہ اس طرح کی تذلیل آمیز کاوش کے مقاصد کیا ہیں۔لیکن اس سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ کہ ہمارے معصوم لوگ سوشل میڈیا پر سوچے سمجھے بغیر مسلسل بنیادوں پر اس پیروڈی کو شیئر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کہ اگر کسی بدبخت نے ہماری قومی ساکھ کو توہین آمیز انداز میں خراب کرنے کی ناپاک جسارت کر ہی لی تو ہم اس کی اس جسارت کو دور دور تک پھیلانے میں اس کے مدد گار بن رہے ہیں۔یہ بات یقیناً نہایت خطرناک ہے کہ ہمارے ہاں ذمے دار ادارے سوشل میڈیا پر اپنا کنٹرول رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔کسی کو معلوم ہی نہیں کہ کیا کہنا ہے اور کیا کہنے کی اجازت نہیں۔ہر شعبہ زندگی کو، ہر عقیدے کو،ہر ادارے کو، ہر شخصیت کو اور ہر فیصلے کو جتنا چاہیں رگید لیں، سوشل میڈیا پر کوئی روک ٹوک نہیں۔

ڈس انفارمیشن کا ایک طوفان ہے جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جعلی سرکاری نوٹیفیکیشنز تک اس دیدہ دلیری کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کردیے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں، خواتین سیاستدانوں کی ایڈیٹڈ تصاویر، جعلی عریاں ویوڈیوز،جعلی فون کال ریکارڈنگز اور پتہ نہیں کیا کیا، آپ کو ہمارے سوشل میڈیا پر سب کچھ ملے گا۔ایک چند لائینوں کی پوسٹ ایسی آگ لگا دیتی ہے جس میں بہت کچھ جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔ دو ماہ قبل حکومت پاکستان نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک نہایت واضح پالیسی متعارف کروائی جس کے تحت ہمارے دینی اکابرین،مقدس شخصیات،ملکی سالمییت،لسانی، علاقائی اور مسلکی اتحاد، قومی سلامتی کے ذمے دار اداروں کی تعظیم، خواتین کی حرمت اور اسی نوعیت کے دیگر حساس موضوعات کے حوالے سے واضح حدود کا تعین کردیا گیا۔لیکن اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے ذمے داروں نے ابھی تک عمل درآمد میں کچھ زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ صورت حال آج گزرے کل کے مقابلے میں اور بھی تیزی سے بربادی کی طرف جارہی ہے۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک نہایت تجربے کار سیاستدان کے گھر سے بجلی کے میٹر اتارے جانے پر ایک طوفان بپا ہے۔ لوگ بن جانے،بنا سمجھے واپڈا، پولیس، حکومت اور معلوم نہیں کس کس کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہیں، رہی سہی کثر ان سیاستدان نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے پوری کردی کہ ان کے گھر کی بجلی کاٹنے میں پاکستان کے انتہائی حساس اداروں کا ہاتھ ہے۔ بات سے بات نکلتی گئی حالانکہ معاملہ صرف اور صرف بل کی عدم ادائیگی کا تھا۔ماضی میں تو واپڈا کی روش یہی رہی ہے کہ کسی غریب آدمی نے ایک ماہ کا تین چار سو روپے کا بل ادا نہیں کیا تو فوراً بجلی کاٹ دی گئی اور طاقت ور لوگوں کے بل لاکھوں روپے تک پہنچ جاتے لیکن کسی کی مجال نہ ہوتی کہ بجلی کاٹ دے۔ اب اگر نظام دھیرے دھیرے بدل رہا ہے، تو ہم سب کو سسٹم کا ساتھ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یقین رکھیں بہت جلد پاکستان میں بھی سٹیٹس کی بنیاد پر حق تلفیوں کا نظام زمین میں دفن ہوجائے گا، بس تھوڑا انتظار۔ہمیں پراپگینڈے سے محتاط رہنا چاہیے۔

یاد رکھیے کہ واٹس ایپ، یو ٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر پر جو کچھ لکھا جاتا ہے یا دکھایا جاتا ہے، لازم نہیں کہ وہ سب سچ بھی ہو۔کرونا کی وباء کے ابتدائی دنوں میں سنا مکی نام کی کسی دیسی جڑی بوٹی کے بارے میں اس قدر غلط پراپگنڈہ کیا گیا کہ لوگوں نے خوف کی حالت میں اندھا دھند اس کا استعمال شروع کردیا۔ مریضوں کو ہونے والا نقصان الگ اور چور بازاری کی شکل میں سہمے ہوئے لوگوں کا مالی استحصال الگ۔یہی صورت حال ہمارے ہاں دیگر معاملات زندگی میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ گھر میں بیٹھا کوئی بھی ان پڑھ جاہل یو ٹیوب کے ذریعے خود کو حکیم یا عالم کے طور پر متعارف کرادے اور لوگوں کا جسمانی یا روحانی علاج شروع کردے تو کیا نتائج سامنے آئیں گے، اندازہ لگانا مشکل نہیں۔اپنے لیے نہ سہی، اپنی آئندہ نسلوں کی ترقی اور سلامتی کے لیے، ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔اسی میں ہماری بقاء بھی ہے اور اسی میں ہماری فلاح بھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes