پاکستان بنانے والا وکیل اور آج کے پاکستانی وکیل – Kashmir Link London

پاکستان بنانے والا وکیل اور آج کے پاکستانی وکیل

وکیل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا ایک مطلب نہیں بلکہ اس کے کئی معنی ہیں، یہ مذکر اور مونث دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے،سولیسٹرLawyer,Solicitorاور ایڈووکیٹ کے ناموں سے بھی وکیل صاحب کو لکھا اور پکارا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں اگر ہم سمجھنے کی کوشش کریں کہ وکلا صاحبان کو اگر مختلف ناموں سے لکھا اور بولا جاتا ہے تو اس کے کیا معنی ہیں۔ جس وقت وکیل کا نام سنیں اور پکاریں تو ہمیں ان کا مطلب بھی سمجھنا چاہئے، محافظ، نگراں، ضامن، نمائندہ، معاون و مددگار، مختار، مجاز، نائب، ماہر قانون، پیروکار، قانون داں، امین، واقف آئین ایک ایسا شخص جو کسی دوسرے شخص کی جگہ نمائندگی کا حق ادا کر رہا ہو اسے وکیل صاحب،سولیسٹر،ایڈووکیٹ اور Lawyerایسے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے چند وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ کر کے نہ صرف اسے شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عدالت عالیہ میں موجود عدالتی سٹاف اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ صاحاحب کے ساتھ بد تمیزی اور بے ادبی بھی کی گئی ہے،وکلا کے اس عظیم کارنامے اور کارکردگی کی گونج ماشااللہ نہ صرف اندرون وطن بلکہ انٹر نیشنل سطح پر بھی وکلا صاحبان کی نیک نامی کے ڈنکے بج رہے ہیں،اس سے پہلے کہ ہم اسلام آباد کے وکلا کے حوالے سے اپنی بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں ہم اس کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ وکلا کا پیشہ وکالت بہت ہی معتبر اور قابل احترام ہے۔

میری فیملی اور دوست احباب کے حلقہ میں میرے بہت سارے دوست وکلا حضرات آزاد کشمیر،پاکستان اور یوکےمیں رہائش پذیر ہیں جو بڑی عزت و احترام کے ساتھ اپنی پریکٹس کر رہے ہیں اپنے پیشہ وارانہ اور ذاتی کردار اور حسن اخلاق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں اسی کردار کی وجہ سے ان کی نیک نامی میں بھی ان کی نمایاں شہرت ہے۔

وکلا حضرات کی اکثریت سے پوری قوم کو کوئی خاص پریشانی اور گلہ شکوہ نہیں ہے لیکن وکلا برادری میں چند ایسے لوگوں کی آمد ہو گئی ہے جن کی وجہ سے وکلا اور وکالت کے پیشہ کی سبکی اور ان کی طرف انگلیاں اٹھ رہی ہیں،جب سے سانحہ اسلام آباد عدالت پر حملہ کا واقعہ ہوا ہے میں نے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایسے پروگرامز دیکھے ہیں جن میں بڑے سینئر تبصرہ اور تجزیہ نگار بڑے سخت الفاظ میں ان وکلا کی مذمت کی ہے جنہوں نے عدالت پر حملہ کیا اور وہاں موجود عدالتی عملہ کے خلاف کارروائی کی۔

سفید پوشاک و لباس پر اگر سیاہ داغ دھبہ لگ جائے تو وہ نمایاں دکھائی دینے لگتا ہے اسی طرح وکلا و برادری کی ایک غالب اکثریت قانون کا احترام کرنے والی ہے لیکن ان کے حلقہ وکالت میں سے ایسے چند لوگ ہیں جنہوں نے پیشہ وکالت کے عزت و احترام کو نشانے پر رکھا ہے اور پاکستان میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں جس سے وکلا برادری اور وکالت کے پیشہ کی بدنامی ہو رہی ہے۔
ایسے حادثات پورے ملک میں نہیں ہو رہے ہیں،آزاد کشمیر،گلگت و بلتستان،بلوچستان کے پی کے اور سندھ میں ایسے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں،پنجاب کے وکلا عدالتوں،ہسپتالوں،سڑکوں اور گلیوں جہاں چاہتے ہیں اور جب چاہتے ہیں لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔سنٹرل پنجاب کا علاقہ اوراس کے وکلا ججز حضرات کو عدالتوں میں جا کر مار پیٹ کرنے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں ایک سابق ریٹائرڈ چیف جسٹس کی کرسی بچانے کیلئے لانگ مارچ ہوا تھا اس چیف جسٹس کے فیصلوں سے ریاست پاکستان کو عالمی عدالتوں کی طرف سے بھاری جرمانے بھی ہوئے ہیں،ان سابق چیف جسٹس صاحب نے اپنے آپ اور اپنی کرسی کو بچانے کیلئے وکلا کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے جس طرح استعمال کیا اس کا خمیازہ آج پوری پاکستانی قوم بھگت رہی ہے،یہ ان سابق چیف جسٹس کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے کہ وکلا عدالتوں اور ججز کو مار پیٹ رہے ہیں ان پر حملہ کر کے عدالتوں اور وکالت کے پیشہ کی توہین کر کے پوری دنیا میں بدنامی کا باعث بن رہے ہیں،کاش وکلا برادری ایسا نہ کرے،سب نہیں لیکن چند وکلا کی وجہ سے بے عزتی ہو رہی ہے۔

ایک عظیم وکیل اور گوہرنایاب جسے دنیا بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے جانتی اور پہنچانتی ہے انہوں نے پاکستان بنایا اور آج اسی پیشہ سے وابسطہ وکلا حضرات اپنی ہی عدالتوں جہاں سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے رزی روٹی کما کر اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں انہیں عدالتوں کو توڑتے اور عدل کی کرسی پر براجمان ججز حضرات کے گریبانوں تک پہنچ رہے ہیں۔اگر وکلا حضرات کوئی اور بڑا کام اور کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتے جیسے کہ محکوم مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے ہی آزاد کرا سکیں تو خدا کیلئے اپنے پیشہ کو بدنام نہ کریں،توڑنے والے نہیں دلوں، معاشرے اور سوسائٹی کو جوڑنے والے بنیں،پاکستان کی تمام بارز وکلا تنظیموں کو چاہئے کہ وہ اس موقع پر تعمیری کردار ادا کریں اور جس طرح قائد اعظمؒ نے ایک وکیل کی حیثیت میں اس دنیا میں اپنا نام پیدا کیا ہے اسی طرح کردار اپنائیں اور جن وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ اورعملہ پرحملہ کیا ہے ان کا ساتھ نہ دیں بلکہ اس کے برعکس اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں تاکہ ان کو سزا مل سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes