چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ – Kashmir Link London

چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ

زمین پر بسنے والے انسان جب آنکھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو فضا میں رنگ برنگے پرندوں کو اڑتے دیکھنا بڑا زبردست خوش کن نظارہ دکھائی دیتا ہے،خوبصورت پرندوں کی مختلف زاویوں سے اڑان اور ان کی مسحور کن آوازوں کی چہچہاہٹ فضا کا ایک خاص حصہ ہے پرندوں کی موجودگی کے بغیر آسمان کی ویرانی نازک دلوں کی پریشانی کا سبب بنتی ہے۔
سائبیریا اور دوسرے برف پوش علاقے جہاں موسم سرما کی برفانی سردی اس قدر شدید ہوتی ہے کہ وہاں کے پرندوں کو خوراک کی عدم دستیابی اور اپنی زندگی کو بچانے کیلئے ایسے علاقوں سے ہجرت کر کے گرم علاقوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے جہاں آسانی کے ساتھ انہیں خوراک دستیاب ہو سکے۔جب یہ پرندے برفانی علاقوں سے ہجرت کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو پرواز سے قبل کہتے ہیں کہ چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ یہ تیری جاگیر نہیں تھی چار گھڑی کا ڈیرہ تھا۔
سدا رہا ہے اس دنیا میں کس کا آب و دانہ۔چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ
یہ خوبصورت اشعار بھارتی شاعر راجندر کرشن نے لکھے تھے اور اپنی مدھر و سریلی آواز میں گلوکار محمد رفیع مرحوم نے انہیں ایک گیت کی صورت میں گا کر یادگار بنا دیا۔
وقت وقت اور موسم کے تیور بدلنے کی وارداتیں ہیں کہ خدائی مخلوق پرندے ہجرتے کرنے پر مجبور ہو کر ایک مقام اور علاقے سے اُڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف محو پرواز ہو کر نئے ٹھکانوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ان دنوں وطن عزیز میں الیکشن کا موسم ہے آج تین مارچ آنے والے سینیٹ کے الیکشن کا بخار پورے عروج پر ہے میرے اس کالم کے چھپنے تک سینیٹ کے الیکشن ہو چکے ہوں گے اور اس میں میرے اندازے اور تجزیہ کے مطابق پی ٹی آئی جیت جائے گی اور پی ڈی ایم کی گیارہ سیاسی جماعتیں اپنی شکست کے زخم چاٹتے ہوئے واویلا کرتی ہوئی دکھائی دیں گی اور میاں نواز شریف کا مشہور زمانہ بیان و اعلان ِ آہ و زاری مجھے کیوں نکالا کی پیروی کرتے ہوئے پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہمیں کیوں ہرایا کی صدائیں بلند کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
الیکشن کے موسموں کا زکر ہو اور جولائی کے اختتام اور اگست2021کے آغاز میں آزاد کشمیر کے متوقع انتخابات کا زکر نہ ہو تو پھر بات بنتی نہیں ہے۔اس الیکشن کے انعقاد میں تقریباً 20ہفتوں کا تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا ہے یہ بیس ہفتے آزاد کشمیر کے سیاسی دنگل کے ہنگامہ خیز ہوں گے۔جیسے ہی الیکشن کے دن قریب آئے ہیں آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل نے بڑی گرمجوشی پیدا کر دی ہے۔حالات کا ادراک کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق احمد خان نے سیاسی بصیرت اور دانشمندی کے ساتھ ایسی کارروائی اور چال چل دی ہے اس کیلئے انہوں نے مسلم کانفرنس یوتھ کے چیئرمین اور اپنے لخت جگر سردار عثمان علی خان،مسلم کانفرنس کے صدر مرزا شفیق جرال سردار عتیق احمد خان کے دیرینہ ساتھی اور مسلم کانفرنس کے ایم ایل اے ملک محمد نواز اور مسلم کانفرنس کی ایک اور قد آور شخصیت حاجی راجہ محمد اکرم خان سابق سینئر وزیر اور قائم مقام وزیر اعظم آزاد کشمیر کے فرزند راجہ آفتاب اکرم کی یہ ذمہ داری لگائی کہ وہ سالارِ جمہوریت سردار سکندر حیات خان سے رابطہ کر کے انہیں مسلم کانفرنس میں واپس آنے کیلئے راضی کریں ان تمام کی کوششوں سے سالارِ جمہوریت نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر مسلم کانفرنس میں واپس آنے کا اعلان کر دیا۔ان کے سیاسی مخالفین مانیں یا نہ مانیں جب سے سردار سکندر حیات خان نے سردار عتیق احمد خان اور ان کی ٹیم کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے اس وقت سے آزاد کشمیر کی سیاست میں بڑی گرما گرمی کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔مسلم لیگ ن کے ملک محمد یوسف اور سابق صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین خان بھی مسلم لیگ کو چھوڑ کر مسلم کانفرنس کے اپنے قافلے کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔
یہ موسم سیاسی پنچھیوں کے اڑنے کا ہے۔آزاد کشمیر کے آسمان سیاست پر ہم ہر روز سیاسی پنچھیوں کے اڑنے کے نظارے دیکھ رہے ہیں۔کچھ سیاسی لوگ مسلم لیگ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی اور کچھ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں شامل ہو رہے ہیں۔آزاد کشمیر کی مسلم لیگ ن کی حکومت عجیب الجھن کا شکار ہو گئی ہے راجہ فاروق حیدر خان وزیر اعظم آزاد کشمیر کے لئے بڑا کھٹن اور مشکل سیاسی وقت ہے وہ اپنی حکومت کے آخری دنوں میں مختلف عہدوں پر لوگوں کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف ان کی جماعت کے بڑے بڑے لوگ مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں خصوصی طور پر مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کا اڑان کا سفر آب دھیرے دھیرے چل رہا ہے جیسے ہی موجودہ مسلم لیگ ن کی مدت پوری ہو گی اور اقتدار ختم ہو جائے گا تو پھر دیکھنا کہ اس وقت کہ بیگانے سیاسی دیس سے کس طرح سیاسی پنچھی اُڑ کر دوسری جماعتوں کی شاخوں پر جا بیٹھیں گے۔اُڑنے اڑانے کی وارداتیں تمام آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں پیدا ہوں گی۔
سیاسی پرواز سے قبل سیاسی لیڈران حضرات یہ نعرہ مستانہ بلند کر کے محو پرواز ہوں گے۔
چل اُڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ

50% LikesVS
50% Dislikes