احمقوں کی جنت میں – Kashmir Link London

احمقوں کی جنت میں

ماہ مارچ چاہے سیاست سے بھرپور کیوں نا ہو، ہمارے لئے انتہائی مقدم و مقدس ہے، کیونکہ یوم پاکستان کے دن منٹوپارک میں ہماری تقدیریں بدلنے کا عزم کیا گیا تھا، غلامی سے چکنا چور ذہنوں میں آزادی کا مواد لاوے کی طرح ابُل رہا تھا ، ان گنت مظالم لاتعداد جبرو تشدد کی کالی راتوں کے بعد امیدِ سحر کی کرن کے منتظر غیور عوام نے برِصغیر میں انقلاب کی لہر کو دریا کے بہاؤ میں تبدیل کردیا تھا۔گزر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ جن کی جدوجہد سے ہم آج خود کو دنیا کی افضل قوم سمجھنے کی خام خیالی میں مشغول ہیں، ہماری موجودہ صورتحال پر اگر نظر دوڑائی جائے تو بے ساختہ لبوں کی جنبش کچھ یوں ہوتی ہے کہ
غلامی میں خوش ہیں ابھی دوسروں کی
کہ رہتے ہیں جنت میں وہ احمقوں کی
ارے صاحب ایسا کیوں ؟ بہت گہری باتیں ہیں یہ شاید ہم عام فہم لوگوں کی ذہانت اسے ہضم نا کرسکے، مگر چلیں کچھ کالا چٹھا نکالیں اس منفی سوچ کا ۔۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم ابھی ادھیڑ عمر کے اس شخص کی طرح ہیں جس کے لئے تنظیہ محاورا کچھ یوں کہا جاتا ہے کہ لڑکپن کھیل میں کھویا جوانی نیند بھر سویا بڑھاپا دیکھ کر رویا، جی جی ایسا ہی ہے، ہم چاہے ابھی عمر کے کسی بھی حصے میں ہوں یہ محاورا ہم پر خوب جچتا ہےوجہ یہ ہے کہ ہم کسی اور کی جدوجہد پر آزادی کے مزے لوٹنے میں مشغول غفلت میں کھوئے وہ ہجوم ہیں جنہیں آج تک یہ سمجھ ہی نہیں آسکی کہ ہم پر انگریزوں نے دو سوسال حکومت کیسے کی، اگر کچھ تجزیہ کیا جائے تو ہمارا حال ماضی سے کچھ خاص مختلف نہیں۔

حالات واقعات اور سانحات کا گھٹ جوڑ چیخ چیخ کر گواہی دیتا ہےکہ ہم نے اپنی ماضی کو ذہنوں سے کچھ اسطرح دھودیا ہے کہ ہمیں اپنے مستقبل کا نہ تو کوئی اندازہ ہے نا ہی کوئی فکر، انگریزوں کی غلامی میں رہنے کی شاید اصل وجہ یہ رہی تھی کہ ہم نے ہمیشہ ہمارے درمیان موجود قابلیت و رہنمایت کو کچھ اسطرح جانا کہ گھر کی مرغی دال برابر، ہم وہ قوم ہیں جس نے ہمیشہ مہمان نوازی کی اچھی مثال قائم کی ہے مگر اس مہمان نوازی کے بھی دو پہلوہوتے ہیں ایک مثبت دوجہ منفی ہم مثبت مہمان نوازی کرتے کرتے اسے منفی حد تک پہنچادیتےہیں، وہ یوں کہ ہم باہر سے آئے ہوئے ہر شخص شے کو سر پر بٹھا دیتے ہیں اس سوچ کے ساتھ کے یہ ضرور ہم سے افضل ہیں بالکل ایسا ہی کچھ انگریزوں کے دور میں ہوا ہم نے ان کو خودسے زیادہ تعلیم یافتہ سلجھا ہوا سمجھا اور پھر ہماری قدریں انگریزوں نے اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالیں۔

آج بھی وہی روش ہم نے اپنائی ہوئی ہے، آج بھی ہم باہر سے آئی ہوئی چیزوں کو زیادہ پائیدار اور بہتر مانتے ہیں اس وجہ سے شاید ہماری درآمدات برآمدات کے مقابلے میں کم ہیں، پھر کچھ اسی طرح تعلیمی میدان میں بھی ہم نے انہی لوگوں کو ترجیح دینی ہوتی ہے جن کی تعلیمی سند بیرون ملک سے حاصل کی گئی ہو۔معاملہ یہاں نہیں رکتا چاہے کھیلوں کے کوچز ہوں یا پھر سیاستدانوں کے علاج جب تک کوئی گورا نہ ملے بات نہیں بنتی، خیر یہ تو ہوا میکرو لیول کا مسئلہ اب کچھ مائکرو لیول کی بات کرلیتےہیں، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کو خدا نے ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے خواہ وہ شکل و صورت ہو یا پھر سوچ و عقل انسان یقنی طور پر ہر لحاظ سے منفرد ہوتا ہے، شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کراچی سے خیبر تک ہر شہر ہر محلہ اپنی منفرد زبان اور ثقافت کی وجہ سے ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہے، اب اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل ہے یہاں مقصد بتانے کا یہ ہے کہ انسان ایک شہر سے منسلک ہونے کے باوجود بھی ایک سی صفات کے حامل نہیں ہوتے، مگر بڑے شہر، چھوٹے شہر، گاؤں اور قصبوں کی بنیاد پر ہم ذہنی طور پر لوگوں کو برتری دے بیٹھتے ہیں۔
آج چاہے ہم وطن عزیز میں ہوں یا پھر دیارِغیر میں ہم باہر سے لوگوں کو لاکر اپنے سر پر مسلط کر بیٹھتے ہیں جیسے وہ محمد بن قاسم ثابت ہونگے مگر صد افسوس نتائج کچھ یوں نکلتے ہیں کہ وہ باہر سے لائی ہوئی قیادت بالکل انگریزوں کی طرح ثابت ہوتی ہے اور ہم غلامی کے تالاب میں پھینکے سکے تلاشتے رہ جاتے ہیں۔

قصہ مختصر یوں ہے کہ ہماری صفوں میں اتحاد کیوں کر نا ہو ہمیں یہ روش ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ باہر سے لائے ہوئے مٹی کے پتلے ہمیں ڈوائڈ اینڈ رول کے تحت تقسیم کرکے ہم پر راج نا کریں۔ نبی کریم ﷺ سے لے کر قائد اعظم محمد علی جناح تک ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کرنے کی تلقین کی گئی وجہ فقط یہ تھی کہ ان ہستیوں کو بھی باخوبی علم تھا کہ ہم بطور قوم ایک نہیں، اس لئے یوم ِ پاکستان کے موقع پر ایک ہی پیغام
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
ہمیں دوسروں کی غلامی اور احمقوں کی جنت سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا ہےاور وہ جب ہی ممکن ہوگا جب سوچ مثبت اور عزائم مقاصد سے بھرپور ہونگے۔پاکستان زندہ باد

50% LikesVS
50% Dislikes