سید علی گیلانی کی میت کیساتھ ہونیوالےغیرانسانی اقدامات کیخلاف بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن برمنگھم کے سامنے مظاہرہ – Kashmir Link London

سید علی گیلانی کی میت کیساتھ ہونیوالےغیرانسانی اقدامات کیخلاف بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن برمنگھم کے سامنے مظاہرہ

برمنگھم(کشمیر لنک نیوز) تحریک کشمیر یورپ کے صدر راجہ فہیم کیانی کی کال پر مختلف کشمیری اور پاکستانی تنظیموں کے مشترکہ تعاون سے تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما قائد کشمیر شہید اعظم سید علی گیلانی کی میت کو چھین کر ان کے خاندان اور وصیت کے خلاف اور بزدل بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدامات کے خلاف بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن برمنگھم کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین نے سید علی گیلانی کی تصاویر اور بینرز اٹھا رکے تھے اس موقع پر مظاہرین نے بھارت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی اورکہا گیا کہ بھارت کی حرکتوں اور ہتھکنڈوں کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی کی جبری تدفین کی جائے۔ مظاہرے سے تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب، برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی، ٹریڈ یونین کونسل کے صدر این اسکاٹ،راجہ قمر عباس، خواجہ محمد سلیمان، مولانا محمد سجاد، خواجہ انعام الحق، یوسف فاروق،، مشتاق حسین،، لیاقت لون، راجہ جاوید اقبال،خواجہ عارف، اعظم فاروق، چوہدری محمد غفور،رانا رب نواز،سردار آفتاب خان ایڈووکیٹ،چوہدری ظفر اقبال، حاجی شبیر حسین، چوہدری اللہ دتہ، حافظ محمد ادریس، چوہدری واجد برکی، نائب حسین مغل ،راجہ محمد طارق، یاسیٰن بدر نے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اپنے اصولی موقف پر کبھی کوئی لچک نہیں دکھائی۔

ساری زندگی تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ رہے، مقبوضہ کشمیر کے نوجوان اور بیرون ملک ان کے مشن کو جاری رکھیں گے ۔بھارت کے ظلم کو دنیا سامنے بے نقاب کریں گے کہ بھارت ایک دہشت گرد انسانیت کا دشمن اور قاتل ملک ہے بھارتی جیلوں میں قید حریت قیادت یاسین ملک، سید شبیر شاہ، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، آسیہ اندرابی کی زندگیوں کو شدید خطرہ ہے، ہزاروں کی تعدا میں کشمیری جیلوں میں پابند سلاسل ہیں، بھارت اس سے قبل حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کو جیل میں شہید کر چکا ہے ان کی تدفین بھی رات کے اندھیرے میں بھارتی فوج نے کی تھی، مقبول بٹ اور افضل گورو کی تہاڑ جیل میں قبریں بھارت کے لیے نوشتہ دیورا ہیں، مظاہرے میں کمیونٹی کے سرکردہ سیاسی رہنمائوں اور خواتین نے شرکت کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes