کورونا وبا کے دوران خدمت انسانی میں جان کی بازی ہار جانے والی مسلمان نرس کے نام سے سکالرشپ کا اجرا – Kashmir Link London

کورونا وبا کے دوران خدمت انسانی میں جان کی بازی ہار جانے والی مسلمان نرس کے نام سے سکالرشپ کا اجرا

برمنگھم (کشمیر لنک نیوز) کورونا وبا کے دوران کچھ لوگ ایسے کام کرگئے کہ دنیا انکی مثالیں دیتی ہے، برطانیہ میں دوران ڈیوٹی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال کرتے موت کو گلے لگانے والی مسلمان نرس اریما نسرین بھی ایسے ہیروز میں سے ایک ہیں۔


نرس اریما نسرین کی عمر 36 برس تھی اور وہ والسل مینور ہسپتال میں کام کرتی تھیں۔ ان کی وفات تین اپریل کو انتہائی نگہداشت میں کچھ ہفتے گزارنے کے بعد ہوئی۔
حکومت برطانیہ نے انکی خدمات کے عوض ان کی یاد میں سکالرشپ کا آغاز کیا ہے۔ سکالرشپ کی اس اسکیم کے تحت نرسنگ کے خواشمند ان افراد کو ڈگری کے لیے مکمل فنڈنگ دی جائے گی جو شعبہ صحت میں کیرئیر بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس فیس دینے کی سکت نہیں ہے۔


مرحومہ اریما تین بچوں کی ماہ تھیں۔ انھوں نے اپنے کام کا آغاز ہسپتال میں ہاؤس کیپر کے طور پر 2003 میں شروع کیا۔ بعد میں انھوں نے نرس بننے کا خواب پورا کیا۔ وہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ڈیوٹی پر مامور تھیں۔
ان کی بہن کزیمہ افضال کہتی ہیں کہ یہ فنڈ حیرت انگیز مواقع فراہم کرے گا۔ دونوں بہنوں، اریما نسرین اور کزیمہ افضال، نے اپنے کیریئر کا آغاز ہسپتال میں ہاؤس کیپر یعنی صفائی کے عملے میں شامل ہو کر کیا تھا۔
ہسپتال میں ان کے ساتھی ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ بہت قابل عزت، احسان کرنے والی شفیق خاتون تھیں۔


مڈلینڈز کے علاقے والسال میں کوئی بھی اس سکالر شپ کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ انھیں تین سال کی نرسنگ کی ڈگری دی جائے گی اور ٹریننگ کے دوران تنخواہ بھی ملے گی۔ ڈگری مکمل ہونے کے بعد وہ سٹاف نرس بن سکیں گے۔
اریما کی بہن کزیمہ گذشتہ سال سے ہیلتھ کیئر میں معاون کے طور پر کام کر رہی ہیں جہاں ان کی بہن کام کرتی تھیں۔ وہ پُرامید ہیں کہ وہ نرس بن جائیں گی۔ انکا کہنا ہے کہ کہ اگر اریما نسرین ابھی بھی وہاں ہوتیں تو وہ بہت سوں کو ان کا خواب پورا کرنے میں مدد کرتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ اعزاز ان کے بچوں اور ہم سب سے لیے بہت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes