بھارت کی جانب سے یورپی وفد کا دورہ کشمیر دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کیلئے ہے؛ کشمیری رہنما – Kashmir Link London

بھارت کی جانب سے یورپی وفد کا دورہ کشمیر دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کیلئے ہے؛ کشمیری رہنما

برمنگھم (کشمیر لنک نیوز) بھارت کی جانب سے یورپی یونین اور دیگر امن نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورہ کرانے کے بھونڈے ہتھکنڈے پر عالمی برادری کی جانب سے تنقید تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تحریک کشمیر(یو کے) کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے یورپی یونین اور افریقی نمائندوں کے لئے ا س دورے کا منصوبہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے رچایا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت اس طرح کے منافقانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے دنیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر وہ واقعی سچا ہے تو اقوام متحدہ کے حقائق مشن کو دورہ کرنے کی اجازت دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے اور خاص طو رپر 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ 17 فروری کو یورپی یونین اور افریقی نمائندوں کو دورہ کرانے کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں جس کا مقصد یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری معاہدے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جو رواں سال 8 مئی کو ہونے والی دوطرفہ سربراہ ملاقات میں متوقع ہے۔ دورے کے اس منصوبے کے جواب میں راجہ فہیم کیانی نے صدر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی وولکان بوزکیر، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹیریز، انسانی حقوق پر اقوام متحدہ ہائی کمشنر مشیل بیکلیٹ، یونین فار فارن افیئرز اینڈ سکیورٹی پالیسی کے ہائی ریپریزنٹیٹو جوزپ بوریل، انسانی حقوق پر یورپی پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ ایرینا ماریا، خارجہ امور پر یورپی پارلیمنٹ کے سربراہ ڈیوڈ مک السٹر اور اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے دیگر عہدیداروں کو خط لکھا ہے۔

ڈنمارک سے ممبر پارلیمنٹ سکندر صدیق نے بھی مقبوضہ کشمیر کی المناک صورتحال پر بھارت کے حالیہ ڈرامے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ اسی طرح کا دورہ ہے جس طرح کے دورے شمالی کوریا میں کرائے جاتے ہیں جن کا مقصد صرف حکومت کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔ اصل میں اقوام متحدہ کو رسائی ملنی چاہئے۔

برطانوی ایم پی اور شیڈو ڈپٹی لیڈر ہاؤس آف کامنز افضل خان نے کہا کہ بھارت اس وفد کا تو خیرمقدم کر رہا ہے لیکن اقوام متحدہ یا کسی دوسری آزاد تنظیم کو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے آج بھی انکاری ہے۔ اقوام متحدہ کو یہاں صورتحال کا مکمل تجزیہ کرنے کے لئے رسائی ملنی چاہئے۔ برطانوی ایم پی راشل ہاپکنز نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے وفد کو ہر اس جگہ جانے کی اجازت ملنی چاہئے جہاں وہ جانا چاہتے ہیں اور ہر وہ بات کہنے کی اجازت ہونی چاہئے جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔

برطانوی ایم پی اور چیئر لیبر فرینڈز آف کشمیر اینڈریو فائن نے بھی اس پر اپنا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ 22 غیرملکی سفارت کاروں کا دورہ مقبوضہ کشمیر بھارت کی سوچ میں پیدا ہونے والی نئی کشادگی کا مظہر ہے اور ان نمائندوں کو تمام متاثرہ علاقوں تک بے روک رسائی دی جائے گی اور وہ جس سے چاہیں بات کر سکیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes