مسلح مذہبی گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے بالادست طبقات نے عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے؛ سابق چیف جسٹس – Kashmir Link London

مسلح مذہبی گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے بالادست طبقات نے عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے؛ سابق چیف جسٹس

بریڈفورڈ (کشمیر لنک نیوز) آئین اور قانون نہ ماننے والے ممالک کو تاریخ معاف نہیں کرتی، وسیع تر ترقی پسند جمہوری تحریک پیدا کئے بغیر ملک میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، بالادست طبقات نے ملک کے عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہ مسلح مذہبی گروپوں کی پشت پناہی کرتے ہیں،کشمیر کی آزادی کا دعویٰ کرنے والوں کی 26 پارٹیاں بنی ہوئی ہیں جو اکھٹے بیٹھ کر چائے پینے کو تیار نہیں۔ ان خیالات کا اظہار عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ کے بریڈفورڈ میں استقبالیہ سے سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر اعظم خان نے کیا۔

استقبالیہ تقریب میں لیڈز، بریڈفورڈ، راچڈیل، مانچسٹر اور نیوکاسل سے ترقی پسند کارکنوں نے شرکت کی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں پرویز فتح، ظفر تنویر، سابق لارڈ میئر راجہ غضفر خالق، عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے صدر محبوب الہٰی بٹ، لالہ محمد یونس، نیوکاسل سے صغیر احمد، نظر حسین، مانچسٹر سے پروفیسر ریاض کھوکھر، شاہین بٹ، راچڈیل سے محمد ضمیر بٹ، ناتھن جاوید، پرویز مسیح، خالد سعید قریشی، کونسلر محمد شفیق، مبشر علی، ڈاکٹر فیض رسول اور دیگر شامل تھے۔ جسٹس (ریٹائرڈ) اعظم خان نے کشمیر کے تاریخی پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور پاکستان کے ساتھ الحاق اور بعد ازاں جمہوری حقوق اور خطے کی آزاد حیثیت سے روگردانی کا تاریخی حقائق کی روشنی میں ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کشمیر میں 26 پارٹیاں بنی ہوئی ہیں جو کہ کشمیر کی آزادی کی بات کرتی ہیں لیکن ذہنی کیفیت اور انا پرستی کا یہ عالم ہے کہ وہ مل کر چائے پینے کو تیار نہیں۔ ایسی گروپ بندی میں وہ خطے اور اس میں بسنے والے عوام کی کیا خدمت کر پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب 70 کی دھائی میں چند نوجوانوں نے آزاد کشمیر میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی تو وہ بڑی تیزی سے پورے آزاد کشمیر میں منظم ہوگئی۔ اس میں جاوید نظامی، عبدالمجید، ممتاز راٹھور اور دیگر کا بڑا ہاتھ تھا۔ یہ NSF پاکستان کی NSF کا حصہ نہ تھی اور ایک وقت آیا کہ کشمیر سے واحد اپوزیشن نظر آنے لگی، انہوں نے کہا کہ 60 کی دھائی میں پاکستان میں ترقی پسند سیاست پہنچی اور ہر شہر میں لال جھنڈوں کے جھتے نظر آنے لگے۔ نیشنل عوامی پارٹی پاکستان بھر میں ایک مضبوط اور منظم پارتی بن کر ابھری لیکن بدقسمتی سے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ورنہ پاکستان کا نقشہ اور اس میں جمہوری اداروں کی حیثیت مختلف ہوتی، نہ بنگلہ دیش بنتا اور نہ ہی طالبان، تحریک لبیک، سپاہ صحابہ جیسے مسلح جتھے بنتے، ملک کی ایک غیر جانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی ہوتی ور ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ پاکستان میں طلبا سیاست اور ٹریڈ یونین زوروں پر تھیں، جس کے لئے عالمی سطح پر بھی سازگار حالات تھے، ہر ملک میں زرعی ریفارمز اور بنیادی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ پاکستان میں NSF ملکی سطح پر طلبا کی مضبوط تنظیم تھی پھر نیشنلسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں بنی جس میں ممتاز مارکسی دانشور پروفیسر عزیز الدین احمد، خالد محمود اور دیگر کی قیادت کا بڑا عمل دخل تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب میں بھی انقلابی سیاست کا اسیر ہو گیا اور ترقی پسند تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگا لیکن یہ امر بہت ہی قابل افسوس ہے کہ چین اور روس کے اختلافات اور یہاں مارکسی نظریات اور قوم پرستوں کے اختلافات نے نیشنل عوامی پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا اور لاکھوں سیاسی کارکنوں کو گھر بیٹھنے پر مجبور کردیا یا پھر ترقی پسند تحریک گروپوں میں بٹ گئی اور اس کا فائدہ پیپلزپارٹی کو پہنچا اور جس سیاست کو ترقی پسندوں نے پروان چڑھایا تھا۔

اس کا پھل ذوالفقار علی بھٹو نے کاٹا، شخصیت پرستی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی سے ترقی پسندوں میں بھی موجود ہے جس کی واضع مثال ٹوبہ ٹیک سنگھ کی 1970ء کی تاریخی کسان کانفرنس ہے جس کو بھاشانی کسان کانفرنس کہہ کر سارا کریڈٹ حقیقی کسان رہنمائوں سے چھین لیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ہم اپنی تحریک میں سے حقیقی لیڈرشپ کو کیوں نہیں ابھرنے دیتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم او متحرک ترقی پسند تحریک پیدا کرنے کے لئے ملکی نظام، اکانومی، پیداواری رشتوں اور اس پر قائم ڈھانچے کا تفصیلی تجزیہ کرکے ایک متحدہ انقلابی تحریک منظم کرنے کی ضرورت ہے، عوامی ورکرز پارٹی ایک اچھا عمل ہے جو مختلف گروپوں کو یکجا کرکے بنایا گیا ہے لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنا ہوگا، ملکی عوام پس رہے ہیں اور قیادت کے لئے منتظر ہیں اور تبدیلی کی قیادت ترقی پسند تحریک ہی پیدا کرسکتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes