کورونا سے بریڈفورڈ مسلم کمیونٹی کی شرح اموات میں اضافہ، مرکزی قبرستان میں تین شفٹوں میں کام ہونے لگا – Kashmir Link London

کورونا سے بریڈفورڈ مسلم کمیونٹی کی شرح اموات میں اضافہ، مرکزی قبرستان میں تین شفٹوں میں کام ہونے لگا

بریڈفورڈ (محمد فیاض بشیر) اس امر میں کوئی شک نہیں کہ برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کی بڑی تعداد مرنے کے بعد اپنی آبائی وطن ہی دفن ہونا پسند کرتی ہے تاہم اکثریت یہیں برطانیہ میں تدفین کو ہی ترجیح دیتی ہے۔ کورونا وبا میں فلائیٹس کی عدم دستیابی اور ضروری ایس او پیز پر عملداری نہ کونے کی وجہ سے اولاالذکر افراد کی بڑی تعداد خواہش کے باوجود پاکستان دفن نہ ہوسکی۔


برطانیہ میں چونکہ ایک طریقہ کار کے تحت دفنایا جاسکتا ہے اس لیئے ہسپتال اور پھر کرونر رپورٹس میں تاخیر پر بہت سے مسلمان پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ اسلام میں میت کو جلد از جلد دفنانے کا حکم ہے۔
قبرستانوں کے عملے کی کمی بھی اس تاخیر کی بڑی وجہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے باعث مسلمانوں میں اموات میں اضافے کی وجہ سے قبرستان میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، بریڈ فورڈ میں قبرتیار کرنے والے افراد صبح 6 بجے سے شام 10 بجے تک کام کررہے ہیں۔


گزشتہ11 دنوں میں 44 افراد تدفین کیلئے لائے گئے، حالت امن کی صورتحال میں اس طرح کے مناظرانتہائی پریشان کن ہیں۔ اس حوالے سے کونسل برائےمساجد نے قبرستان کے تعمیراتی ماہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ تدفین کیلئے قبر کو تیار کرنے کیلئےنئے طریقے دریافت کیے جائیں۔


کونسل آف مساجد کے صدر ذوالفقار کریم نے کہا کہ اموات میں اضافہ انتہائی حیران کن ہے، مسلمانوں کی شرعی طور پر کوشش ہوتی ہے کہ تدفین 24 گھنٹوں کے اندر ہو جائے، زیادہ اموات اور سردیوں میں موسم خراب اور پھر جلدی اندھیرا ہوجانے کی وجہ سے قبروں کی تیاری میں مشکلات ہو رہی ہیں جتنی جلدی قبروں کی کھدوائی ہو رہی ہے ساتھ ساتھ تدفین بھی اسی رفتار سے ہو رہی ہے، ہمیں قبروں کو کھودنے اور ڈیزائن کرنے کیلئے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔


بریڈفورڈ رائل انفرمری کے ڈاکٹر جون رائٹ کا کہنا ہے کہ بریڈفورڈ کی مسلم کمیونٹی میں کورونا سے شرح اموات تشویش کن ہے، انہوں نے کونسل آف مساجد کے صدر اپنے دوست کے حوالے سے بتایا کہ عملے کو بریڈفورڈ کے مرکزی قبرستان میں تین تین شفتوں میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes