یورپی تنظیموں کے تعاون سے پاکستان میں ویمن ایمپاورمنٹ پروجیکٹ کا آغاز – Kashmir Link London

یورپی تنظیموں کے تعاون سے پاکستان میں ویمن ایمپاورمنٹ پروجیکٹ کا آغاز

مالمو (کشمیر لنک نیوز) سویڈن کے سماجی ادارے پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ (پی پی این ای) اور برطانیہ کے سندھ بلوچستان بزنس انٹرنیشنل بزنس فورم (ایس بی آئی بی ایف) کی جانب سے پاکستان میں وویمن امپاورمنٹ پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا، پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب مالمو انٹرنیشنل اسکول میں منعقد کی گئی جہاں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی، پروگرام کی صدارت پی پی این ای پاکستان چیپٹر کے ترجمان اشفاق احمد نے کی اور شرکاء کو پروجیکٹ کے حوالےسے مکمل آگاہی فراہم کی، خواتین سماجی رہنما وردہ مجیب خان اور زبیدہ صمد نے اپنے اپنے پلیٹ فارم کے تحت خواتین کی رہنمائی کے عزم کا اظہار کیا۔

سویڈن سے زبیر حسین اور لندن سے حبیب جان نے تقریب میں آن لائن شرکت کی اور انتظامیہ کو پروجیکٹ کے حوالے سے مرحلہ وار حکمتِ عملی سے آگاہ کیا، حبیب جان نے انتظامیہ کو بتایا کہ سندھ بلوچستان انٹرنیشنل بزنس فورم بھرپور کوشاں ہے کہ سندھ اور بلوچستان کی عوام کو بنک قلیل مدتی قرضے جاری کریں تاکہ گھریلو صنعتوں کو فروغ دیا جاسکے، ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وباء نے اب دنیا کو ایک ورچیول پلیٹ فارم پر اکھٹا کردیا ہے جہاں چھوٹے تاجروں کے لئے اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے آسان اور بہترین مواقع موجود ہیں، اگر مقامی بنکوں نے گھریلو صنعتوں کے لئے قرضوں کا اجراء کرنا شروع کردیا تو وہ وقت دور نہیں کہ دنیا بھر میں پاکستانی مصنوعات اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکیں گی، زبیر حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ حسبِ معمول میڈ اِن پاکستان کلچر کو متعارف کرنے کی ہر ممکن کوشش میں ہے اور وویمن امپاورمنٹ پروجیکٹ کا مقصد ہی اپنے لوگوں مقصد بھی عام عوام کو ذریعہ معاش کی طرف راغب کرنا ہے جس کی بدولت مانگنے والے ہاتھوں کے بجائے عوام میں تخلیق کاری کا شعور بیدار ہوگا اور پاکستانی مصنوعات کو ملکی و غیر ملکی منڈیوں میں تقویت حاصل ہوگی،ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف شاپنگ پورٹل سے ہمارے پلیٹ فارم کے تحت معاونت کی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جوں ہی کوئی معاہدہ عمل میں لایا گیا تو ہم مذکورہ پروجیکٹ کے تحت بننے والی مصنوعات کو مقامی منڈیوں سمیت پاکستان بھر میں باآسانی پہنچا سکیں گے۔

اشفاق احمد نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وباء کی وجہ سے دنیا بھر میں ورک فرام ہوم کا کلچر متعارف ہوچکا ہے مگر پاکستان میں آن لائن سروسز کے فقدان کی وجہ سے یہ عمل ہمارے لئے کچھ مشکل ہے مگر گھریلو صنعتوں کے فروغ سے ہم کافی حد تک معاشی معاملات پر قابو پاسکتےہیں، انہوں نے ایس بی آئی بی ایف کی ترجمان زبیدہ صمد اور پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ خواتین ونگ کی سربراہ وردہ مجیب خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان ہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم نے اس افتتاحی تقریب کے ذریعے اس پروجیکٹ کو حتمی شکل دی۔ طیبہ افتخار، مہرین رضوان، نرگس ناز، کائنات، وردہ خان اور زبیدہ صمد نے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی،تقریب میں نمائش کے لئے خواتین کی جانب سے قالین، ٹیکسٹائل، ایمرائیڈری، زیورات، ہینڈی کرافٹ، سندھی رلی، کیک و کنفکشنریز، آرگینک مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور دیگر مصنوعات پیش کی گئیں، گھریلو مصنوعات کے مقامی نامور برانڈ جن میں پینیٹیریا ہوم بیکری، ڈیپ آرگینک اور زی کلیکشن کی جانب سے پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کا عزم کیا گیا۔ کراچی شہر کی نامور سماجی و کاروباری شخصیات مبین حسین، زاہد شیخ، زوہیب حسن و دیگر نے تقریب میں شرکت کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes