تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیراہتمام سید علی گیلانی مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد – Kashmir Link London

تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیراہتمام سید علی گیلانی مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

کوپن ہیگن (کشمیر لنک نیوز) تحریک کشمیر ڈنمارک نے کوپن ہیگن میں سید علی شاہ گیلانی مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا ۔ جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس تعزیتی ریفرنس کے مہمان خصوصی ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق تھے ریفرنس کا آغازمومن عدیل آسی نے تلاوت قران پاک کی تلاوت سے سے کیا اور راجہ عمران نے نعت رسول مقبول کی سعادت حاصل کی۔ سفیر پاکستان احمد فاروق نے سید علی گیلانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی نے کبھی بھی اپنے اصولوں اور موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تحریک آزادی کشمیر کے لیے ان کی لازوال جدو جہد تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم شاہ صاحب کی جدوجہد نیسلن منڈیلہ سے بھی طویل تھی۔ سید علی گیلانی کی پاکستان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی وہ سب سے بڑھ کر پاکستانی تھے۔ سید علی گیلانی کی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزرا ۔ آخری بارہ سال گھر میں نظر بند رہے مگر انہوں نے مشکل اور سنگین ترین حالات کے باوجود اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوئے ۔

اس مو قعہ پر تحریک کشمیر ڈنمارک کے صدر عدیل آسی نے کہا کہ ہم سب کو گیلانی صاحب کا مشن آگے لے کر چلنا ہے ۔ ہم سب گیلانی ہیں ۔ اپنے خطاب نے انہوں نے نعرے بھی لگوائے جو بھی پاکستانی ہے گیلانی ہے گیلانی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے. ایے عظیم لیڈر بار بار پیدا نہیں ہوتے ہیں. وہ صرف کشمیریوں کے لیڈر نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا دکھ درد محسوس کرتے تھے۔ پاکستانی نژاد ممبر ڈینش پاڑلیمنٹ سکندر صدیق نے کہا کہ میں نے گیلانی صاحب سے سیکھا ہے کہ اصولوں پہ نو کمپرومائز اور کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ۔ بحثیت سیاستدان میں نے ہمیشہ کشمیر کی آواز اٹھائی ہے اور سید علی گیلانی کا ورکر بن کر مزید کام کروں گا۔

پاکستان کیمونٹی فورم کے چیئرمین راجہ غفور افضل نے کہا مجھ سمیت پاکستانیوں کو سید صاحب سے دلی محبت تھی ۔ کشمیری سوسائٹی کے راہنما راجہ ساجد نے کہا کہ کشمیر کے کونے کونے سے سید علی گیلانی نکلیں گےجوان کے مشن کو جاری اور آزادی کو حاصل کر کے دم لیں گے۔ کہانی گھر کی لیڈر مس صائقہ راضی نے کہا سید علی گیلانی کے مشن کو اپناتے ہوئے بھارتی کلچر کو اپنے گھروں سے اٹھا باہر پھنکے گے۔ پاکستان سوسائٹی کے صدر چوہدری ولائت نے کہا کہ بھارتی حکومت نے سید علی گیلانی کی وفات کے بعد ان کی میت کے ساتھ جو توہین آمیز سلوک کیا دنیا بھر میں اس کی مذمت کی گی۔ نوجوان سیاستدان عمران محبوب نے کہا کہ بھارت نے سید علی گیلانی کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹنے پر ان کی فیملی پر مقدمہ درج کر دیا تھا۔ دنیا کو ایسے ملک کو جمہوری ملک کہتے ہوئے شرم آنی جائے چاہئے۔ ڈنمارک کے سٹی کونسلر اور امام خطیب سید اعجاز بخاری نے شہید اعظم سید اعلیٰ گیلانی کو ان کی خدمات پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لئے خصوصی دعا بھی کروائی۔ تحریک کشمیر ڈنمارک کے نائب صدر اور نظامت کے فرائض سر انجام دینے والے شہزاد عثمان بٹ نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی گیلانی کی ساری زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف تھی ۔ا ان کے انتقال پر عالمی میڈیا نے بھی ان کی خدمات کا اعترف کیا کہ وہ ایک عالمی لیڈر تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes