بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے، شاہد خاقان عباسی کا مذاق اڑانے والوں کے اپنے وزیر کیساتھ کیا ہوا؟ – Kashmir Link London

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے، شاہد خاقان عباسی کا مذاق اڑانے والوں کے اپنے وزیر کیساتھ کیا ہوا؟

نیویارک (کشمیر لنک نیوز) پاکستان کے خلاف ان دیکھا محاذ صرف داخلی سظح پر ہی نہیں بلکہ اسکے اثرات خارجی سطح پر بھی نظر آرہے ہیں، اسکی بڑی مثال پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار آفریدی ہیں جنہیں حالیہ دورہ امریکہ میں نیویارک ایئرپورٹ پر روک لیا گیا اور کئی گھنٹوں تک تفتیش کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق شہریار آفریدی کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ پہنچنے پر کڑی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا، پاکستانی قونصلیٹ کی تحریری ضمانت پر کئی گھنٹے بعد داخلے کی اجازت ملی، سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ایسی کیا بات ہوگئی کہ امریکی حکام کو پاکستان کی وفاقی کابینہ کے رکن سے پوچھ گچھ کرنی پڑی۔

باوثوق ذرائع کے مطابق کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی اوورسیز پاکستانیوں کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی دعوت پر نیویارک کے جان ایف کنیڈی ائرپورٹ پہنچے تو امریکی امیگریشن حکام انہیں اپنے ہمراہ لے گئے جہاں ان سے تین گھنٹوں تک سوال و جواب کئے گئے جن سے امریکی حکام مطمئن نہ ہوئے جس پر ذرائع کے مطابق انہیں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔

اس معاملے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ مذکورہ وزیر نے اپنی آمد کو نیویارک میں اپنے ہی قونصلیٹ سے بھی بے خبر رکھا لیکن مشکل وقت میں اسی قونصلیٹ کی تحریری ضمانت کام آئی، وزیر موصوف نے امریکی امیگریشن حکام کی اجازت سے سفیر پاکستان سے رابطہ کیا تو سفیر پاکستان اسد مجید خان کی ہدایت پر نیویارک میں متعین پاکستانی قونصل جنرل عائشہ علی نے ائرپورٹ کی امیگریش حکام سے ملاقات کرکے انہیں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی کی ضمانت دیتے ہوئے تحریری درخواست دی جس پر انہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت مل گئی اور وہ اپنے میزبانوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے۔

دس ستمبر تک روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرگرمیاں اپنے ذاتی ٹویٹر اکائونٹ سے شیئر کرنے والے شہریار آفریدی کا ٹویٹر اکائونٹ بھی اسکے بعد سے مسلسل خاموش ہے، صحافیوں نے جب وزیر موصوف سے رابطہ کی کوشش کی تو انہوں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا دوسری جانب پاکستان قونصلیٹ نیویارک کے ہیڈ آف چانسری اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی ترجمان ملیحہ شاہد نے اس خبر کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا ہے، بات تو سچ ہے جب وزیر صاحب ہی کچھ بولنے پر آمادہ نہیں تو سرکاری افسر بیچارہ کیا کرے ؟

50% LikesVS
50% Dislikes