ڈاکٹر امجد ثاقب کو رامون میگسیسے ایوارڈ ملنے پر سویڈن میں اخوت فائونڈیشن شعبہ خواتین کا اظہار مسرت – Kashmir Link London

ڈاکٹر امجد ثاقب کو رامون میگسیسے ایوارڈ ملنے پر سویڈن میں اخوت فائونڈیشن شعبہ خواتین کا اظہار مسرت

سٹاک ہوم (رپورٹ و تصاویر: عارف محمود کسانہ) اخوت سویڈن کے شعبہ خواتین نے اخوت فاؤنڈیشن پاکستان کے چئیرمین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو رامون میگسیسے ایوارڈ ملنے کی خوشی میں سٹاک ہوم میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ رامون میگسیسے ایوارڈ جسے ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے اس سال اخوت فاونڈیشن پاکستان کے چئیرمین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو ملنے پر دنیا بھر میں پاکستانی بہت خوش ہیں۔

اخوت سویڈن کی خواتین اراکین نے اسی خوشی کو منانے کے لئے زبردست اہتمام کیا۔ تقریب میں شریک خواتین نے کہا کہ یہ ایوارڈ ملنے سے ہمارے سر فخر سے بلند ہوئے ہیں اور ہم ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اخوت سویڈن کے شعبہ خواتین کی انچارج مسز منزہ لوہسر نے بصری سلائیڈز سے اخوت کے بیس سالوں کی کارکردگی پیش کی۔ انہوں نے کہا اخوت کے بڑے منصوبوں میں بلا سود قرضے فراہم کرکے لوگوں کو روزگار مہیا کرنا، طلبہ کو تعلیمی سہولیات اور اخوت یونیورسٹی سے مفت تعلیم، خواجہ سراؤں کی بیبود، مستحق لوگوں کو مفت کپڑوں کی فراہمی اور مریضوں کو ادویات اور صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنا ہے جس سے لاکھوں لوگ فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

اخوت سویڈن جون 2018 سے ایک باقاعدہ رجسٹرڈ چیئرٹی کے طور پر کام کرہی ہے اور یہ واحد پاکستانی رجسٹرڈ چیئرٹی ہے۔ اخوت اب سویڈن میں بہت مقبول ہے اور اسے لوگوں کا بھر پور اعتماد حاصل ہے۔ تقریب میں آن لائن شرکت کرتے ہوئے اخوت فاونڈیشن پاکستان کے چئیرمین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے ایوارڈ ملنے پر اس قدر شاندار تقریب منعقد کرنے پر اخوت سویڈن کی خواتین اراکین کا بہت شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اخوت کی کامیابی اور مقبولیت میں خواتین کا بنیادی اور اہم کردار ہے۔ سب سے پہلا قرض حسنہ ایک خاتون کو ہی دیا گیا تھا اور اب بھی اخوت سے فائدہ اٹھانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہے۔ خواتین بہت ذمہ داری اور لگن سے کام کرتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء کے سوالوں کے جوابات بھی دئیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کیا اخوت پاکستان، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام علاقوں اور وہاں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے خدمات سرانجام دی رہی ہے۔

اخوت سے فائدہ اٹھانے والوں میں مسیحی، ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اخوت یونیورسٹی میں تمام مذاہب کے طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں اور انہوں وہاں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے اہل سویڈن کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اخوت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں اور وہ منتظر ہیں اگلے سال 26 مارچ کو ان سے ملیں گے۔تقریب میں دیگر سرگرمیاں بھی شامل تھیں جن میں کامیاب ہونے والی خواتین کو انعامات بھی دئیے گئے۔ کوئیز پروگرام میں اول آنے والے گروپ کی خواتین کہکشاں ذیشان، روحی بشارت اور مریم منہاس کو اول انعام دیا گیا۔ بہترین لباس پر زینب مظفر کو دیا گیا جبکہ تقریب کے انتظامات پر سجیلہ عارف کسانہ اور ہما ڈار کو خصوصی انعامات دئیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر کیک بھی کاٹا گیا اور حاضرین کی تواضع کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ شرکاء نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اخوت سویڈن کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes