نیویارک میں فرینڈز آف کشمیر کا اجلاس،مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت – Kashmir Link London

نیویارک میں فرینڈز آف کشمیر کا اجلاس،مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت

نیویارک (کشمیر لنک نیوز) امریکہ بھر کی مختلف تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران کا ایک خصوصی اجلاس نیویارک میں ہوا جس کا اہتمام فرینڈز آف کشمیر نے پاک امریکن ایسوسی ایشن آف نیویارک کے تعاون سے کیا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کہ شہہ پر ہونے والے مظالم اور خاص طور پر جعلی شہریتوں کی کارروائیوں کی سختی سے مذمت کی گئی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری مسلمان قوم ، اس قوم کے بزرگ، بہن ، بھائی ، بچے ، بوڑھے اور جوان سات سے زائد دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پش رہے ہیں اور اب ڈکٹیٹر مودی ایک سازش کے تحت ان کی آزادی کی راہ کو مسدود کرنا چاہتا ہے ۔ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

اس اجلاس میں شرکت کے لئے غزالہ حبیب خصوصی طور پر ڈیلاس(ٹیکساس ) سے نیویارک آئیں جبکہ اجلاس میں کمیونٹی کی اہم شخصیات، قائدین اور ارکان لیفٹنٹ ضیغم عباس، سردار سوار خان، سردار نیاز حسین (جموں و کشمیر پیپلز پارٹی )، سردار ساجد سوار، سردار واجد ،راجہ مختار ، سردار امتیاز خان ، تاج خان ، محمد مظفر ، اسد چوہدری ،راجہ رزاق ، عمران قاسم خان ، بازہ روحی، عطیہ شہناز ، پروین کوثر ،ارم شیریں ،راجہ ضمیر ، طاہر محمود ، سردار فاروق ، سردار حبیب الرحمان ، راجہ وجاہت خان ، محمد ارشاد ، عاطف خان ، وسیم سید ، عبدالسبحان ڈھلوں ،عائشہ اور حقائقہ خان نے شرکت کی ۔تقریب کا آغاز اللہ تبارک تعالیٰ کے بابرکت کلا م سے ہوا۔ قاری اسامہ احمد نے آیات قرآن کی تلاوت کی سعادت حاصل کی جبکہ اجلاس میں نظامت کے فرائض PAANY کے ڈائریکٹر لیفٹنٹ ضیغم عباس نے انجام دئیے ۔اجلاس میں پاکستان کی قونصل جنرل برائے نیویارک عائشہ علی نے خصوصی شرکت کی ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکا نے کہا کہ ایک لمحے کے لئے تصورکریں کہ ہم میں سے کسی کے گھر میں کسی وقت دروازہ کھلے اور بلاوجہ گھر والے کو لے جایا جائے اور وہ پھرکبھی واپس نہ آئے ، مظلوموں کی مظلومیت کا احساس کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ مظاہرے کرتے ہیں ، کشمیر کے حوالے سے دن مناتے ہیں لیکن ہم مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب کہاں آگے بڑھے ہیں؟ مسئلہ کشمیر دو سالوں سے مزید خراب ہو رہا ہے ، ان دو سالوں میں انڈیا نے اڑھائی لاکھ ڈومیسائل جاری کئے ہیں جن کا مقصد کشمیر کی آبادی کے تناسب کو جعلی طریقے سے تبدیل کرنا ہے ۔ان حالات کے پیش نظر ہم سب کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئیے کہ کیسے آگے بڑھنا ہے۔ فرینڈز آف کشمیر کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے کیا کردار ادا کرنا ہے۔ سب نے طے کرنا ہے کہ کشمیر کی آزادی تک مل کر کام کریں گے، پھر طے کریں گے کہ کیسے معاملات طے پائیں گے ، امریکہ میں قانون ساز اور پالیسی ساز اداروں تک آواز پہنچانا ہے۔ سوشل میڈیا پر آپس میں کوارڈی نیشن کرنا چا ہئے ، ایک متحد ٹیم کی صورت میں کام کرنا ہوگا۔یہ ابھی یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes