گستاخانہ خاکوں پر فراسیسی حکومت کے ردعمل پر دینا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج – Kashmir Link London

گستاخانہ خاکوں پر فراسیسی حکومت کے ردعمل پر دینا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج

لندن (عمران راجہ) گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے فریسیسی صدر کے بیان کے بعد دنیا بھر کی مسلم دنیا میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں مسلمان اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ آزادی اظہار کی آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی۔
مسلم ممالک میں قائم فرانسیسی سفارت خانوں کے باہر مظاہروں میں مسلمان مظاہرین نے فرنچ سفیروں کی ملک بدری اور مصنوعات کے بائیکاٹ کامطالبہ کیا ۔ادھرترک صدر طیب اردگان نے کہا ہے کہ یورپ اسلام دشمنی میں سامنے آگیا، ہمارے اقدارکونشانہ بنانا شروع کردیا۔


تہران میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں شہریوں نے دھرنا دیا۔ احتجاج میں شریک افراد نے فرنچ مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔خواتین نے بھی سفارت خانے کے سامنے دھرنے میں شرکت کی۔ بنگلہ دیش میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ ڈھاکا کی جامع مسجد سے نکالی گئی ریلی میں شریک افراد نے فرانسیسی سفارت خانے کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا بھی مطالبہ کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ آزادی اظہار مذہبی مقدسات کی گستاخی سے تعلق نہیں رکھتی، ہم اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے کہاکہ یورپ نے اب ہماری قدروں کو براہ راست نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، وہ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔
یونائٹڈ نیشنز الائنس آف سیولائزیشنزکے سربراہ نےگستاخانہ خاکوں کے نتیجہ میں پیدا ہونےو الی کشید گی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام اور امن و بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک صدر طیب اردوان کی تنقید کے باوجود فرانس اسلامی انتہاپسندی کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا۔ دھمکی اور عدم استحکام کی کوششوں کے آگے نہیں جھکے گا۔
فرانسیسی صدر نے کابینہ کے اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ فرانس اپنی اقدار اور اصولوں سے کبھی دستبردار نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ فرانس نے ممکنہ پابندیوں سمیت ترکی کے خلاف اقدامات کیلئے یورپی پارٹنرز سے رابطے شروع کر دئیے۔

فرانس کے وزیر برائے یورپ کلمنٹ بیون نے کہا ہم ترکی کو سخت جواب دینے کیلئے یورپی یونین پر زور دیں گے جن میں پابندیاں بھی شامل ہیں۔ادھر یو این اے او سی کے لئے ہائی ریپریزنٹیٹو میگوئیل اینجل موراٹینوز کی طر ف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاہب اور مذہبی علامات کی توہین نفرت اور پرتشدد انتہاپسندی کو فروغ دیتی ہے جس سے معاشرے میں تقسیم اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

فرانسیسی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی ہفت روزے چارلی ایبڈو کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور عدم برداشت کے واقعات تشویش کن ہیں جن پر ہم گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کے حق کو تمام مذاہب کے عقائد اور ان کے بنیادی اصولوں کا مکمل احترام کرتے ہوئے استعمال کیا جائے۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دہشت گردی کے واقعات کا تعلق ہر گزکسی مذہب ، قوم، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہ جوڑا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes