فرانس میں بھائی چارے اور امن کے فروغ کیلئے مسلم نوجوانوں کا گرجا گھر کی حفاظت کا فیصلہ – Kashmir Link London

فرانس میں بھائی چارے اور امن کے فروغ کیلئے مسلم نوجوانوں کا گرجا گھر کی حفاظت کا فیصلہ

پیرس (کشمیر لنک نیوز) فرانس میں رہائش پذیر مسلمان جونوانوں کے ایک گروہ نے ملک میں جاری حالیہ دہشت کی لہر میں امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے اعلان کیا ہے کہ وہ چرچ کے باہر اسکی حفاظت کیلئے پہرہ دینگے۔

فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے شہر نیس میں گرجا گھر پر گذشتہ دنوں انتہا پسند حملے کی خبر سننے کے بعد فرانسیسی نژاد مسلمان الیاس بن فرحت نے انتہائی مثبت ردعمل کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا عملی ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر نوجوان مسلمانوں کا ایک گروپ بنایا ہےجو شہر کے مقامی گرجا گھر کے باہر پہرہ دیں گے۔ ان نوجوانوں کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا جا رہا ہے تا کہ علامتی طور پر ان مذہبی مقامات کی حفاظت کی جائے اور سروس کے لیے آنے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔

نیس کے قریب لودیو کے جنوبی قصبے میں 13 ویں صدی کے گرجا گھر کے پادری کا کہنا ہے کہ اس ہنگامی صورتحال کے دوران مسلمان نوجوانوں کے اس اقدام نے دل کی گہرائیوں کو چھو لیا ہے۔
اس تحریک کے بنیادی محرک الیاس بن فرحت نے میڈیا کو مخصوص جنوبی فرانسیسی لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کسی بھی چیز سے زیادہ فرانسیسی کے طور پر خود کی شناخت کرائی، انہوں نے بتایا کہ میری والدہ الجزائر میں پیدا ہوئیں جب کہ میں فرانس میں پیدا ہوا اور صرف فرانسیسی زبان بولتے ہوئے بڑا ہوا ہوں اور میں مسلمان ہوں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ فرانس میں جب بھی کوئی انتہاپسندی یا تشدد کا واقعہ ہوتا ہے اس میں فرانسیسی مسلمانوں کو ایک نئی بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔
اس نوجوان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل نیس میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو بہت دکھ ہوا حالانکہ میں شدید بیمار تھا لیکن میں کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا تاکہ سبھی جاگ جائیں۔ الیاس بن فرحت یہاں فرانسیسی آئل کمپنی ٹوٹل میں کام کرتا ہے اور ایک مقامی فٹ بال کلب کا کوچ بھی ہے، کا کہنا تھا کہ اس نے اس سلسلے میں اپنے ایک مسلمان دوست سے گفتگو کی۔

اگلے مرحلے میں دونوں نے اپنے دوستوں اور اپنی فٹ بال کلب کے افراد میں سے رضاکاروں کو بھرتی کیا اور اس سوچ پر عمل شروع کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ فرانس حکومت کے حساس مذہبی مقامات پر سیکیورٹی بڑھانے کے وعدہ کے بعد انہوں نے مقامی پولیس کے ساتھ بھی ہم آہنگی پیدا کی ہے اور اب وہ اس امر پر غور کررہے ہیں کہ اپنے اس آئیڈیا کو کس طرح آگے بڑھایا جائے اور کرسمس کے موقع پر اور دوسرے شہروں میں بھی سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes