ای یو ڈس انفو لیب کی یورپی ممبران پارلیمنٹ کو پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈہ مہم بارے بریفنگ – Kashmir Link London

ای یو ڈس انفو لیب کی یورپی ممبران پارلیمنٹ کو پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈہ مہم بارے بریفنگ

برسلز (کشمیر لنک نیوز) برے کام کا انجام بالآخر برا ہوتا ہے، آزادی کے بعد سے بھارت نے ہمسایہ ممالک کیساتھ جو کچھ بھی برا کیا وہ ناصرف کھل کر سامنے آرہا ہے بلکہ نقاب اترنے پر اصل چہرہ بھی سامنے آتا جارہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ظلم ہو یا یا پنجابی کسانوں کا استحصال، پاکستان میں دراندازی ہو یا چین کیساتھ سدت اندازی ہر گجہ بھارت کو ذلیل و رسوا ہونا پڑ رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یورپ میں اسکے جعلی اداروں کے ذریعے پاکستان کے خلاف ہونے والے پرپیگنڈے نے بھی بھارتی چہرے کو داغدار کیا ہے۔

اب خبر آئی ہے کہ یورپین پارلیمنٹ نے بھارت سے متعلق فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ’ای یو ڈس انفولیب‘ کے انکشافات پر نوٹس لے لیا۔ ای یو ڈس انفولیب کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بھارت کا مکروہ چہرہ بےنقاب کرتے ہوئے یورپی پارلیمانی کمیٹی کو معاملے پر بریفنگ دی ہے جس میں پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا سے ممبران یورپی پارلیمنٹ کو آگاہ کیا گیا۔

واضع رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں یورپی تنظیم ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے بھارتی جھوٹ کی فیکٹری ’انڈیا کرونیکل‘ اور ’ای یو کرونیکل‘ کو بے نقاب کیا تھا جس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ انٹرنیٹ پر جعلی خبروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’ای یو ڈس انفولیب‘ نے بڑے انکشافات کئے تھے۔

تنظیم کے مطابق بھارت ویب سائٹ انڈین کرونیکل کے ذریعے جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔ انڈین کرونیکل اقوام متحدہ کی تنظیموں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس سے جعلی خبریں پھیلاتی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ انڈین کرونیکل نے یورپی یونین کے لیے نئی ویب سائٹ بنائی ہے جس کے ذریعے یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس بنا کر ان سے جعلی مضامین شیئر کرائے جاتے ہیں۔

بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی ان جعلی خبروں کو بھارت میں پھیلاتی ہے۔ بھارت میں بزنس ورلڈ میگزین اور دیگر ادارے انہیں شائع کرتے ہیں۔ اس سے بھارت اور یورپی یونین میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلایا جاتا ہے۔بھارتی ادارہ سری واستوا اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان اور چین کے خلاف منفی مواد کی تشہیر میں ملوث ہے۔

ای یو ڈس انفو لیب کی تحقیق کے مطابق بھارت 15سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو غلط مواد کے ذریعے گمراہ کر رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes