مسافر راہ وفا کا – Kashmir Link London

مسافر راہ وفا کا

میں ایک سیدھا سادا فوجی ہوں
انسانی دماغ کی پیچیدگیوں کے متعلق نصابی علم سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔اور نہ ہی روحانیات کے خارزاروں میں آبلہ پائی کی ہے۔اگر تھوڑا بہت ان معاملات کا علم ھوتا تو نصف صدی سے دماغ کے کسی کونے میں چپکی داستان کا بھید ضرور پا لیتا۔
قصہ تو نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ کا ہے مگرمیں اب کیوں سنا رہا ہوں
شاید میں عمر کے اس حصے میں ہوں جب ماضی کی سکرین روشن ہو جاتی ہے اور حال دھندلانے لگتا ہےبلکہ یوں کہا جاۓ تو مناسب ہو گا کہ حال بے حال ہونے لگتا ہے۔ پچاس سال قبل کی بات توجزئیات کےساتھ یاد رہتی ہے مگر یہ بھول جاتےہیں کہ کل کیا کھایا تھا۔۔۔ جن لوگوں کے جنازے میں شریک ھو چکے ہوں ان کی کوئی اولاد سرراہ مل جاۓ تو انکے والدین کا حال دریافت کرنے لگتے ہیں۔کوئی بھانجا بھتیجا دو ماہ پہلے مل کر گیا ہو تو گلہ کرتے ہیں کہ برسوں سے خبر نہیں لی۔ ہر دم عینک ،ٹوپیِ ، رومال کی ڈھنڈ یا پڑی رھتی ہے۔ پوتے پوتیاں دادا کی مخبوط الحواسیوں پر دبی دبی ہنسی ہنستے ھیں۔
لیجئے ! میں پھر بہک گیا۔۔۔۔۔۔ سب بڑھاپے کا قصور ہے

ہاں تو میں نصف صدی سے کچھ قبل کی بات سنا رہا تھا۔۔۔۔۔ فوجی درسگاہ سے تربیت کے سخت مراحل سے گزر کر افسری کے پھول کندھوں پر سجاۓ نکلا تھا۔۔۔ جس گاؤں میں سب سے بڑا عہدہ ریٹائرڈ صوبیدار کا ہو وہاں ایک نوخیز لفٹین کسی عجوبے سے کم نہ تھا۔ وہ جو ہم عمر دھقان ابن دھقان تھےاور بچپن میں ساتھ باندرکلا کھیلتے تھےانکی نظروں میں احترام اور مرعوبیت کےملے جلے انداز تھے۔ ساتھ کھیلی ناریاں راہ چلتےدیکھ لیتیں تو دوپٹے کا پلو دانتوں میں دبا کرایک دوسری سے کانا پھوسی کرنے لگتیں۔بزرگوں کی شفقت میں فخر کا رنگ نمایاں تھا۔

چند دن کی چھٹی گزار کر واپس یونٹ میں آیا تو اماں کاخط ملا”پتر ادھر وچولنوں نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے۔ روز ہی کوئی نہ کوئی رشتہ لےکر چلی آتی ہیں۔ یا تو کہیں منگنی کرا لےیا ہمیں اپنے پاس بلا لے۔ سنا ہے کہ فوجی چھاؤنیوں میں سکول بہت اچھے ہوتے ہیں۔ تیرے چھوٹے بھائیوں کو ادھر ھی داخل کروا دیں گے۔گاؤں کی زمین ٹھیکے پر دے دیں گے اور مال ڈنگر ساتھ لے آئیں گے۔ تو اتنا بڑا افسر ہے، تجھے تو بہت بڑی کوٹھی ملی ہوگی۔” ساتھ میں اب تک آنے والے رشتوں کی تفصیل لکھی تھی (میں اگرچہ ابھی شادی یا منگنی کرنے کے موڈ میں نہ تھا پھر بھی چسکے کی خاطر تمام تفصیل پڑھ گیا) میری بھولی اماں کو معلوم نہ تھا کہ لفٹین کو کوٹھی نہیں ملتی ۔ اس نے میری نوزائیدہ افسری کی زمیں پر اپنے خوابوں کا محل کھڑا کر لیا تھا جس میں وہ اپنے مال ڈنگر سمیت رہ سکتی تھی۔

اور میں اپنے طور پر سمجھے بیٹھا تھا کہ اکیڈیمی سے پاس آؤٹ ہو کر ایک تربیت یافتہ فوجی افسر بن چکا ہوں،اب معلوم ہوا کہ اصل تربیت تو شروع ہوئی ہے۔ دس جوانوں کی پلا ٹون میری کمان میں دے کر جنگی مشقوں پر رروانہ کر دیا گیا۔ انہی دس میں سے ایک وہ بھی تھا۔۔۔ گوری رنگت اورچھریرے بدن والا سیماب صفت لانس نایئک جمال راٹھور،جس کو دنیا میں دو چیزوں سے عشق کی حدتک محبت تھی۔۔۔۔ ایک اسکی ماں جوچھ سال کے ننھے جمال کو سینے سے لگاۓآگ اور خون کا دریا پار کر کے جمّوں کے راستے سیالکوٹ میں داخل ہوئی تھی اور دوسرا کشمیر، جہاں وہ اپنےباپ اور بھائی بہنوں کی لاشوں کو بے گوروکفن چھوڑ آیا تھا ۔

یہ کہانی جمال راٹھور اور اس کی ماں کی کہانی ہے جو اس جنّت ارضی کو ڈھونڈتے تھےجہاں پہاڑی چشموں کاجلترنگ بجتا تھا،شفّاف جھیلوں کے ائینہ سے پانیوں میں صد رنگ پھول، نیلا آسمان اورسرسبز پہاڑ عکس ھوتے تھے۔اور جہاں سے وہ زبردستی نکالے گئے تھے۔ وہ سرزمین انکے وجود کا گمشدہ حصہ تھی۔
جمال کی ہر بات میں اس کی ماں کا حوالہ ضرور ہوتا “میری ماں جی کہتی ھیں”اس کا تکیہ کلام تھا۔
“میری ماں جی کہتی ہیں کہ غلامی بہت منحوس چیز ھے اور کشمیری عرصے سےڈوگروں کی غلامی کر رہے ہیں۔ آزادی کے بعد امید بندھی تھی کہ پاکستان سے الحاق کے بعد ہم بھی آزادی کا سانس لیں گے مگر ۔۔۔۔۔۔۔!وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیتا یا شاید مکمل کردیتا۔۔۔۔؟؟؟
“سر! میری ماں جی بہت بہادر ہیں، وحشی ڈوگروں سے اپنی عزت اور چھ سال کے بچے کو بچا کر لانا معمولی بات نہ تھی۔ ہجرت کے دوران انہوں نے ایک ڈوگرے کو سر پر پتھر مار کر ہلاک کر ڈالا تھا” اس نے اپنے خونی سفر کی روداد سناتے ہوۓ بتایا تھا۔
“سر! میری ماں جی جیسے کشمیری کھانے کوئ نہیں پکا سکتا۔ کبھی آپ ہمارے گاؤں آئیں تومیں آپ
کو انکے ہاتھ کے بنے گوشتابے اور ہریسہ کھلاؤں گا، آپ ان کا زائقہ تمام عمر نہ بھول پائیں گے۔”
وہ ہونٹوں پر زبان پھیر کرنچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا لیتا گویا ماں کے پکاۓ کھانوں کا زائقہ محسوس کرتا ہو

راجوڑی کے قریب اپنے آبائی گاؤں کی خوبصورتی کا زکر کرتے اس کی آنکھوں میں جگنوٹمٹماتےاور وہ چھ سال کے بچے جیسا معصوم لگتا اور جب وہ کہتا “سر میری ماں جی کہتی ہیں کہ ایک دن ایسا ضرورآئے گا جب ہمیں بے گھر کرنے والے اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔انہوں نے یہ بات شروع سے ہی میرے زہن میں بٹھا دی ہے کہ ہمیں اپنا وطن اپنی جان کی قیمت پر بھی واپس لینا پڑا تو لیں گے۔”تو وہ فولاد میں ڈھلا ہوا دکھائی دیتا۔

اگرچہ ایک سپاہی کو یہ سوچنا نہیں چاہیے کہ جنگ کیوں ہوتی ہے مگر میں سوچتا تھا۔ مجھے یقین ہےکہ مجھے منتخب کرنے والے اگر میرے دماغ کے پوشیدہ گوشوں تک رسائی پا لیتے تو شاید وہ مجھے فوج میں لینے کا فیصلہ نہ کرتے۔ اکیڈیمی میں تربیت کےدوران اس حوالے سے ہمارے زہن صاف کر دیے گئے تھےمگر پھر بھی۔۔۔۔ کبھی کبھی۔۔میں ایسا سوچنے لگتا تھا۔
اور اب جب کہ میں عملی زندگی میں حقائق کا سامنا کر رہا تھا تو مجھے میرے سوالوں کے جواب مل رہے تھے۔ مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ امن قائم رکھنے کے لیے جنگ نہ سہی ، جنگی تیاری بہرحال ضروری ہےورنہ جرم ضعیفی کا صلہ غلامی اور مرگ مفاجات کی صورت میں چکانا پڑتا ہے۔
کبھی سر سبزاور زرخیز خطّوں پر طاقتوروں کی رال ٹپک پڑتی ہے تو وہ اپنی سپاہ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں۔
کبھی اکلوتی سپر پاور ہونے کے زعم میں تیل سےمالامال ملکوں کوحریص نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں
اور کبھی اپنا نظریہ مسلط کرنے کی خاطر دور دراز ملکوں کے مکینوں کو نیپام بموں سے جلا ڈالتے ہیں
ابھی شانوں پر سجے پھول دو سے تین ہوۓ ہی تھےکہ طبلِ جنگ بج اٹھا۔ دشمن اپنی عددی برتری اور جنگی سازوسامان کی کثرت کے بل پر میرے وطن کو روندنےچل پڑا۔ جدید ترین اسلحے سے لیس اور خود سے چھ گنا بڑے دشمن کو سرحدوں پر روکنا کچھ آسان نہ تھا مگرخدا کے پراسرار بندے
سروں پہ کفن باندھےسرزمین کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہو گئے۔

جنگی تجزیہ نگار کچھ بھی کہتے پھریں، فوجی ہائی کمان کی اپنی مجبوریاں ھوںگی، سیاستدانوں کے بیانات سے بھی کچھ لینا دینا نہیں،بس یہ کہنا ہےکہ انفرادی شجاعت کی جو داستانیں ہمارے افسروں اورجوانوں نے رقم کیں ان کو صفحہءقرطاس پر لانے کے لئے کوئی ارنسٹ ہیمنگوے ہوتا جوfor whom the bell tolls یاfarewell to arms Aجیسا کوئی ناول لکھتا تو ہمارے عسکریوں کے کارنامےجنگی تاریخ میں ہمیشہ کے لیےامر ہو جاتے۔
دشمن کی اور اپنی جنگی طاقت کے تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے کمانڈروں کوچھاپہ مار کارروائیوں کا فیصلہ کرنا پڑا- یعنی دشمن کے علاقے میں تین تین چارچار کمانڈوز پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بھیجی جائیں جوپل اڑا کردشمن کی سپلائی لائن کاٹ دیں،ایمونیشن کے زخائرتباہ کر دیں،رات کے وقت کھڑے ٹینکوں کوبرباد کر دیں۔

میری کمپنی کو ایسی ہی ایک کاروائی کا حکم ملا۔ ایک جگہ دشمن کا توپخانہ بلندی پر ہونے کے باعث ہمارا بہت نقصان کر رہا تھا۔مجھے کمپنی میں سے چار جوان منتخب کرنے اور ان کو ساتھ لےجا کر توپخانہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔۔۔۔ ایک مشکل ٹاسک،جس میں واپسی کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔
لانس نائک جمال راٹھور،جو دو سال پہلے ایک جنگی مشق میں میری پلاٹون میں تھا،میرے حافظے سے تقریباّ محو ہو چکا تھا۔حسنِ اتفاق سے وہ میری کمپنی میں شامل تھا۔ چھاپہ مار پارٹی میں شامل ہونے کے لئےبھاگا ہوا آیا اور ساتھ جانے کے لیے مِنت سماجت کرنے لگا۔ میں جانتا تھا کہ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہے۔ میں اس پر خطر مہم پر اسے ساتھ لے جانے میں متّامل ہوا لیکن کمپنی حوالدارنے اس کی پرزورسفارش کی۔ اس کے خیال میں دشمن کےعلاقے میں رہنمائی کےلیےجمال بہترین انتخاب تھا۔
حوالدارتجربہ کار فوجی تھا ۔ دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پرلڑ چکا تھا۔میں نے اس کا مشورہ قبول کرتے ہوۓ لانس نائک جمال راٹھور کو چھاپہ مار پارٹی میں شامل کر لیا
“بہت بہت شکریہ سر! میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا “۔ وہ جانتا تھا کہ کہ یہ مہم خطرناک یے اور واپسی کا امکان محض دس فیصد ہے ، اس کی ممنونیت مجھے حیران کرتی تھی۔
اس رات پچھلے پہرکے گہرےاندھیرے میں دو رکعت نفل ادا کیے ، مہم کی کامیابی کی دعا کی اور ہتھیار اور ایمونیشن ساتھ لے کر چل پڑے۔ ممکنہ شہادت کے سفر پر نکلتےہوۓ ہم میں سے کسی نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے اہل و عیال یا عزیزو اقارب کے بارے میں نہ سوچا تھا۔ بس یہ یاد تھا کہ دشمن کے ناپاک ہاتھ دھرتی ما ں کے آنچل سے دور رکھنے ہیں۔
یہ پہاڑی علاقہ تھا۔ دشمن کا توپخانہ بلندی پر تھا مگر ہمارے لیے پہاڑی ٹیکریوں، خشک برساتی نالوں اور گھنے درختوں کی صورت میں اچھے چھپاؤ موجود تھے۔ کچھ دیر تک چلنے کے بعد ہم ایک نالے میں داخل ہو گئے ۔ برسات گزر چکی تھی لہٰذا نالہ خشک تھااور نسبتاً چڑھائی کی جانب تھا۔ ہم بے آوازآگے بڑھے جاتے تھے۔اور دشمن کے علاقے میں داخل ہو چکے تھے ۔ ہم جوں جوں آگے بڑھتے تھے ،نالے کی گہرائی کم ہوتی جاتی تھی۔ اچانک میری نظردو سنتریوں پر پڑی جو نالے کے کنارے گشت کر رہے تھے۔ وہ اندھیرے میں سایوں کی مانند دکھائی دیتے تھے۔اگر وہ زرا سا مڑ کر دیکھ لیتے تو ہماری موجودگی کا علم ہو جانا یقینی تھا۔میرے اشارے پرایک جوان اور حوالدارچیتے کی سی تیزی سے بے آوازان کی جانب بڑھے، ان کو عقب سے دبوچ کرمنہ پر ہاتھ جمایااور چاقو دل میں اتار دیا۔ دونوں سنتری بغیر آوازنکالے ٹھنڈے ہو گئے تھے۔ان کی لاشیں اٹھا کر نالے میں پھینک دی گئیں اوریہ سارا عمل دس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو گیا ۔میں ان کو پھرتی سے ایکشن مکمل کرنے پر شاباش دینا چاھتا تھا مگریکا یک رائفلیں فائر ہونے لگیں۔شائد سناٹے میں ابھرنے والی سرسراہٹ سےگشت پر موجود دیگر سنتری چوکؔنا ہو چکے تھے ۔ جمال نے اپنے منہ سے گیدڑ کی آواز نکالی تو رائفلیں خاموش ہو گئیں اور کچھ لوگوں کے ہنسنے کی آوازآئی۔۔۔۔ ہم دشمن کو دھوکا دینے میں کامیاب رہےتھے۔
آگے نالہ ختم ہو رھا تھا۔کھلی زمین پر ہر دم دیکھ لئے جانے کا خطرہ تھا۔میں نے نیچے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہم کافی بلندی پر آ چکے تھے۔میرا خیال تھا کہ ہم تارگیٹ کے نزدیک ہیں مگر جمال نے میرا خیال مسترد کر دیا اور بتایا کہ ابھی مزید چڑھائی باقی ہے ۔ ہم گھنی جھاڑیوں اور ٹیکریوں کی آڑ میں پتھریلی زمین پر پیٹ کے بل رینگتے ہوۓ آگے بڑھنے لگے۔ حوالدار نے سر اٹھا کرآسمان کی جانب دیکھااور دھیرے سےسرگوشی کی “سر، ستاروں کی پوزیشن بتاتی ہے کہ ایک گھنٹے میں ہلکااجالا پھیلنے لگے گا، ہمیں ہر صورت میں اس سے پہلے تارگیٹ پر ہونا چاہیے”

آدھے گھنٹے کا مزید سفر طے کرنے کے بعد جمال نے تارگیٹ پر پہنچنے کا مژدہ سنایا” دشمن کا توپخانہ یہیں کہیں ہے سر، اب ہمیں گنوں کے ہائیڈ آوٹ تلاش کرکےان کو تباہ کرنا ہے” اس کےلہجےمیں دبا دبا سا جوش تھا ۔ میں نے سرگوشیوں میں جوانوں کو ھدایات دیں “گرنیڈ تیار رکھواور گنیں تلاش کر کے ان پر پھینکتے جاؤ۔ شکار اپنا اپنا۔۔اب تم میں سے ہر ایک اپنا کمانڈر خود ہے۔جاؤ۔۔ اللہ تمہارا مددگار ہو۔”

میں نے ایک گرنیڈ کی پن نکال کر سپرنگ کو انگوٹھے سے دبا لیا اوراندھیرے میں تارگیٹ تلاش کرنے لگا۔ اچانک ایک ٹیکری کے پیچھے سے دھماکے کی آوازسنائی دی اور ماحول ایک لمحے کے لیے روشن ہو گیا۔ میرے کسی جوان نے شکار مارلیا تھااور ایک لمحے کی روشنی میں مجھے اپنے بہت قریب ایک گن بھی نظر آگئی تھی جو فوراً ہی میرے گرنیڈ کا نشانہ بن گئی۔ دشمن کی مشین گنوں نے تڑاتڑگولیاں برسانا شروع کر دیں اور ساتھ میں روشنی کے گولے فائر ہونے لگے۔ یہ روشنی اگر ہمیں ظاہر کرتی تھی،تو دشمن کی گن پوزیشنز بھی آسانی سے نظر آرہی تھیں۔اور میرے جوان گولیوں کی بارش میں دوڑ دوڑکردشمن کی توپوں کو تباہ کرتے ہوۓ شہید اور زخمی ہو رہے تھے۔ ایک مشین گن پوسٹ میرے سامنے تھی ۔ میں نےگرنیڈ پھینک کر اسکو خاموش کر دیا تو فائر میں نسبتاً کمی آگئی۔ دوسری کا حوالدار نے صفایا کردیا۔ فائر رک گیا۔ میرے دونوں جوان شہید ہو چکے تھے۔ایک گولی میرے کولہے کو چیرتی ہوئی نکل گئی تھی۔ مگر ہم نے اپنا مشن مکمل کر لیا تھا۔

حوالدار نےوائرلیس پر بٹالین ہیڈ کوارٹر کو کامیابی کی اطلاع دی اور ایڈوانس کرنے کو کہا ۔ ملگجا اجالاپھیل رہا تھا۔ اچانک میری نظرجمال پر پڑی جو زمین پرگرا ہوا تھا اور اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔اس کے جسم سے متعدد گولیاں پار ہو گئی تھیں اور خون تیزی سے بہ رہا تھا۔ میں جلدی سے فیلڈ پٹًی نکال کر اس کے زخموں پر لپیٹنے لگا

“رہنے دیجئے سر!میں شہادت کی خوشبو سونگھ رہا ھوں” اس نے میرا ہاتھ روکتے ہوئے کہا۔
“نہیں جمال ! میں تمہیں اٹھا کر پیچھے لے جاؤں گا ۔ تم زندہ رہو گے، اپنی ماں جی کے لیے”
“میرا مشن پورا ہو گیا سر،۔۔۔اب ماں جی ۔۔۔۔میری شہادت کےفخر۔۔۔۔۔۔۔ کے ساتھ جیئں گی۔۔۔ آپ ۔۔۔۔یہ انگوٹھی۔۔۔۔۔ (اس نےاپنا ہاتھ بمشکل اٹھاکرمیرے سامنےکیا)اور تعویذ۔۔۔۔۔۔ ماں جی تک ۔۔۔۔۔پہنچا دیجیۓ گا ۔۔۔۔۔ میرے ۔۔۔۔ بیٹے کے لیے۔۔۔۔”
“اشہد ان لاالہ الللہ واشہد۔۔۔۔ انّا ۔۔محمد الرسول اللہ “اس نے توحیدورسالت کی گواہی دیتے ہوۓ آنکھیں موند لیں۔
ہمارے ٹروپس نے پیشقدمی کرکے علاقہ قبضے میں لے لیا تا کہ دشمن وہاں دوبارہ وہاں توپخانہ نہ بنا سکے۔ ہم شہداء کی میّتیں پیچھے لے آۓ تھے۔ جنگ بندی کے بعد بھی میرا کچھ عرصہ ہسپتال میں گزرا تھا۔

چھ ماہ بعد میں لانس نائک جمال شہید کی ماں جی کو اس کی امانت لوٹانے جا رہا تھا۔ میری جیپ سیالکوٹ چھاؤنی کی صاف ستھری سڑکوں سے گزر کرکچے پکے کھڈوں بھرے راستوں پر اچھلتی جا رہی تھی جن کے آخر میں سیالکوٹ اورجمّوں کی سرحد پرایک گاؤں میری منزل تھا۔ گاؤں میں داخل ہوتے ہی آوارہ کتے بھونکتے ھوۓ جیپ کے ساتھ ساتھ دوڑتے جاتے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کوئی بندہ نظر آۓ تو شہید کے گھر کا پتہ پوچھوں۔اچانک دیکھا کہ سامنے سے ایک عورت ہاتھ اوپر اٹھاےدوڑتی ہوئی آ رہی تھی گویا مجھے رکنے کا اشارہ کرتی ہو۔ جیپ رکتے ہی وہ قریب آکھڑی ہوئی اورپھولی سانسوں کے درمیان بولی”تم جمال کے دوست ہو نا؟ رات ہی اس نے مجھے بتایا تھا کہ تم آ رہے ہو” مجھے جھٹکا سا لگا اور میں حیرت سے گنگ سا ہو کراس درمیانی عمراور تیکھے نقوش والی زردی مائل گوری رنگت کی اس عورت کو دیکھنے لگا جس کا چہرا جمال کی ماں ہونے کی گواہی دیتا تھا۔
میں کچھ بول نہیں پا یا تھا کہ ایک نوجوان لڑکی سال بھر کے بچے کوگود میں لیے قریب چلی آئی اور عورت سے مخاطب ھوئی “ماں جی آپ پھر باہر آ گیئں۔ آیئے گھر چلیں” اس نے عورت کا بازو پکڑاجس کو اس نے جھٹکے سے چھڑا لیا اور بولی” یہ جمال کا دوست ہے اور اس کی امانت واپس کرنے آیا ہے۔ جمال نے مجھے رات ہی بتا دیا تھا”
“ماں جی ٹھیک کہ رہی ہیں بہن !” میں نے لڑکی کو مخاطب کیا۔ “مگر میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا۔۔۔۔ شہید نے میرے ہاتھوں میں دم توڑا تھا اور ماں جی۔۔۔۔؟؟؟
“ماں جی مجذوب ہو چکی ہیں۔۔۔ خود ہی جمال سے باتیں کرتی رہتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی اکثر باتیں درست نکلتی ہیں۔ آپ ہمارے گھر چلیں اور کھانا کھا کر جائیں۔ ماں جی نے آپ کے لیے ہریسہ تیار کرایا ہے”
میں ایک سیدھا سادا فوجی ہوں ۔انسانی دماغ کی پیچیدگیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ نہ ہی روحانیّت کی وادیوں میں سفر کیا ہے۔ میں آج بھی سمجھ نہیں پایا ہوں کہ جمال شہید کی روح اپنی ماں سے رابطے میں تھی یا وہ شیزوفرینک ہو چکی تھیں؟

50% LikesVS
50% Dislikes