سکاٹ لینڈ؛ مذہبی عبادت گاہوں پر پابندی کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد مساجد میں نمازوں کے قواعد طے – Kashmir Link London

سکاٹ لینڈ؛ مذہبی عبادت گاہوں پر پابندی کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد مساجد میں نمازوں کے قواعد طے

ایڈنبرا (کشمیر لنک نیوز) کورونا لاک ڈائون کے باعث عبادت گاہوں میں مذہبی اجتماعات کی پابندی کے خلاف دائر ایک رٹ کے فیصلے میں کورٹ آف سیشن ایڈنبرا نے اسے غیر قانونی عمل قرار دیتے ہوئے مذہبی آزادی کی اجازت دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی عدالت کورٹ آف سیشن ایڈنبرا کی طرف سے مذہبی عبادت گاہوں پر پابندی کے غیرمناسب ہونے کی بنا پر غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد تمام مساجد، چرچ اور دیگر مذہبی ادارے فوراً کھول دیئے گئے ہیں۔

اس اجازت کے بعد اب کورونا کے متعلق حفظان صحت کی پابندیوں مثلاً دو میٹر کے فاصلے اور ماسک کے ساتھ ایک وقت میں 50 افراد مسجد میں نماز اداکرسکیں گے۔
مسلمانوں کیلئے جمعہ کی نماز کے لئے بڑی مساجد میں اب مختلف ہالز میں مختلف امام پچاس، پچاس نمازیوں کے گروپس کو نماز پڑھائیں گےاور ایک گروپ کے فارغ ہوتے ہی پندرہ بیس منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ مزید افراد کے لئے نئی جماعت کھڑی ہو جائے گی۔

سکاٹ لینڈ کے پاکستانیوں اوردیگر مسلمانوں نے مساجد کے دوبارہ کھلنے کا زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے مساجد کی رونقیں کسی حد تک دوبارہ بحال ہو گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نماز جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لئے مسجد جیسی مقدس جگہ پر جو سکون اور لطف ملتا ہے وہ کسی دوسرے مقام پر ممکن نہیں۔

سکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی عدالت کورٹ آف سیشن ایڈنبرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یورپین کمیشن آف ہیومن رائٹس نے عوام کو مذہبی آزادی کے جو حقوق دیئے ہیں سکاٹش حکومت کے یہ ضابطے ان میں غیر مناسب طور پر مداخلت ہے، اور ایسے افراد جو مذہبی رحجانات رکھتے ہیں ان پر حکومتی فیصلے کے اثرات جانچنا تقریباً ناممکن ہے۔
واضح رہے کہ چرچ کے 27 لیڈروں نے عدالت میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ اسکاٹش حکومت نے ایمرجنسی قوانین سازی کے دوران اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes