پریانتھا دیاودانا کے بہیمانہ قتل سے ملکی وغیر ملکی سطح پرسیالکوٹ کی عزت خاک میں مل گئی،خالد چوہدری – Kashmir Link London

پریانتھا دیاودانا کے بہیمانہ قتل سے ملکی وغیر ملکی سطح پرسیالکوٹ کی عزت خاک میں مل گئی،خالد چوہدری

مانچسٹر(محمد فیاض بشیر)سیالکوٹ کی فیکٹری کے منیجرسری لنکن شہری پریانتھا دیاودانا کیساتھ جو کچھ ہوا،اس پر لکھنے والوں اور رپورٹ کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔میرے جیسے کمزور دل انسان نہ تو کچھ لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس واقع پر کوئی کمنٹس دے سکتے ہیں۔ہم مودی اور اس کے لوگوں پر لعنتیں بھیجتے رہتے ہیں کہ وہ کئی دہائیوں سے ہمارے کشمیری مظلوم بہن بھائیوں، ماؤں بیٹیوں،بچوں اور بوڑھوں کو بے دردی سے شہید کرتے چلے آ رہے ہیں ،مجھے آج سیالکوٹی ہونے پر شرم آ رہی ہے اور میں اس دن سے سویا تک نہیں ہوں، ان خیالات کا اظہار خالد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کیا۔

خالد چوہدری نے مزید کہا کہ اس واقعہ سے سیالکوٹ کے لوگوں کی ملکی و غیر ملکی سطح پر عزت خاک میں مل گئی ہے یہاں کے باعزت و غیرت مند لوگ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں،میں واقعہ والے دن بھی سیالکوٹ میں تھا اور ابھی بھی یہاں پر ہوں،ابھی تک لوگ دو سگے بھائیوں کے اس واقعے کو نہیں بھولے جو سینکڑوں افراد کے ہجوم میں اور سکیورٹی اداروں کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔انکی لاشوں کی بے حرمتی انسانیت کے منہ پر طمانچہ تھا۔

اب کی بار پھر وہی ہوا کہ ایک انسان کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو سینکڑوں افراد کی موجودگی اور پولیس اہل کاروں کے سامنے سڑک پر گھسیٹتے ہوئے نذر آتش کر دیا گیا،اب کی بار وہاں پر موجود لوگوں اور سکیورٹی اداروں کے منہ پر طمانچہ نہیں بلکہ چہرے پر ایک بدنما دھبہ اور بدنامی کا گہرا نشان ہے جو شا ید مرتے دم تک مٹانے سے بھی نہ مٹ سکے۔کسی نے کیا سچ کہا تھا کہ دنیا میں سب سے اگرخطرناک کوئی چیز ہے تو وہ انسان ہے۔ میں ایک سیالکوٹی اور انسان ہونے کے حوالے سے مقتول سری لنکن شہری (پریانتھا دیاودانا) کی فیملی اور سری لنکن ہر شہری سے ہا تھ جوڑ کر معافی کا طلبگار ہوں۔

موجودہ حکومت ، سکیورٹی اداروں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ملک و قوم کی عزت بچانے کے لیے اس واقعہ کے ذمہ داران اور سری لنکن شہری کے قاتلوں کو سر عام پھانسی دیکر مقتول کے لواحقین اور سری لنکن شہریوں کو انصاف فراہم کرکے پاکستان کا نام عدل و انصاف میں بلند کیا جا ئے۔دنیا کو باور کرایا جائے کہ یہ پاکستان ہے یہاں پر عدل و انصاف کا بول بالا ہے یہ انڈیا نہیں ہے جہاں پر مظلوم و معصوم کشمیریوں سمیت دیگر مسلمانوں کو ہر روز ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بے رحمی و بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔

انڈیا میں نہ تو کوئی مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے نہ قانون حرکت میں آتا ہے اور نہ ہی میڈیا پر کوئی کوریج دی جاتی ہے۔پاکستان کی عوام ایسے واقعات کی پرزور مذمت کرتی ہے،پاکستان کے ادارے،حکومت اور عدل و انصاف فراہم کرنے والے ادارے ایسے واقعات کا از خود نوٹس لیکر مظلوم کو حق و انصاف دلانے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ آئندہ کوئی بھی کسی انسان سے ظالمانہ سلوک کرنے کی جرآت نہ کر سکے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes