احسان فراموشی؛ ایک نہایت سنگین اخلاقی جرم

اخلاقیات دم توڑنے لگیں تو جان لیں کہ معاشرہ اپنے منطقی اختتام کو پہنچنے والا ہے۔اخلاقی معیار اور رویے ہر معاشرے میں مختلف ہوتے ہیں، شاید موسموں کی طرح اخلاقی رویوں کا تعلق بھی جغرافیائی تبدیلیوں سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یورپی ممالک میں انتہائی کم لباس ، برہنگی کی حدوں کو پار کرنے والی عورت کو بھی راہ چلتے اس کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی چھو سکتا ہے نہ ہی چھیڑ سکتا ہے۔ ایسا کرنے والے کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ معلوم نہیں اس طرح کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم اس معاشرے کو کہاں سے ملتی ہے، شاید نظام کی قوت کا اثر ہے کہ آپ کو مغرب کی کوئی لڑکی شام ڈھلنے کے بعد اکیلے گھر جاتی خوفزدہ نہیں دکھائی دے گی۔مغربی لٹریچر میں ایسی لڑکیوں کی کہانیاں بھی کم کم ملیں گی جنہیں اپنے تعلیمی ادارے یا پھر دفتر سے واپسی پر کسی بدکار نے اپنے جنون کا نشانہ بنادیا ہو۔ اور اگر کبھی ایسا ہو بھی جائے تومعاملے کا تفتیشی افسر کسی بھی قسم کے رعب داب میں نہیں آتا، نہ ہی اسے پیسے کی چمک اپنا اسیر کرپاتی ہے۔اس معاشرے میں روز جزا و سزا کا تصور کسی حد تک موجود ضرورہے لیکن اتنا طاقت ور نہیں جتنا ہمارے معاشرے میں ہے مگر پھر بھی اخلاقی اقدار اور مثبت سماجی رویوں کے معاملے میں وہ معاشرہ ہمارے ایشیائی معاشروں سے بہت آگے ہے۔اس کے برعکس بھارت میں چلتی بس میں اکیلی رہ جانے والی مسافر لڑکی کی عزت کا ڈرائیور اور کنڈکٹر کے ہاتھوں کھلواڑ ہوتا ہے اور پھر اسے بس سے نیچے پھینک دیا جاتا ہے لیکن قانون خاموش رہتا ہے۔ چند ایک این جی او والے احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں، پلے کارڈز اٹھا کر تھوڑا شور مچاتے ہیں اور معاملہ ٹھپ۔قانون ثبوت اور گوا ہ مانگتا رہتا ہے اور انتظار کرتے کرتے بالآخر چپ ہوجاتا ہے۔ یہی خاموشی اور بے حسی دراصل اخلاقیات کی بے کفن لاش کہلاتی ہے۔
2002میں بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے خون سے ندیاں بھر گئیں۔ موجودہ وزیر اعظم جناب نریندرا مودی کی بے باک قیادت میں مسلمانوں کو چن چن کر مارا گیا، ان کے گھر جلائے گئے، کاروبار لوٹے گئے، بیٹیوں کی عزتیں پامال کی گئیں لیکن قانون خاموش رہا۔کچھ لوگوں نے مودی صاحب کی سرپرستی میں ہونے والے اس قتل و غارت کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع بھی کیا لیکن سب بے سود، بیس سال تک فائلیں ادھر سے ادھر ہوتی رہیں، پیشیوں اور تاریخوں کا سلسلہ جاری رہا اور بالآخر اب 2022میں انڈین سپریم کورٹ نے مسٹر مودی کو کلین چٹ جاری کردی کہ اس سارے معاملے سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
ادھر انڈین ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی بھارتی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ 2002میں گجرات میں ہونے والے فسادات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے لیے احکامات جاری کیے جائیں لیکن یہ درخواست بھی یک جنبش قلم مسترد کردی گئی۔ واضح رہے کہ 2014تک امریکا جیسے اصول پسند ممالک نے گجرات فسادات میں ملوث ہونے کے باعث مودی صاحب کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائدکیے رکھی تھی۔قانون کی ایسی جانبداری اور بے بسی، مجرموں کو مزید جرائم پر اکساتی ہے۔سپریم کورٹ سے کلین چٹ ملنے کے بعد مودی صاحب کے حوصلے بھی اور بلند ہوگئے۔ حال ہی میں ان کی حکومت نے مدت سے اقلیتوں بالخصوص مسلمان طلباء کو دیے جانے والے ‘مولانا آزاد فیلو شپ سکالر شپ’ پر بھی پابندی لگادی ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے نام پر دیے جانے والے اس وظیفے سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہشمند سینکڑوں مستحق مسلمان طلباء ہر سال فیض یاب ہوتے تھے۔بھارت میں مسلمان تنظیمیں اس زیادتی پر شدید احتجاج کر رہی ہیں لیکن مودی سرکار کا خیال ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔مودی صاحب کے نظریات پر عمل کرتے ہوئے اب آر ایس ایس کے غنڈے سرعام یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ بھارت کو عیسائیوں اور مسلمانوں سے پاک کرو۔ حال ہی میں کرسمس سے چند روز قبل ایک آر ایس ایس لیڈر نے ہندوؤں کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عیسائی ہمارے دشمن نمبر ایک ہیں اور دوسرے نمبر پر مسلمان ہیں۔ ہر ہندو کو اپنے گھر میں اسلحہ رکھنا چاہیے تاکہ انسانی خدمت کے نام پر کوئی مدر ٹریسا ہمارے ہندو بچوں کو ورغلا کر عیسائی نہ بناسکے۔ انہوں نے مسلمانوں کی مساجد اور مدارس کو بھی ہندوؤں کے بھٹکاؤ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان مدارس اور مساجدکے کردار کو بھی بھارتی معاشرے میں محدود کرنا ہوگا۔
صورت حال نہایت عجیب سی ہے، ایک طرف مغرب اسلامو فوبیا کا شکار ہوکر مسلمانوں کے لیے ہر طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے پر تلا ہوا ہے، دوسری طرف بھارت میں ہندو انتہا پسند مسلمانوں کو جینے کا کوئی حق دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے، برما میں اتنی تعداد میں روہینگا مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا کہ میلوں دور تک زمین کالی ہوگئی، کچھ سادہ لوح مسلمانوں کا خیال تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی عسکری تنظیمیں شاید دنیا بھر مسلمانوں کی حق تلفی، استحصال اور نسل کشی کو روکنے کا باعث بن سکیں گی لیکن ایسا بھی نہیں ہوسکا۔مسلمانوں کا کیا مستقبل ہے، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ سائنس، ٹکنالوجی، طب، کیمیا، معیشت، اقتصادیات جیسے میدانوں میں ہم نے اب تک کیا ترقی کی ہے، اگر یورپ اپنے مواصلاتی سیٹیلائیٹس کی ہم تک رسائی روک دے، اگر گوگل جیسے ادارے ہماری پہنچ میں نہ رہیں تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔بلکہ سچ پوچھیں تو ہم سب آج کل جو ایک دوسرے کی آڈیو اور ویڈیو لیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس ایکٹوٹی کو جاری رکھنے کے لیے بھی ہمیں ہمیشہ Western Toolsکی محتاجی کا سامنا رہے گا۔غیروں کی بندوقیں تھام کر اپنوں کو نشانہ بنانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی صلاحیتیں کم از کم سعودی عرب جیسے ممالک کی خدمات کو سراہنے میں ہی استعمال کر لیں کہ جو پاکستان کی بد ترین اقتصادی صورت حال سنبھالنے کے لیے ہر گھڑی ہر لمحہ ہمارے ساتھ ساتھ دکھائی دیتا ہے۔یاد رکھیے احسان فراموشی بذات خود ایک نہایت سنگین اخلاقی جرم کا نام ہے۔ہم اچھے لوگ ہیں، اخلاقی جرائم میں ملوث ہونا ہمیں کسی طور بھی زیب نہیں دیتا۔