چک ہریام پل کی تعمیر میں پراسرار تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے؛ راجہ وحید بوستان – Kashmir Link London

چک ہریام پل کی تعمیر میں پراسرار تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے؛ راجہ وحید بوستان

اولڈہم (محمد فیاض بشیر) آزاد کشمیر ضلع میرپور کے نواحی علاقے اسلام گڑھ ،کاکڑہ ٹاؤن و دیگر نے منگلا ڈیم کی تعمیر اور پھر توسیع کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کو پاکستان کو روشن کرنے کے لیے ڈبو دیا ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ اسلام گڑھ سے میرپور کی تقریباً 28 کلو میٹر مسافت جو ہم طےکرکے جاتے ہیں وہ 1961 میں ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ہی چک ہریام سے رٹوعہ پل تعمیر کرنے سے کم ہو کر تقریباً 8 کلومیٹر ہوتی لیکن نام نہاد راہنماؤں نے اپنے مفادات کو عوام پر ترجیح دی اور ایسا نہ ہو سکا 1967جب سے ڈیم پایہ تکمیل تک پہنچا ہے اگر گاڑیوں کے ایندھن کا حساب اور پھر اسلام گڑھ میں معیاری ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے جن لاکھوں زندگیوں کو بچایا جا سکتا تھا تو انسانی رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے کو ئیہے جو اسکا حساب دے ۔

ویڈیو: جاگ کشمیر نیوز

چلیں آگے بڑھتے ہیں جنرل ریٹائرڈ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں منگلا ڈیم کی توسیع کا منصوبہ بنا میرپور کی گرد و نواح بسنے والی سادہ عوام کو پھر جھانسہ دیا گیا کہ توسیع کے چک ہریام سے رٹوعہ تک پل تعمیر کا دیرینہ مطالبہ منصوبے کا حصہ بنا دیا گیا ستم ظریفی کہ پل ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے ساتھ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا اسلام گڑھ کے سیاسی عمائدین اور وزیر امور کشمیر نے پچھلے برس دسمبر از خود پل کے افتتاح کا وعدہ کیا تھا اور پچھلے چار سے زائد برسوں سے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور ہماری سیاسی قیادت نے اس پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے اب آزاد کشمیر میں عام انتخابات ہونے میں چند ماہ ہی رہ گئے ہیں سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے پھر سیاست کا بازار گرم ہو چکا ہے جس پر سوائے ماتم کے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ان دکھ سوچ و فکر اور تلخ حقائق کو تحریک انصاف آزاد کشمیر کے برطانیہ میں مقیم متحرک رکن سماجی شخصیت راجہ وحید بوستان نے میڈیا کو دیئے گئے اپنے ایک بیان میں کیا ۔

انہوں نے آپ بیتی بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آج بہت ہی دلی رنج اور صدمہ پہنچا ہے کہ ہمارے علاقے کے سیاسی راہنما پل کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں میں ان سب لوگوں سے پوچھتا ہوں تب آپ کہاں تھے جب راجہ سکندر زمان اور میں نے اور ہمارے کچھ دوستوں نے یہ آواز اٹھائی تھی تو آپ سب لوگوں نے ہمارا ساتھ دینا بھی گوارا نہ کیا اور جب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان حلقہ نمبر 2 سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر پچھلے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار نذیر انقلابی کے گھر آئے تھے تب میں اور راجہ سکندر زمان وزیراعظم کو ملنے کے لئے نزیر انقلابی کے گھر گئے اور وہاں موجود ہمارے کچھ لوگوں نے ہمیں ملنے سے روکا پھر ہم نے ضد کی تو ہم کو ڈپٹی کمشنر میرپور سے ملایا گیا ہم نے یہ پل کی تعمیر کا مسئلہ اٹھایا اور ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہماری عزت کا سوال ہے اور آپ کا یہ مطالبہ وزیراعظم تک پہنچا دیں گے اور وہاں موجود ہمارے کچھ دوستوں نے ہماری منتیں کی مگر آج وہی لوگ پل کی تعمیر کا مطالبہ اور احتجاج کی بات کر رہے ہیں جس سے دل رنجیدہ ہے مسلم لیگ ن کی حکومت سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے دور حکومت میں تو یہ سیاسی مفاد پرستی کے لیے اس وقت ریاست کے وزیراعظم چوہدری عبد المجید کو پل تعمیر نہ ہونے کا الزام دیتے تھے اب تو پچھلے چار سے زائد برسوں سے انکی حکومت ہے تو پھر واویلا کیسا عوام کو حقائق سے آگاہ کریں نہ کے ذاتی مفادات کے لیے ہر چیز داؤ پر لگا دیں۔

اگر انکے بس میں پل مکمل کروانے کے لیے کوئی وسائل نہیں تو عوام پر اتنا رحم کر دیں کہ سچ بول کر جو بھی پل کو مکمل کرنے کے ذمہ دار ہیں انکا گھیراؤ کریں حقیقت میں تو ایسا لگتا ہے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان بھی خالی بھڑکیں ہی مارتے ہیں میرپور کی عوام کو پہلے بھی بے وقوف بنایا گیا اور آئندہ بھی ایسا کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں لیکن یاد رکھیں اب کی بار علاقے کے غیور اور باعزت عوام انکے مکر و فریب میں نہیں آئے گی۔ ہم پاکستان کی مرکزی حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ کب تک کشمیریوں کا استحصال کیا جائے گا اپنے ضمیر کو جگائیں اور ہماری ان گنت قربانیوں کا صلہ جو ایک پل کی صورت میں ہمیں دیا گیا تھا اسے مکمل کریں یا پھر جو حصہ بنا ہوا ہے اسے بھی تباہ کر دیں تاکہ ہم ایک ہی بار ماتم کر کے اس دکھ کو ابدی نیند سلا دیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes