کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر انگلینڈ میں دوسرے لاک ڈائون کا اعلان – Kashmir Link London

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر انگلینڈ میں دوسرے لاک ڈائون کا اعلان

لندن (اکرم عابد) برطانیہ میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعداد ایک ملین ہونے اور اس میں مسلسل اضافے کے خدشے کے باعث وزیر اعظم برطانیہ نے اپنی کابینہ کے ارکان اور محمکہ صحت کے اعلیٰ افسران سے مشاورت کے بعد انگلینڈ بھر میں دوبارہ ایک ماہ کے لاک ڈائون کا اعلان کردیا ہے۔ جسکا اطلاق جمعرات 3 نومبر سے ہو گا۔
ٹین ڈائوننگ اسٹریٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ ملک میں متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث قومی صحت کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز پر پڑنے والے بوجھ کی وجہ سے طبی اور اخلاقی تباہی سے بچنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

انکا کہنا تھا کہ جمعرات تین نومبر سے تمام غیر ضروری دکانیں اور ریسٹورینٹس اور بارز بند رہینگے تاہم تعلیمی ادارے اور ضروری اشیا کے مراکز کھلے رہینگے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ لاک ڈاؤن کے تحت عائد پابندیاں دو دسمبر سے نرم ہونا شروع ہو نگی اور علاقوں میں مرحلہ وار نظام کے تحت معمولات زندگی دوبارہ بحال کیے جائیں گے۔


وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ان اقدامات کے باعث کاروبار پر پڑنے والے اثرات کے لیے انتہائی معذرت خواہ اور افسردہ ہیں۔ تاہم حکومت نے ملازمین کی 80 فیصد تنخواہیں ادا کرنے کے نظام میں نومبر تک توسیع کر دی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ انگلینڈ کے جنوب مغربی حصے میں جہاں کورونا متاثرین کی تعداد سب سے کم ہے، وہاں کے ہسپتالوں بھی ہفتوں میں بھر جائیں گے۔ ایسے میں ڈاکٹر اور نرسیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گی کہ کس مریض کا علاج کیا جائے، کس کو آکسیجن مہیا کی جائے اور کسے نہیں، کسے بچایا جائے اور کسے نہیں، جو تشویش کن ہے۔ تاہم عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ریسٹورنٹس تو بند کردیئے گئے مگر سکولز جہاں سے کورونا سب سے زیادہ بڑھ رہا ہے وہ بند کیوں نہیں کیئے جارہے؟


حالیہ لاک ڈاؤن پابندیوں کے تحت ریسٹورینٹس سے کھانا ٹیک آوے کی اجازت ہو گی جبکہ مے خانے، بارز اور ریستورانٹس گاہکوں کے لیے بند رہیں گے، اور عوام کو اپنے گھروں کے باہر صرف ایک شخص سے ملنے کی اجازت ہو گی۔

وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ملک میں اس برس کرسمس تہوار کچھ مختلف ہو گا، شاید بہت زیادہ مختلف ہو، لیکن میں یہ دلی خواہش اور امید ہے کہ سخت اقدامات اپناتے ہوئے ہم کرسمس کے موقع پر ملک بھر میں خاندانوں کو ایک ساتھ اکٹھا ہونے کی اجازت دے سکیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes