عطیہ شدہ دل پر اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ؛ 14 سالہ برطانوی لڑکی میں بغیر دھڑکن دل کی پیوند کاری – Kashmir Link London

عطیہ شدہ دل پر اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ؛ 14 سالہ برطانوی لڑکی میں بغیر دھڑکن دل کی پیوند کاری

لندن (عدیل خان) برطانیہ کے دو اسپتالوں نےبچوں کے لئے ایک نئی قسم کی ہارٹ ٹرانسپلانٹ سروس شروع کر دی جس سے زندگی کو بچانے والے آپریشنز کے دورانیہ کم ہوگیا۔پروگرام میں ’’ بغیر دھڑکن عطیہ شدہ دل‘‘ کو نو عمر افراد میں پیوندکاری کے لئے دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔برسٹل سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ فریا ہیڈنگٹن پہلی لڑکی ہے جسے یہ دل لگایا گیا، اس نے دل کے لئے دو سال کی بجائے صرف دو ماہ انتظار کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وبا کے باوجود ، 2020 برطانیہ میں بچوں کے دل کی پیوند کاری کے لئے ایک دہائی کا مصروف ترین سال تھا۔

2015 میں ، کیمبرج کےرائل پاپورتھ اسپتال کو یورپ میں پہلےہسپتال کا اعزاز حاصل ہوا جہاں بالغ عطیہ شدہ دلوں کو بازیافت اور ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ لائف سپورٹ ہٹا لینے کے بعد دل کی دھڑکن رک جانے پر بھی اسے محفوظ کیا گیا ۔ ایک خاص آلہ استعمال کرکے اب سرجن مؤثر طریقے سے دل کی دھڑکن دوبارہ شروع اور اسے ٹرانسپلانٹیشن تک صحت مند رہ سکتے ہیں۔پچھلے فروری میں ، اسپتال نے لندن میں گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ اسپتال (جی او ایس ایچ) کے ساتھ تعاون کیا تاکہ بچوں کیلئے خدمات کا دائرہ بڑھایا جاسکے۔

اس وقت تک ، تقریبا تمام پیڈیاٹک ہارٹ ٹرانسپلانٹس کے لئے عطیات ایسے مریضوں کی طرف سے آئے تھے ، جنھیں دماغی موت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اگرچہ ان کے دل کی دھڑکن دوبارہ شروع کی جا سکتی تھی ، لیکن وہ کبھی بھی نہیں جاگ سکتے تھے۔واضح رہے کہ لائف سپورٹ ہٹالینے کے بعد ، دل رک جاتا ہے اور اسے دوبارہ بازیافت کیا جاتا ہے۔ اسے دماغی موت کے بعد عطیہ ( ڈی بی ڈی) کہاجاتا ہے۔ 14 سالہ فریا جوکہ اس طرح کے دل کی سرجری کروانے والی پہلی پیڈیاٹرک مریضوں میں سے ایک تھی ، اس نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ مجھے ایسا حیرت انگیز تحفہ ملا ۔ اگست 2019 میں ، اس کی ریسٹرکٹ کارڈیو مایوپیتھی کی تشخیص ہوئی ، جو تھکاوٹ ، سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔ اسے خبردار کیا گیا تھا کہ دل کی پیوندکاری کے لئے دو سال تک انتظار کرنا پڑے گا ، لیکن گوش اور رائل پاپ ورتھ کے ذریعہ چلائے جانے والے اس پروگرام کا مطلب تھا کہ اس کو صرف آٹھ ہفتوں کا انتظار کرنا پڑا۔

فریا کو آپریشن کے 10 دن بعد ہی اسپتال سے فارغ کر دیاگیا تھا اور وہ چند ماہ میں اپنے پسندیدہ مشاغل دوبارہ شروع کر سکتی ہے جیسے گھوڑے کی سواری۔ اس نے کہا کہ اب مجھے زیادہ صلاحیت محسوس ہو رہی ہے۔ میں لمبی سیر اور پہاڑیوں پر چڑھ سکتی ہوں اور مجھے سانس لینے کے لئے رکنے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں بے حد خوش ہوں کہ مجھے ایسا حیرت انگیز تحفہ ملا ، لیکن یہ جان کر پریشان ہوئی کہ مجھے جس نے عطیہ دیا وہ فوت ہوگیا۔ فریا کے والد ، جیسن کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی لوگوں اور ڈیوائس کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی جس نے اس کی جان بچائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes