برٹش مسلم تنظیموں کا کورونا ویکسین کے خلاف بے بنیاد مہم کے مقابلے میں متحرک ہونے کا عزم – Kashmir Link London

برٹش مسلم تنظیموں کا کورونا ویکسین کے خلاف بے بنیاد مہم کے مقابلے میں متحرک ہونے کا عزم

لندن (عدیل خان) سوشل میڈیا پلیٹ فارم معلومات کی فوری رسائی کیلئے جہاں سود مند ہیں وہیں غلط معلومات پھیلانے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ برطانیہ میں مقیم اقلیتی کمیونٹیز میں واٹس ایپ کے ذریعے کورونا ویکسین کے حوالے سے بے سروپا معلومات کی وجہ سے بہت سے لوگ ڈر اور خوف کا شکار ہیں۔

مسلمانوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی دو تنظیموں مسلم کونسل آف بریٹن اور برٹش اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر ایسے جعلی پیغامات کا توڑ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ان تنظیموں نے وائرل ہونے والی ویڈیوز کے طرز پر میسجز بنائے ہیں جو کورونا وائرس سے متعلق مفروضوں کے خلاف ہیں۔

مسلم کونسل آف برٹن کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور برٹش اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر واجد اختر کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال معلومات کی جنگ تھی۔ لوگوں کو اپنی پریشانیوں اور خدشات کے بارے میں بات کرنی چاہیے لیکن وائرل ہونے والا کچھ مواد ایسا تھا کہ وہ جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی غرض سے بنایا گیا تھا۔ دراصل واٹس ایپ پر ہر قسم کی باتیں گردش کرتی ہیں جس کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں۔

اپنے پراجیکٹ کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ہم نے اسے باقاعدہ ڈیزائن نہیں کیا ہے۔ جو شخص ویکسین کے خلاف ہوتا ہے وہ اپنا کیمرہ چلا کر 60 سیکنڈز تک بات کرتا ہے اور اس ویڈیو کو آگے بھیج دیتا ہے۔ پھر یہ جھوٹ دنیا بھر میں پھیلتا ہے۔ تو ہم اس کا انتظار کرنے والے نہیں تھے۔

اپنی کامیابی کے حوالے سے انکا کہنا تھا یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے دوستوں یا ساتھ کام کرنے والوں کی زیادہ سنتا ہے۔ ہم وہ ہیں جو ان کے برابر مسجد میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم دوست یا رشتہ دار ہیں۔ اسلیئے ہمارا پیغام صرف مساجد ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا ایپس پر بھی تیزی سے پھیلتا ہے جو غلز پروپیگنڈے کے خلاف موثر تحریک ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes