برطانیہ سے کورونا کی زیادہ خطرناک سٹرین پاکستان آچکی، احتیاط لازم ہے؛ ڈاکٹر نوشین حامد – Kashmir Link London

برطانیہ سے کورونا کی زیادہ خطرناک سٹرین پاکستان آچکی، احتیاط لازم ہے؛ ڈاکٹر نوشین حامد

لندن (عمران راجہ) برطانیہ کے وائرس ”سٹرین” کی پاکستان میں موجودگی ثابت ہو گئی ہے، اس وقت تقریباً ملک کے تمام بڑے شہروں میں ”یوکے سٹرین” موجود ہے، سٹرین وائرس پہلے آنے والے کورونا وائرس کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، ان خیالات کا اظہار پاکستانی کی وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹرین نامی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے، اس سے پہلے آنے والے کورونا وائرس کی نسبت موجودہ وائرس سٹرین کی ایک سے دوسرے میں بڑھنے کی شرح تیز ہے، پہلے والا وائرس اگر ایک سے تین لوگوں کو لگتا تھا تو اس کے مقابلے میں سٹرین تقریباً ایک سے دس لوگوں میں پھیلتا ہے، یہ وائرس بہت جلدی آنکھوں، ناک اور منہ کے ذریعے انسانی جسم پر حملہ کرتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ یو کے سٹرین پہلے والے کورونا سے زیادہ مہلک نہیں ہے بلکہ یہ بھی اتنا ہی مہلک ہے جتنا پہلے آنے والا وائرس مہلک تھا لیکن چونکہ یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے تو اس طرح اگر پہلے والے کورونا وائرس سے دس میں سے ایک مریض تشویشناک حالت کو پہنچتا تھا تو سٹرین کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے 100 لوگوں میں وائرس منتقل ہونے کی صورت میں 10 مریض تشویشناک حالت میں مبتلا ہو سکتے ہیں، اسلیئے ہمیں احتیاط کی بہت ضرورت ہے جسکا ابتدائی مرحلہ ماسک کا استعمال ہے۔

ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ سٹرین آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے اس لئے ہمیں ایس او پیز پر بھی زیادہ سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا، عوام کو ماسک کا استعمال ضرور کرنا چاہیے کیونکہ جب تک ہم ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی کو کورونا ویکسین نہیں لگا لیتے اس وقت تک ماسک ہی ویکسین ہے اور ماسک ہی ہمیں اس وائرس سے محفوظ رکھ سکتا ہے، اس کے علاوہ سماجی فاصلہ اور ہاتھوں کو صاف رکھنا چاہیے کیونکہ ہاتھوں کے ذریعے بھی وائرس آنکھوں، ناک اور منہ کے ذریعے انسانی جسم پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وضاحت میں کہا کہ سٹرین نامی کورونا وائرس پہلے برطانیہ میں آیا تھا اور ملک کے کچھ شہروں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں اپنے روزگار کے لئے رہتی ہے اور جب وہ لوگ اپنے گھروں میں واپس آتے رہے تو یہ وائرس اس لئے ملک کے ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں کے لوگ زیادہ یوکے میں مقیم رہے اور وہاں سے اپنے گھروں میں واپس آئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes