دوہفتے قبل لاپتہ ہو جانے والا پاکستانی طالب علم لندن کے ایک ہسپتال سے بازیاب – Kashmir Link London

دوہفتے قبل لاپتہ ہو جانے والا پاکستانی طالب علم لندن کے ایک ہسپتال سے بازیاب

لندن (اکرم عابد) مغربی لندن سے وسط مارچ میں اچانک غائب ہوجانے والا پاکستانی طالبعلم لندن کے ایک ہسپتال سے بازیاب ہوگیا ہے۔
پاکستانی طالب علم شکیل محمد بکس یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا طالبعلم ہے جو ایک روز اچانک گھر سے گاءب ہوگیا جسکے بعد اسکے بھائی اور بہن نے فوری طور پر میٹروپولیٹن پولیس سے رابطہ کیا اور خود بھی اپنے گمشدہ بھائی کی تلاش شروع کردی۔


25سالہ طالب علم کے خاندان کے افراد کو خدشہ تھا کہ وہ کسی جرم کا نشانہ نہ بن گیا ہو تاہم فیملی ارکان کے مطابق شکیل محمد لندن ہاسپٹل سے مل گیا، جہاں وہ محفوظ اور صحت مند ہے۔ انہوں نے شکیل کی تلاش میں مدد دینے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضع رہے گمشدگی کے بعد اسکے بھائی محمد نبیل نے بتایا تھا کہ اس کا بھائی 25 سالہ شکیل محمد 16 مارچ کو ہینویل ویسٹ لندن کے مقامی پارک میں سیر کیلئے گیا تھا اور اس کے بعد سے اسے نہیں دیکھا گیا۔ اس وقت اس کے پاس اپنا فون نہیں تھا اور نہ ہی کوئی رقم تھی۔

شکیل محمد بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور وہ حال ہی میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے پاکستان سے لندن منتقل ہوا تھا۔ موٹرسائیکل کے ایک پچھلے حادثے کی وجہ سے وہ ذرا سا لنگڑا کر چلتا ہے۔
گمشدگی کے وقت اسکے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اس طرح لاپتہ ہونا اس کے کیریکٹر کا حصہ نہیں ہے، ہماری تشویش ہے کہ اس کے ساتھ واقعی کوئی خوفناک واقعہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس کی ٹانگ کی سرجری ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اس کے حادثات اور گرنے کا زیادہ خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دبلا پتلا ہے اور بہت کم کھاتا ہے اور اس سرد موسم میں کھائے پئے بغیر اس کے کچھ دن تک زندہ رہنے کا امکان نہیں۔

پولیس نے مستعدی کیساتھ اسکی تلاش جاری رکھی اور بالآخر اسے ڈھونڈ نکالا۔

50% LikesVS
50% Dislikes