جموں کشمیرکے باسیوں کوباشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پرآزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دی جائے؛ کشمیرکانفرنس – Kashmir Link London

جموں کشمیرکے باسیوں کوباشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پرآزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دی جائے؛ کشمیرکانفرنس

لندن (کشمیر لنک نیوز) ریاست جموں کشمیر ایک نا قابل تقسیم وحدت ہے۔ ریاست کی تقسیم کی سازش کے خلاف اندرون ریاست اور دنیا بھر میں بھرپور احتجاج گیا جائے گا۔ اور اسکے وحدت کی بقا کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ دو کڑور نفوس پر مشتمل ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف پشتنی باشندگان ریاست کے پاس ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دیگر مسائل میں مسلہ کشمیر کی جداگانه اور عالمی حیثیت ہے۔ اس لیئے اسے دیگر مسائل میں سرفہرست رکھا جائے سیز فائر کو ویلکم کرتے ہیں۔ اور امن کے متمنی ہیں لیکن کوئی بھی حل جس میں ریاست کے عوام کی جمہوری رائے شامل نہیں ہو گی نا قابل قبول ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے زیر اہتمام آن لائن انٹرنیشنل کشمیر کانفرس میں کیا گیا۔ کانفرس میں ریاست جموں کشمیر کی مختلف اکائیوں سیمت دنیا بھر میں بسنے والے نمائیندہ کشمیری سیاسی و سماجی رہنماوں نے شرکت کی کانفرس کا انعقاد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ نے کیا صدارت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے کنوینر یوسف چوہدری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سیکرٹری کنویننگ کمیٹی برطانیہ تنویر ملک اور سابق جنرل سیکرٹری برطانیہ زون لیاقت لون نے مشترکہ طور پر کی۔ انٹرنیشنل کشمیر کانفرس کوڈ19 کی وجہ سے آن لائن (زوم) منعقد کی گئی ۔ جس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سفارتی بیورو کے سربراہ پروفیسر ظفر خان، سابق صدر برطانیہ زون صابر گل، ڈاکٹر سید نذیر گیلانی ( لنڈن )ڈاکٹر اخلاق برلاس(امریکہ) ، حنیف الرحمن مقدم(گلگت) ، مشتاق ملک، طارق شریف، شوکت مقبول بٹ ( یو کے) ناصر وضا میر ( فن لینڈ) روف لون ( جموں) کلیئر بڈویل(Let KashmiriDecide)، ڈاکٹر شاہین شورا(ایسوسی ایشن آف برٹش کشمیری UK )، اورنگزیب چوہدری ( یو کے) ، سردار نسیم اقبال ایڈووکیٹ، ڈاکٹر شفاق(ایسوسی ایشن آف برٹش کشمیری UK)،، ارشاد ملک ( لنڈن)نجیب افسر ( برمنگھم )سردار انور خان (امریکہ)، شمائیلہ راجہ( ہالینڈ)، ظفر قریشی ( لیوٹن یو کے) ، مشتاق پاشا(کنوینر JKLF یورپ، فرانس)، اور عبدلمجید بٹ(قطر) نے خطاب کیا جبکہ صنور حسین مشتاق ملک، سردار ساجد خان، اعجاز ملک، یاسر نوید، ذوالقرنین، حفیظ خان، گلفراز خان، راسب کشمیری، لطیف ملک، ڈاکٹر اشتیاق، خرم اتفاق ، سردار جمیل، عبدالرحیم ملک(چیرمین JKSLF) ، سردار قمر اسلم( کنوینر JKLF متحدہ عرب امارات) اور محمود حسین نے آن لائن کانفرنس میں شرکت کی۔

آن لائن زوم کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ منقسم ریاست جموں کشمیر ایک نا قابل تقسیم وحدت ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ریاستی عوام کے پاس ہے۔ کوئی ایک علاقائی اسمبلی یا انڈیا و پاکستان کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ فیصلہ کشمیری عوام کبھی تسلیم کریں گے۔ سیز فائر لائن پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیاں فائر بندی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سیز فائر لائن کو اسلحہ فری زون قرار دیتے ہوئے ہر طرح کے اسلحہ کے استعمال پر پابندی لگائی جائے ۔ ریاست کے تمام حصوں کے باسیوں کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے تاکہ عوامی سطح پر میل ملاپ سے سماجی تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔

مقررین نے ہندوستان کی طرف سے 5 اگست 2019 کے اقدامات اور ان سے رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کی۔ بھارتی حکومت کے اقدامات پر حکومت پاکستان کی مبہم پالیسی پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔کہ پاکستان اور ہندوستان تقسیم کشمیر کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے نظر آ رہے ہیں پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوششیں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں ۔ مقررین نے واضع کیا کہ اگر اس طرح کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسکے خلاف ریاست کے اندر اور باہر ہر محاذ پر آواز بلند کی جائے گی۔
ریاست کے پر امن اور مستقل حل کے لئے ریاستی عوام سے کئے گئے وعدے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیری عوام کو حق خواردیت دیا جائے تاکہ وہ ایک جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں ۔

شرکا کانفرس نے بھارت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر میں غیر ریاستی افراد کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے اجرا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی ایک سازش قرار دیا اور اقوام عالم سے مطالبہ کیا کی وہ بھارت کو اسرائیلی طرز کے منصوبہ پر عمل کرنے سے روکے ۔ اس سے نہ صرف ریاستی وسائل پر قبضہ جمایا جا رہا ہے بلکہ وہاں کے پشتنی باشندوں کو بھی در بدر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی غیر ریاستی عوام کی آباد کاری اور انہیں زمینوں کی خرید و فروخت سے گلگت بلتستان کے وسائل چوری ہو رہے ہیں ۔ کانفرس میں مطالبہ کیا گیا کہ پوری منقسم ریاست جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان میں باشندہ ریاست قانون 1927 کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ غیر ریاستی افراد کی آباد کاری روکی جائے۔ آزاد کسمیر گلگت بلتستان اور بیرون ممالک آباد کشمیریوں پر مشتمل ایک نمائیندہ عوامی انقلابی حکومت قائم کی جائے۔ آزاد کشمیر اور گلگت کے درمیاں قدیمی راستوں کو بحال کیا جائے ۔ منقسم ریاست کے تمام حصوں کے باسیوں کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پر نقل و حرکت اور آپس میں ملنے کا موقع دیا جائے ۔ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قید جملہ آزادی پسند سیاسی اسیران کو غیر مشروط رہا کیا جائے ۔ منقسم ریاست کے تمام حصوں کے مابین ایک نیا عمرانی معائدہ کیا جائے۔ اور ریاست کے پر امن اور دیرپا حل کے لئے ریاست سے دونوں ممالک اپنی افواج کے انخلا کا ٹائم ٹیبل دیں تاکہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ریفرینڈم کا انعقاد کیا جائے تاکہ ریاستی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ پر امن جمہوری عمل کے ذریعے کر سکیں ۔

کانفرس میں شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان نے ریاست جموں کشمیر کی بندر بانٹ کرنے کی کوشش کی تو دنیا بھر میں پھیلے باشندگان ریاست جموں کشمیر۔ پاکستانی اور ہندوستانی سفارتخانوں کے سامنے شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
کانفرس میں موجود تمام شرکا نے باہمی مفاہمت اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے مشترکہ ایجنڈا بالخصوص تقسیم کشمیر کے خلاف اور غیر مشروط حق خودارادیت کو اپنانے پر زور دیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes