قرنطینہ میں مسلمان مسافروں کو سہولیات کی عدم فراہمی پر برطانوی عدالت کا فوری ایکشن – Kashmir Link London

قرنطینہ میں مسلمان مسافروں کو سہولیات کی عدم فراہمی پر برطانوی عدالت کا فوری ایکشن

لندن (عمران راجہ) لندن ہائی کورٹ کے دو ججوں نے ہوٹل میں قرنطینہ کرنے والے پاکستانیوں کو مناسب سہولتوں کی عدم فراہمی پر تنقید کی ہے اور بڑے کمرے، مناسب غذا کی فراہمی اور ورزش کے لیے کمرے سے باہر جانے کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے۔ خیال رہے کہ ہالیڈے ان ایکسپریس میں نامساعد حالت میں رہنے والے پاکستانیوں کا معاملہ بیرسٹر زہاب جمالی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق کچھ فیمیلیز نے یہ شکائت بھی کی کہ ہوٹل انتظامیہ نے علم ہونے کے باوجود کہ مسافر مسلمان ہیں انہیں ناشتے میں سور کا گوشت دیا گیا۔

بیرسٹر جمالی کے مطابق پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کے سبب برطانیہ آنے والوں کو 10 دن حکومت کے منظور شدہ ہوٹلوں میں قیام کرنا پڑ رہا ہے، ہوٹل میں قیام کرنے والوں کو چھوٹےگندے کمروں، نامناسب غذا اور ناقص سروس جیسے مسائل درپیش ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روزہ داروں کو روزہ کھولنےکیلئے حرام اشیا فراہم کی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ کے دو جج قرنطینہ کرنے والوں کو مناسب سہولتوں کی فراہمی کے احکامات جاری کرچکے ہیں، پہلا آرڈر جسٹس مسز لینگ ڈی بی ای نے 16 اپریل کو دیا اور دو دن میں آپ ڈیٹ مانگا تھا، دوسرا آرڈر 19 اپریل کو جسٹس ہینشا نے دیا اور نوٹ کیا کہ گزشتہ حکم پر عمل نہیں ہوا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes