برطانوی فیشن میگزین میں انٹرویو پر ملالہ کے چرچے، شوبز سٹار خوش مگر عوام ناراض کیوں ؟ – Kashmir Link London

برطانوی فیشن میگزین میں انٹرویو پر ملالہ کے چرچے، شوبز سٹار خوش مگر عوام ناراض کیوں ؟

لندن (مونا بیگ) برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ تعلیمی و سماجی رہنما ملالہ یوسف زئی برطانوی فیشن میگزین ووگ کے سرورق کی زینت بن گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملالہ یوسف زئی رواں سال جولائی میں آنے والے برطانوی فیشن میگزین ووگ کے شمارے کے سرورق پر نظر آئیں گی۔ اس حوالے سے ملالہ نے برطانوی فیشن میگزین ووگ کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے لباس سے متعلق کہا کہ ’یہ ہمارے پشتون کلچر کی پہچان ہے اور اس لباس سے معلوم ہوتا ہے کہ میرا تعلق کہاں سے ہے۔‘

ملالہ نے کہا کہ ’جب ہم پشتون یا پاکستانی لڑکیاں اپنے ثقافتی لباس پہنتے ہیں تو ہمیں مظلوم سمجھا جاتا ہے لہٰذا میں ہر ایک کو بتانا چاہتی ہوں کہ آپ اپنی ثقافت اور کلچر کے اندر بھی خود کی آواز بن سکتے ہیں۔‘ دوسری جانب ملالہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ ایک نوجوان لڑکی جس کا کوئی نظریہ اور مشن ہو اُس کے دل میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔‘

ملالہ نے لکھا کہ ’اور مجھے امید ہے کہ ہر وہ لڑکی جو اس کور کو دیکھے گی اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ دنیا کو تبدیل کر سکتی ہے۔‘

پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے ملالہ یوسف زئی کے برطانوی جریدے ووگ کے سرورق کی زینت بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کی پوسٹ کو ماہرہ خان نے ری ٹوئٹ کیا، اور یہ کہتے ہوئے حوصلہ افزائی کی کہ آپ نے بالکل درست کہا۔

معروف پاکستانی اداکارہ ارمینا خان بھی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ تعلیمی و سماجی رہنما ملالہ یوسف زئی کو برطانوی فیشن میگزین ووگ کے سر ورق پر دیکھ کر خوش ہوگئیں۔ انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری پر فیشن میگزین ووگ کے سرورق کا اسکرین شاٹ شیئر کیا جس پر ملالہ یوسف زئی کی تصویر آویزاں ہے، اور ساتھ ہی لکھا “ملالہ یہ بہت اچھا ہے”

ایک طرف جہاں سب اچھا اچھا چل رہا تھا وہیں انکے انٹرویو کے کچھ حصے کو متنازعہ بنادیا گیا۔ ووگ میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چاہیے تو آپ شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں کرتے ہیں، یہ ایک پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو سکتی۔

اسکے جواب میں ملالہ نے تو کچھ نہیں کہا البتہ انکے والد ضیا الدین یوسفزئی کی وضاحت سامنے آئی ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ “ایسی کوئی بات نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے ان کے انٹرویو کے اقتباس کو سیاق و سباق سے نکال کر اور تبدیل کر کے اپنی تاویلات کے ساتھ شئیر کیا ہے۔ اور بس”۔

50% LikesVS
50% Dislikes