جی سیون سمٹ کے موقع پر اوورسیز برٹش کمیونیٹیز کا فلسطینیوں اور کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے مارچ – Kashmir Link London

جی سیون سمٹ کے موقع پر اوورسیز برٹش کمیونیٹیز کا فلسطینیوں اور کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے مارچ

لندن (عمران راجہ) تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی کی زیر قیادت برٹش کشمیریوں کا جی سیون سمٹ کے باہر دیگر برطانوی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ بھارت کا کشمیر پر ناجائز قبضہ کے خلاف احتجاجی مارچ منعقد کیا گیا۔ مظاہرین نے تین دن کا قیام کیا اورہر روز بھارت کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرےکیے ۔کشمیر مارچ کے مظاہرین نے بھارت کی کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کےخلاف پلے کار ڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور جی سیون سمٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے تقریبا دومیل کا سفر طے کیا ۔

برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ مناظر دیکھنے کو ملے کہ کشمیر مارچ میں بڑی تعداد میں انگریز مرد اور خواتین نے شرکت کی اور انگریز خاتون نے کشمیر کی آزادی اوربھارت کے کشمیر میں مظالم کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی ۔ اس کشمیر احتجاجی مظاہرہ کے ذریعے جی سیون ممالک کے سربراہان تک مظلوم کشمیریوں کی آواز پہنچانے کے ساتھ ساتھ برطانوی تنظیموں تک کشمیر کےمتعلقہ آگاہی پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہو ئے کہا عالمی طاقتوں کی کشمیر میں بہتےہوئےخون پر خاموشی مجرمانہ ہے اور یہ پیغام دیا کہ کشمیر ی اپنے پیدا ئشی اورجائز حق حق خودارادیت کے مطالبہ سے کسی صورت دستبر دار نہیں ہوں گے۔

تحریک کشمیر کے مرکزی ذمہ داران تنویر اکمل ، خواجہ سلیمان، راجہ آزاد ، چوہدی محمد شریف ، شکیل خان ، عارف کیانی، چوہدری محمد یوسف ، چوہدری محمد رمضان، چوہدری زاہد اقبال، اعظم فاروق، صادق کھوکھر ، ریخان علی اقدس مغل اور دیگر قائدین نے مطالبہ کیا کہ جب تک بھارت اقوام متحدہ کی کشمیرپر قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرتا بھارت کے خلاف معاشی پا بندیاں لگائی جائیں۔

علاوہ ازیںجی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر برطانیہ کے ساحلی علاقے میں کاربس میں سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں اور کشمیریوں سے اظہار یک جہتی مارچ کیا۔ہیلے کی گلیوں میں مارچ کرنے والوں نے عالمی عدم مساوات کے خلاف اور فلسطینیوں اور کشمیریوں کی موجودہ صورت حال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور جھنڈے بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ اس احتجاج کااہتمام سول سوسائٹی تنظیموں نے کیا تھا۔

مظاہرے میں شامل ٹریڈ یونین کے آرگنائزر جیسکا والش نے کہا کہ اسے بین الاقوامی یکجہتی کا دن کہا جاتا ہے۔ اس لیے ہم اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم کشمیریوں کے حق میں بھی احتجاج کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کی کارکن نیلہ شان نے کہا کہ میں آج یہاں کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کو بیان کرنے کے لیے آئی ہوں۔ خاص طور پر اسرائیل میں کیا ہو رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تعلق سے عالمی برادری اور قائدین کچھ اقدام کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes