کشمیری سات دہائیوں سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بھارت کے سامنے کھڑے ہیں؛بیرسٹر مجید ترمبو – Kashmir Link London

کشمیری سات دہائیوں سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بھارت کے سامنے کھڑے ہیں؛بیرسٹر مجید ترمبو

لندن(عدیل خان) سینیئر برطانوی سیاستدان اور سابق ممبر یورپی پارلیمنٹ جولی وارڈ نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کبھی محاصرے سے باہر نہ نکل سکے بھارت نے انھیں ہمیشہ مشکلات میں گھیرے رکھا انھیں آزادی میسر ہی نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک آن لائن سیمینار میں کیا جسکا اہتمام آرگنائزیشن آف کشمیر کولیشن نے کیا تھا۔ دیگر مقررین میں پروفیسر فرینک شوابے ہوتھ، پروفیسر جوزف رونکا، بیرسٹر مجید ترمبو، پروفیسر نذیر شال، ڈاکٹر اشتیاق احمد، ایمبیسڈر عارف کمال اور کلئیر بڈ ول شامل تھیں۔

ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلائے تاکہ انسانیت کا احترام ہو بھارت نے جس طرح ظلم کیا وہ ایک تاریخ ہےجس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا ہو گا ہمیں چا ہئے کہ کشمیریوں کو بھارت کے چنگل سے آزادی دلائیں بالخصوص کوویڈ 19کی وبا میںجس طرح بھارت نے بنیادی حقوق چھینےوہ ناقابل برداشت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت انصاف کے حق میں کھڑے ہونے کا ہے ہمیں کشمیریوں کو حق دلانا ہو گا تاکہ وہ اپنی زندگی اچھے طریقے سے گزار سکیں۔

سابق ممبر آف پارلیمنٹ مسٹر فرینک شوابے کا کہنا تھا کہ یورپین یونین انسانی حقوق کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے اور دنیا میں انصاف اور انسانیت کی بھلائی کے لیے سرگرداں ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو چا ہئے کہ وہ آگے بڑھیں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں کسی ملک خطے ریاست میں انسانیت کے خلاف ظلم برداشت نہیں کیا جا سکتا کشمیری انسان ہیں اور انسانیت کے خلاف کارروائی کرنے والے اپنا محاسبہ کریں۔ برسلز میں مسئلہ کشمیر پر جہاں کشمیر سنٹر نے بھارت کو بے نقاب کیا وہاں برسٹر مجید ترمبو کی کاؤشیں قابل قدر اور حوصلہ افزاء رہیں جنھوں نے ممبران پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر پر اکٹھا کیا اور کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

پروفیسر نذیر شال نے کہا کہ بھارت کے ظلم و تشدد سے پوری دنیا آگاہ ہے لیکن یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کورونا وائرس کے دوران لاتعداد کشمیری ہلاک ہوۓ جنھیں ادویات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی طبی سہولیات دی جاتیں ہیں بھارت کا تشدد قتل و غارت تو جاری ہے لیکن کوویڈ میں عوام کو تڑپتا دیکھنا بھی بھارت ہی کا کام ہے جس کے نزدیک انسانیت کی قدر ہی نہیں عوام کوویڈ ویکسین سے محروم کر دیا گیا ۔معروف کشمیری راہنماء اشرف صحرائی کو بروقت طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس سے ان کا انتقال ہو گیا بھارت کو انسانیت کا علم ہی نہیں وہ دراصل انسانیت کا دشمن ہے۔

اس موقع پر ایمبیسڈر عارف کمال، ڈاکٹر اشتیاق اور معروف ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کی نمائندہ مس کلیئر نے بھی خطاب کرتے ہوئے بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔

یو این کے مستقل نمائندے اور تنظیم کے آرگنائزر بیرسٹرعبدالمجیدترمبو نے کہا کہ بھارت کا مقصد کشمیریوں کی نسل کشی اور کشمیر کے ٹکڑے کرنا ہے تاکہ کشمیر نام ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاۓ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے 35A اور 375 کا ڈرامہ رچایا لیکن کشمیری سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند بھارت کے سامنے کھڑے اور خالی ہاتھ بھارتی درندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں آج کے دن سے دنیا بھر میںOKC کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہر ملک میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائےگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes