شخصیات کی بے حرمتی پر سزا کے بل پر بحث کے دوران ناز شاہ کا پارلیمنٹ میں تاریخ ساز خطاب – Kashmir Link London

شخصیات کی بے حرمتی پر سزا کے بل پر بحث کے دوران ناز شاہ کا پارلیمنٹ میں تاریخ ساز خطاب

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانیہ میں تاریخی مسجموں کے بے حرمتی کی سزا مقرر کرنے کے ایک بل پر پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث کے دوران برتژ کشمیری ممبر پارلیمنٹ ناز شاہ کی تقریر کو کمیونٹی میں بڑے پیمانے پر سراہا جارہا ہے۔ واضع رہے حال ہی میں بلیک لائیوز میٹر کی مہم کے دوران کافی سارے تاریخی مجسموں کی بے حرمتی کی گئی جس کے تدارک کے لئے برطانوی پارلیمنٹ میں بل پیش کیا گیا کہ ان مجسموں کی بے حرمتی کو کو جرم قرار دیا جائے. اس جرم کی سزا حیران کن طور پر دس سال تجویز کی گئی ہے کیونکہ اس توہین سے قوم کی تاریخی، سماجی اور ثقافتی اقدار مسخ ہوتی ہیں اور ان کو جذباتی صدمے سے گزرنا پڑتا ہے۔

بریڈ فورڈ سے لیبر ایم پی ناز شاہ نے پولیس کے جرم و سزا کے قانون پر بحث کے دوران نکتہ اٹھایا کہ جس طرح تاریخی مجسموں کی بے حرمتی پر آج اقدام اٹھایا جارہا ہے اسی طرح دنیا بھر کے مسلمان اپنے پیارے نبی کے خاکوں والی بےحرمتی گوارہ نہیں کرسکتے۔ ناز شاہ نے زور دیا ہے کہ یہی وہ مؤقف ہے جو دیگر دنیا کو نبی کریم صل اللہ علیہ والسلم کے بارے میں سمجھنا چاہیے. اگر سنگ و خشت اورفولاد سے بنے مجسموں کی بے حرمتی ایک جرم ہے تو دنیا کے اربوں مسلمان جب دریدہ دہنی اور گستاخی کے بارے میں معترض ہوتے ہیں تو ان کے جذبات کو بھی سمجھا جانا چاہیے. دو ارب مسلمانوں کے لئے محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس سے بڑھ کر کوئی ذات نہیں، تبھی وہ کارٹون نہیں بنائے جاسکتے جنہیں آزادی اظہار کے پیرائے لپیٹا جاتا ہے۔

انہوں نے پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ مسلمانوں کے جذبات پر بھی غور کرے اور وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور کتنی قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم برطانیہ جیسی لبرل جمہوریت میں اس ڈھونگ کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ایسے حالات میں ان کے احساسات پر غور نہ کرے جب آج ایک ہی وقت میں یادگاری جذبات کو اہمیت دیتے ہوئے مجسموں کی حفاظت کیلئے پارلیمنٹ میں قانون پاس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے میں اور اس ملک کے لاکھوں مسلمانوں اور دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ، جو مسلمان ہے، جو ہر دن اور ہر لمحہ کیلئے دنیا میں ایک بھی ایسی چیز نہیں ہے جس کو ہم اپنے انتہائی محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ فوقیت اور عزت دیں اور تعظیم کریں لیکن جب متعصب اور نسل پرست ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز کلمات استعمال کرتے ہیں یا کچھ لوگوں کی طرح، جیسا کہ وہ چرچل کی طرح کرتے ہیں تو اس سے ہمارے دلوں کو جو جذباتی نقصان پہنچتا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ کیونکہ 2 ارب مسلمانوں کیلئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے رہنما ہیں، جو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں اور ہماری شناخت اور وجود کی بنیاد ہیں۔

ناز شاہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں معروف ڈرامہ نگار برنارڈ شا کا حوالہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کرہ ارض پر قدم رکھنے والی انتہائی قابل قدر شخصیت ہیں۔ ناز شاہ نے مزید کہا کہ ان لوگوں کیلئے جو کہ کہتے ہیں کہ یہ تو صرف خاکے ہیں تو پھر میں یہ کیوں نہ کہوں کہ یہ تو صرف مجسمے ہیں، کیونکہ میں برطانوی احساسات کی مضبوطی کو سمجھتی ہوں جب یہ ہماری تاریخ، ہماری ثقافت اور ہماری شناخت کے حوالے سے ہوں۔ یہ صرف خاکے نہیں ہیں، یہ صرف مجسمے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بطور انسان ہمارے لئے علامت، زیادہ نمائندگی اور مطلب رکھتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes