مختلف جرائم میں سزا اور پابندیاں بگھتنے کے بعد مسلمان انتہا پسند رہنما انجم چوہدری آزاد ہوگئے – Kashmir Link London

مختلف جرائم میں سزا اور پابندیاں بگھتنے کے بعد مسلمان انتہا پسند رہنما انجم چوہدری آزاد ہوگئے

لندن (کشمیر لنک لندن) مختلف مقدمات میں سزا بگھتنے کے بعد 2018 میں رہائی اور پھر زبان بندی و نقل و حرکت کی پابندیوں کا عرصہ مکمل کرنے کے بعد بالاآخر مسلم انتہا پسند مبلغ انجم چوہدری کو آزادی کا پروانہ مل گیا۔

واضع رہے انجم چوہدری کو دہشت گرد گروپ داعش کی حمایت کی ترغیب دینے کے الزام میں5سال قبل ساڑھے 5سال قید کی سزا دی گئ تھی اور اپنی سزا پوری کرنے کے بعد 2018میں انھیں بلمارش جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

رہائی کے بعد ان پر عائد پابندیوں میں عام مقامات پر بات یا تقریر کرنے پر پابندی عائد تھی ان کو انٹرنیٹ اور موبائل فون استعمال کرنے کی بھی ممانعت تھی، انھیں ایسے لوگوں سے بلا اجازت رابطہ رکھنے کی بھی ممانعت تھی جن پر انتہاپسندی کا شبہ ہو۔ ان کو ایک الیکٹرانک ٹیگ پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا رات کو ان کے باہر نکلنے پا پابندی عائد تھی اور انھیں صرف پہلے سے منظور شدہ مساجد ہی میں جانے کی اجازت سمیت دیگر پابندیاں شامل تھیں۔

دیگر اقدامات میں ان کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جانا شامل ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر سفر کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور ان کے اثاثے منجمد کردیئے گئے تھے۔ انجم چوہدری کا شمار پہلے کالعدم المہاجرون گروپ کے نمایاں رہنمائوں میں ہوتا تھا، 5 بچوں کے باپ انجم چوہدری 1990 سے المہاجرون کے معروف رہنمائوں میں شامل رہے، جو مختلف ناموں سے کام کرتی رہی تھی۔

گزشتہ 20 سال کے دوران وہ شرعی قوانین کے حوالے سے بھی متنازعہ بیانات دیتے رہے تھے اور انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ہزاروں فالوورز بنالئے تھے اور پوری دنیا میں وہ لیکچر دینے کے علاوہ مظاہرے بھی کرتے رہے تھے انکے بڑے مطالبات میں برطانیہ میں شریعت کا نفاذ بھی شامل ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes