پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کا برطانوی فیصلہ سراسر متعصبانہ ہے: یوکے پاکستان بزنس کونسل – Kashmir Link London

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کا برطانوی فیصلہ سراسر متعصبانہ ہے: یوکے پاکستان بزنس کونسل

لندن (کشمیر لنک نیوز) صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کیساتھ متعصبانہ رویہ رکھا جاتا ہے، برطانیہ کا حالیہ ریویو میں پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نہ نکالنا اسکی واضع مثال ہے۔ یہ فیصلہ ہزاروں برطانوی پاکستانیوں کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ ڈیٹا فراہم کرنے کے باوجود پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ مساوات اور ٹریول لسٹ کے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔

ان خیالات کا اظہار شرکا نے یوکے پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا جسکا مقصد پاکستان کو ریڈلسٹ سے نا نکالے جانے کے اسباب پر غور کرنا اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ اس پریس کانفرنس میں وزیر اعظم پاکستان کے ایڈوائزر اوورسیز انوسٹمنٹ صاحبزادہ جہانگیر اور انٹرنیشنل لائیرز فیڈریشن کے صدر بیرسٹر راشد اسلم کے علاوہ یوکے پاکستان بزنس کونسل کے نمائیندگان مظفر چوہدری اور عبداللہ گجر نے میڈیا سے گفتگو کی۔


مرتضیٰ علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کو کوروناوائرس کے جینومک نگرانی کی صلاحیت، پھیلائو کے خدشات اور اس کی اقسام سے متعلق خدشات کی شرائط پوری نہ کرنے کی بنا پر ریڈ لسٹ میں رکھا گیا ہے، حکومت پاکستان کو اپنی کوتاہی کا تدارک کرنا ہوگا ورنہ یہ دورانیہ مزید طویل ہوسکتا ہے۔

صاحبزادہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ معاملے کی حساسیت کو جانتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خود برطانوی وزیر اعظم سے بات کی اور انہیں تمام اقدامات سے آگاہ کیا جسکے تحت پاکستان میں اس کورونا وبا کو وسیع پیمانے پر پھیلنے سے روکا گیا۔ انہوں نے درخواست بھی کی کہ بہتر حالات کی وجہ سے پاکستان کی ایمبر لسٹ میں ڈال دیا جائے تاکہ ہزاروں پاکستان جو وطن سمیت مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں انکی زندگی میں آسانی آئے۔ ادھر پاکستان ہائی کمیشن نے بھی اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیئے اور حکام سے مسلسل رابطے میں رہے جبکہ ممبران پارلیمنٹ نے بھی حکومت برطانیہ کو پاکستان کی ہمسایہ ملک سے بہتر پوزیشن سے آگاہ کیا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ برطانیہ نے پاکستان کی ساتھ تعصب برتا ہے۔
معروف قانون دان بیرسٹر راشد اسلم کا کہنا تھا کہ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیئے، ہم سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ درست اعداد و شمار کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا یہ حقیقت ہے کہ برطانیہ کو جو ڈیٹا درکار تھا وہ مخصوص اعداد و شمار اور طریقہ کار ہم نہیں اپنا سکے جسکی وجہ سے عوام کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بزنس کونسل کے مظفر چوہدری اور عبداللہ گجر کا کہنا تھا کہ پاکستان محض انسانی ہمدردی کی بات نہیں کررہا تھا بلکہ اعداد و شمار روزانہ کی بنیاد پر حکومت برطانیہ سے شیئر کررہا تھا اور ایک وقت پر قوی امید بھی پیدا ہوگئی تھی کہ ہم ریڈ لسٹ سے نکل جائیں گے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے ہماری مخالف لابی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا آج ہونے والی گفتگو کی روشنی میں یوکے پاکستان بزنس کونسل ایک جامع رپورٹ حکومت پاکستان کو بذریعہ صاحبزادہ جہانگیر پیش کرے گا جس میں کمی اور کوتاہی کے پہلو بھی مدنظر رکھے جائیں گے تاکہ آئیندہ تین ہفتوں کے بعد آنے والے ریویو میں ایسی غلطیوں سے بچا جاسکے جنکی وجہ سے بہتر صورتحال ہونے کے باوجود ہم ریڈ لسٹ سے نہ نکل سکے۔ آخر میں بزنس کونسل کی جانب سے عطا الحق نے شرکا کا شریہ ادا کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes