لندن کے متنازع ایون فیلڈ فلیٹس سے متعلق نئے حقائق سامنے لانے کیلئے مریم نواز کا عدالت سے رابطہ – Kashmir Link London

لندن کے متنازع ایون فیلڈ فلیٹس سے متعلق نئے حقائق سامنے لانے کیلئے مریم نواز کا عدالت سے رابطہ

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانوی دارالحکومت لندن میں موجود شریف برادران کی ایون فیلڈ ہائوس والی جائیدادوں کے بارے میں کچھ حقائق عدالت کے سامنے لانے کیلئے نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواش نے عدالت سے کچھ مہلت مانگی ہے، درخواست میں انکا کہنا تھا کہ میرٹ پر کیس سننےسے پہلے ایک درخواست دیناچاہتی ہوں، درخواست پورا کچا چٹھا کھول دے گی، پتہ چل جائے گا کہ کیس کیوں بنایا اورپیچھے کون تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ ایک پٹیشن کے ذریعے مزید کچھ حقائق عدالت کے سامنے لانا چاہتی ہوں، سزا کیخلاف اپیل کے میرٹ پر دلائل سے قبل اس پٹیشن کو سنا جائے۔ اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ آپ کا حق ہے کہ آپ اپنی مرضی سے وکیل مقرر یا کوئی درخواست دائر کریں۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

مریم نواز نے روسٹرم پر آ کر بتایا کہ ان کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بیماری کے باعث کیس میں مزید وکالت سے معذرت کر لی ہے، نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو ہونے والی سزا کے خلاف اپیل میں وکیل تبدیل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں مریم نے کہا کہ میرٹ پر کیس سننےسے پہلے ایک درخواست دیناچاہتی ہوں، درخواست پورا کچا چٹھا کھول دے گی، پتہ چل جائے گا کہ کیس کیوں بنایا اورپیچھے کون تھا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ناکام ہوچکی ہے۔

خیال رہے کہ 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو سنائی گئی سزا معطل کرتے ہوئے تینوں کی رہائی کا حکم دیا جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو7 سال قید اور جرمانے اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes