مشرقی لندن میں قتل ہونے والی نوجوان مسلمان ٹیچر سبینا نسا کی یاد میں دعائیہ تقریب کا انعقاد – Kashmir Link London

مشرقی لندن میں قتل ہونے والی نوجوان مسلمان ٹیچر سبینا نسا کی یاد میں دعائیہ تقریب کا انعقاد

لندن (اکرم عابد) مشرقی لندن میں قتل ہونے والی جونوان مسلامن ٹیچر سبینا نسا کی یاد میں ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے افراد نے شرکت کی۔ یار رہے نسا پر چند روز قبل حملہ اس وقت ہوا جب وہ جمعہ کی شب مقمی وقت ساڑھے آٹھ بجے ایسٹل روڈ پر واقع گھر سے کڈبروک ویلج سائوتھ ایسٹ لندن میں ڈپو بار کی طرف پیدل جا رہی تھی۔ اسکی لاش اگلے روز راہگیروں نے دریافت کی اور پولیس کو اطلاع کی۔

سبینا نسا کی یاد میں وجل میں تفتیشی انسپکٹر جو گریٹی نے کہاکہ سبینا کے سفر کو مکمل ہونے میں صرف پانچ منٹ لگتے لیکن افسوس کہ وہ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انویسٹی گیشن میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمارےا سپیشلسٹ آفیسرز کرائم سین پر بدستور موجود ہیں اور وہ زبردست انکوائریز اور سرچ کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ سبینا کے اس افسوس ناک قتل سے کمیونٹی کو یقینی طور پر دھچکہ لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قتل کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کیلئے ہر ممکن دستیاب وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔

مرحومہ کے کزن روبل احمد نے کہا کہ وہ خوبصوت شخصیت کی مالکہ تھی۔ انہوں نے اپیل کی کہ ٹیچرکے اس خوفناک اور دہلا دینے والے قتل کے ذمہ داروں کا پتہ لگانے کی کوششوں میں مدد کی جائے۔ مس سبینا کے والدین اس کی اندوہناک موت سے انتہائی صدمے سے دوچار ہیں، انہیں یہ سن کر زبردست دھچکا لگا ہے کہ ان کی بیٹی کو کسی ظالم انسان نے چھین لیا ہے۔ زوبل احمد کا کہنا تھا کہ میری کزن انتہائی کیئرنگ اور دل کش شخصیت کی مالکہ تھی اور ملاقات کرنے والا ہر فرد اس سے متاثر ہوتا تھا ۔ وہ دو سال سے ٹیچنگ کا کام کر رہی تھی۔ اسے ٹیچنگ سے محبت تھی وہ بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔

سبینا کے قتل کے بعد ایک کمیونٹی گروپ نے انفارمیشن شیٹس تقسیم کی ہیں، جس میں خواتین کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کس طرح رات میں خود کو محفوظ رکھیں۔اس ہینڈ آئوٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ راہگیر زیادہ روشنی والے مصروف ترین مقامات پر رہیں۔ رائل گرینچ سیفر سپیسز ٹیم خواتین کو پرسنل الارم تقسیم کر رہی ہے۔ بارو نے 200 الارم خواتین اور کمزور ریذیڈنٹس خصوصاً کڈبروک ایریا میں گزشتہ دو روز میں تقسیم کئے ہیں۔ میٹ پولیس ویب سائٹ سے شیٹ پر پرنٹ کی گئی ایڈوائس میں یہ تجاویز بھی شامل ہیں کہ راہگیروں کا رخ ٹریفک کے سامنے ہوناچاہیے اور ان کی جیولری چھپی ہوئی ہونی چاہیے۔

میٹ پویس کا کہنا ہے کہ اس کی موت کا سبب جاننے کیلئے لاش کا پوسٹ مارٹم ایگزامینیشن نتیجہ خیز نہیں رہا۔ میٹ پولیس نےکہا کہ قتل کے شبہ میں گرفتار 40 سال شخص کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ آفیسرز نے کسی بھی ممکنہ عینی شاہد سے اپیل کی ہے کہ وہ قتل کی انویسٹی گیشن میں مدد کیلئے انہیں معلومات فراہم کرے۔

50% LikesVS
50% Dislikes