کشمیریوں پر ہونے والے مظالم دنیا پر آشکار کرنے کیلئے ٹھوس شواہد پر مبنی ڈوزئیر کافی ہے؛ شاہ محمود قریشی – Kashmir Link London

کشمیریوں پر ہونے والے مظالم دنیا پر آشکار کرنے کیلئے ٹھوس شواہد پر مبنی ڈوزئیر کافی ہے؛ شاہ محمود قریشی

لندن (عمران راجہ) برطانیہ کے دورے پر آئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی امن کیلئے اور ہمسایوں سے اچھے تعلقات کیلئے جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں دی ہونگیں لیکن افسوس کہ کچھ لوگ ابھی بھی پاکستان کے کردار سے مطمئن نہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی آزادی تک ہم انکی جدوجہد کی اخلاقی حمائت جاری رکھیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہائوس میں کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات سے خطاب اور بعد ازاں برطانوی پارلیمنٹیرینز کے مختلف وفود سے ملاقاتوں میں کیا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کشمیریوں پرمظالم کومنظرعام پرلانےکیلئےکرداراداکرے، جب تک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوتاامن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے پاکستان کی مسلسل اورغیرمتزلزل کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا حکومت پاکستان نےٹھوس شواہد پرمبنی ایک ڈوزیئر مرتب کیا ہے، ڈوزئیرمیں بھارتی فوج کےجنگی جرائم کی تفصیلات شامل ہیں۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر”مباحثے”خوش آئند ہے، مباحثےنےمقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کودنیاکےسامنے بےنقاب کردیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر پر حالیہ مباحثے میں ایک بار پھر بھارتی قابض فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا گیا ۔ انہوں نے برطانوی پاکستانی کمیونٹی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو منظر عام پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر خارجہ نے کشمیری قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان کشمیریوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے حصول تک ان کی مکمل سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

دریں اثنا پاکستان ہائی کمیشن لندن میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ہاؤس آف کامنز سلیکٹ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ ٹام ٹگن ڈاٹ اور ڈیفنس کمیٹی کے سربراہ ٹوبیاس ایلووڈ کی سربراہی میں برطانوی پارلیمنٹیریرینز کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ وزیر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹیرینز کو افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کی سوچ میں ہم آہنگی ہے، دونوں ممالک افغانستان میں قیام امن چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے برطانوی پارلیمنٹیریرینز کو، بھارتی قابض افواج کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم،بدترین محاصرے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ ایک ڈوسئیر کے ذریعے ہم نے ٹھوس شواہد دنیا کے سامنے رکھ دیے ہیں تاکہ وہ خود ان حقائق کو جانچ سکیں۔ پاک برطانیہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ قریبی دوست اور دیرینہ شراکت دار ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاک برطانیہ اسٹریٹیجک شراکت داری کو،آگے بڑھایا جائے اور تعلقات کو اگلے درجے تک لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سالہ جشن کو شاندار طریقے سے منانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes